ویلکم ٹو اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔۔
اس جعلی اور خیراتی حکومت کو عمران خان کی بہنوں کو گرفتار کرنے پر مبارک ہو ۔۔
نوازشریف،شہبازشریف،آصف زرداری کو چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے پر مبارک ہو ۔۔
گلف سٹریم جیٹ والی اور عورت میری ریڈ لائن والی مریم نواز کو عمران خان کی بہنوں کو جیل بھجوانے پر مبارک ہو
نظریہ ضرورت کی تصویر بن کر چپ چاپ سب ظلم و ستم دیکھتی عدلیہ کو مبارک۔۔
کمال منافقت ہے کہ کل تک مریم نواز کی بیٹی کے ہیرے جواہرات پر عوام کے سوال کرنے پر کچھ ن لیگی درباری صحافی لیکچر دے رہے تھے کہ کسی کی بہن بیٹی کے زیور کی بات مت کریں۔
(چاہے وہ ان کے اپنے پیسے سے آیا ہو یا نہیں)
البتہ عمران خان کی بہنوں کو اور انکی جوان اولاد اور 2، 4 سال کہ بچوں سمیت گرفتار کر لیا جائے تو خیر ہے۔
اب ان کو کوئی ٹینشن نہیں۔
پہلی خبر 🚨🚨🚨
عمران خان کی مقبولیت ختم شد
دوسری خبر🚨🚨🚨
ڈی چوک سیل، 3 صوبوں سے پولیس نفری طلب، اٹک پل بند کرنے کا انتظام مکمل، چھاپے، گرفتاریاں، عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی گرفتار
ہاں جی؟ اب علیمہ خان سے بھی ڈر لگنا شروع ہو گیا ہے؟ کمال کے بہادر حکمران ہیں بھئی۔
انہوں نے مردوں سے کیا مقابلہ کرنا ہے جہاں سیاسی حریف کی بہن کو ہی اغوا کرنے پر آ گئے ہیں۔ کمال ہے۔
اپنے سرکاری گلف سٹریم طیارے پر بیٹی کی گریجویشن کیلئے برطانیہ جانے والی مریم نواز نے مسلسل شور مچنے پر بالاخر سرکاری جہاز کے آنے جانے کا خرچہ 2 کروڑ 71 لاکھ 97 ہزار قومی خزانے میں جمع کرا دئیے،اب تین باتیں،پہلی بات،بی بی سی کے مطابق اس طرح کےگلف سٹریم جہاز پر لندن آنے،جانےکا خرچہ بنتا ہے 4 کروڑ 44 لاکھ،طیارے کی تین دن کی پارکنگ فیس اور پائلٹس کے رہنے اور کھانے پینے کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں،اب اگر یہ سچ ہے تو پھر مریم نواز نے کم پیسے کیوں جمع کرائے،دوسری بات،مریم نواز نے ذاتی دورے کیلئے سرکاری جہاز کس قانون کے تحت استعمال کیا،تیسری بات،کیا یہ جہاز اب ہر شخص کرایہ ادا کر کے استعمال کر سکتا ہے ؟
بریکنگ نیوز 🚨🚨🚨
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کر لی , سزا معطلی کی درخواستیں منظور ، دونوں وکلا کو فوری رہا کرنے کا حکم
عمران خان اسپتال منتقلی کیس۔۔🚨🚨🚨
آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے، نظرثانی درخواست میں حکومت نے لکھا ہے کہ نجی اسپتال میں علاج نہیں ہوسکتا، سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جسٹس شاہد وحید
سپریم کورٹ میں عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیس کی سماعت کے دوران اڈیالہ جیل انتظامیہ کی عدم پیشی پر جسٹس شاہد وحید برہم
کیا جیل سپریٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کر دیں؟جسٹس شاہد وحید
اٹارنی جنرل کی افسران کو ایک موقع دینے کی استدعا
جو کچھ آپ آج بو رہے ہیں، کل انشاءﷲ آپ نے کاٹنا ہے۔ یہی قدرت کا اصول ہے۔ ہاتھوں سے لگائی گئی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑیں گی۔۔۔
دل کھول کر ظلم کیجئے لیکن پھر سہنے کیلئے بھی تیار رہیے۔ بےشک اللّه ذرہ برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا۔۔۔
یہ کیسے کیسے احمق بیٹھا دیے ہیں ۔۔۔
عمران خان بھی میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے عدالت آئے تین میں دو قیدی بھی میڈیکل ایمرجنسی لیکر عدالت آئے ہیں
وفاقی آئینی عدالت نے اس میڈیکل ایمرجنسی کا یہ حل نکالا کہ سپریم کورٹ کو بھی مزید سماعت سے روک دیا اور خود بھی آئندہ سماعت کی تاریخ نہیں دی
جسٹس آمین الدین نے وفاقی آئینی عدالت کو انصاف فروشی کا کوٹھا بنا دیا ہے ، آمین الدین اس کے کوٹھے کے دروازے پر کندھے پر صافہ رکھ کر کھڑا ہے
پاکستان میں انصاف و ایمان فروشی کی ایسی شرمناک مثالیں بہت کم قائم ہوئی ہیں
اسلام آباد ہائی کورٹ میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں جسٹس ڈوگر اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے درمیان ہونے والے دلچسپ ریمارکس سنیں تو ہنسی بھی آتی ہے اور عدالتی نظام پر سوال بھی اٹھتے ہیں۔
جسٹس ڈوگر: "آپ وزیراعلیٰ کو روک نہیں سکتے۔"
ایڈووکیٹ جنرل کے پی: "آپ آئین پر عمل نہیں کرا سکتے۔"
جسٹس ڈوگر: "کل ہی آ کر جواب دیں، میرے پاس دو دن کا وقت نہیں۔"
ایڈووکیٹ جنرل: "مجھے دو دن چاہئیں، باقی آپ کی مجبوری سمجھ سکتا ہوں، آپ کو بہت جلدی ہے۔"
جسٹس ڈوگر: "مجھے آئین اور قانون پر عمل کرنا ہے۔"
ایڈووکیٹ جنرل: "آپ کے فیصلوں اور آئینی احکامات پر دو سال سے ایک سپرنٹنڈنٹ عمل نہیں کر رہا، وہ آپ کی نظر میں نہیں آتا؟ وہاں آئین اور قانون بھول گئے؟"
جسٹس ڈوگر: "مجھے قانون کا پتا ہے، میں بھولا نہیں ہوں۔"
ایڈووکیٹ جنرل نے مزید واضح کیا کہ یہ لانگ مارچ اسلام آباد پر حملہ نہیں بلکہ عدالتوں کے حقوق اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے ہے، جبکہ حکومتی ادارے اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی احکامات پر عمل نہیں کر رہے۔
جسٹس ڈوگر: "ہم اسلام آباد کے شہریوں کو تحفظ دیں گے۔"
ایڈووکیٹ جنرل: "پہلے اپنے فیصلوں کو تحفظ تو دیں!"
جسٹس ڈوگر: "کل تک کا وقت دیتا ہوں، آپ کو پتا نہیں تھا؟ ٹی وی پر دیکھتے!"
ایڈووکیٹ جنرل: "میرے پاس فضول وقت نہیں کہ میں ٹی وی دیکھوں۔"
یہ مکالمہ صرف دو افراد کے درمیان بحث نہیں تھا، بلکہ آئین، قانون اور عدالتی احکامات کی عملداری پر ایک بڑا سوال تھا۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے آج جس جرات کے ساتھ آئین اور قانون کی بات کی، اس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر عدالت میں کھڑے ہو کر آئینی مؤقف پر ڈٹ جانا یقیناً قابلِ ذکر ہے۔
عدالتوں کا احترام اپنی جگہ، لیکن عدالتی احکامات پر عملدرآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اگر اپنے ہی فیصلوں پر عمل نہیں ہو سکتا تو پھر عام آدمی انصاف کے لیے کہاں جائے؟
یہ تو آفریدی صاحب اوپر سے آرہے ہیں 😂😂😂
کتنےظالم ہو آپ کے ڈر سے لوگ نہیں مل رہے یہ استادیاں میرے ساتھ نہ کرو جہاں یہ سیکھا ہے میں اس کا پرنسپل رہا ہوں …
سہیل آفریدی کی بھیرہ میں گفتگو
میں اپنا ایک ناقص تجزیہ رکھنا چاہتا ہوں عوام کے سامنے ۔۔🚨🚨
آج کے اشاروں کے بعد ، عمران خان کو رہائی یا سیاست کرنے کا بڑا ریلیف دینے کا سرے سے کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ۔۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران کے لیے غیر معمولی رعایت پورے موجودہ نظام کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ اور یہ سب ایسا کبھی نہیں چاہیں گے ۔۔
نئے صوبے بنانے کی خاطر نظام خود اپنے لیے خطرہ پیدا کرنا نہیں چاہے گا، یعنی کہ عمران خان کو نئے صوبوں کے بدلے لولی پاپ دینے کی کوشش کی جائے گی ۔۔
سوال یہ ہو گا کہ کیا تحریک انصاف مجبوراً یہ کمزور ڈیل قبول کر لے گی یا پھر مزاحمت پر کاربند رہ کر کسی اچھے وقت کا انتظار کرے
📍شیرافضل مروت مطیع اللہ جان کے ہتھے چڑھ گیا۔۔
اصولی طور پر عمران خان کے خلاف عدالت آنے سے پہلے آپ کو استعفی نہیں دینا چاہیے ؟ اگر عمران خان استعفی مانگے تو آپ مستعفی ہو جائیں گے ووٹ تو آپ کو عمران خان کے ملے تھے آپ کا اپنا کوئی ووٹ نہیں تھا ! مطیع اللہ جان کے تابڑ توڑ سوالات پہ مروت کی آئیں بائیں شائیں ۔۔۔
ایک اور لندن پلان کے بعد چھوٹی چھوٹی چالاکیوں کا ٹائم ہوّا چاہتا ہے ۔۔۔
کمرہ عدالت میں سماعت جاری تھی، پی ٹی آئی کے خلاف ویڈیوز چلائی گئیں، کوئی ایک کورٹ رپورٹر ایسا نہیں تھا جس نے وکیل یا درخواست گزار سے ویڈیوز لے کر اپنے اپنے چینلز کو بھیجی ہوں لیکن اسی سماعت کے دوران ہی تمام ٹی وی چینلز کو ویڈیوز کہیں سے بھیجی گئیں اور تمام چینلز پر چل گئیں، واہ