ہماری آئی ایس آئی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ میں نے اپنے شہر اور اپنے ملک کے لئے اپنا خون پسینہ دیا ہے۔
میں نے نواز شریف کا بازو مروڑ کر 1999ء میں ملتان میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنوایا، بعد میں مشرف نے بھی 7 ارب روپے دیے۔ مخدوم رشید، جہانیاں اور بستی ملوک میں ڈگری کالج بنوائے، اپنے علاقوں میں لاتعداد اسکول بنوائے۔
ملتان میں لڑکیوں کا ایک ڈگری کالج تھا، میں نے سات کالج بنوائے، یونیورسٹیاں بنوائیں۔ ملتان کے لوگ مجھے محسنِ ملتان کہتے ہیں۔
پاکستان کی بات کرتے ہو؟ ہم نے پاکستان بھی بنایا ہے۔ میرے باپ اور دادا مسلم لیگی تھے۔
اس ملک کے غدار تم ہو۔ تم نے ہمیشہ اسے توڑا ہے، آج بھی لوٹ رہے ہو۔ اب مجھ سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ مانگنے کی کوشش نہ کرو۔
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
@heypetar Building the whole SEO agency system workflow which automates around 80% of the work and more in depth and details which even sometime a senior manager also misses.
@GardRogne Unable to sent a msg but I am willing and neither have more than 15 years of experience in SEO, I also have good hold on Web Design and AI Automation and created alot of skills and whole agency automation workflow
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
🚨BREAKING: Google Gemini can now analyze any stock like a Wall Street analyst (for free).
Here are 09 insane Gemini prompts that replace $4,000/month Bloomberg terminals:
Save for later🔖
“In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure.
Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. The nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how?” -
Message from illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan (October 9, 2025)
آواز اٹھائیں 🚨
ٹاوٹ طیب بلوچ کو چپیڑیں مارنے کے الزام میں اڈیالہ جیل کے باہر سے اس نوجوان ضیاءالدین کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ نوجوان ہر وقت سائے کی طرح خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔
اس لئے سوشل میڈیا اس کی آواز بنیں
“مراد سعید میرے وفادار ترین ساتھیوں میں سے ہے اورحقیقی آزادی کی تحریک کا اہم ترین حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں بند ہونی چاہییں۔ وہ میری ہدایات پر ہی انڈرگراؤنڈ ہے۔ مجھے باوثوق ذرائع سے اطلاعات ملی تھیں کہ اس کی جان کو شدید خطرات ہیں- مجھے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا کر میرے خلاف بطور گواہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے انڈرگراؤنڈ ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہر موقع پر میری ہدایات کے مطابق حقیقی آزادی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام۔۔۔ (9 ستمبر، 2025)
3/3
“تمام مذہبی تعلیمات، معاشرتی اقدار اور اخلاقی ضابطوں کے برخلاف جس طرح میری اہلیہ پر ظلم کیا جا رہا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ ان پر یہ جبر صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مجھے توڑا جا سکے لیکن میں بشری بیگم کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ تمام تر مصائب اور صعوبتیں بھی ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکیں اور وہ میرے ساتھ کھڑی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس قدر وفا شعار خاتون کی مثال نہیں ملتی جو ایسے ظلم و جبر کے باوجود ڈٹ کر کھڑی ہیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام
(9 ستمبر، 2025)
2/3
"دنیا میں نظام حکومت کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا اخلاقی نظام ہر سطح پر، مکمل تباہ کر دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن بھی اخلاقیات ہے لیکن عاصم لأ کے تحت موجودہ نظام میں اخلاقیات کی پستی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
قرآن پاک میں بارہا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے پوری قوم کا فرض بنتا ہے کہ حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف ڈٹ جائیں۔
موجودہ نظام ظلم اور اخلاقی گراوٹ کی جس ڈگر پر چل نکلا ہے، اس کا خاتمہ یقیناً اسی نظام کی تباہی پر ہی ہو گا۔ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے، فتح آپ کی ہی ہو گی۔
افغانستان نا صرف دیرینہ ساتھی ہے بلکہ برادر اسلامی ملک بھی ہے۔ ایسے میں پوری قوم اور بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور جس قدر ممکن ہو انہیں امداد فراہم کریں۔
علی امین کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس آپریشن کو ہر حال میں رکنا چاہیے۔ تاریخ سے سبق سیکھیں۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔
موجودہ سیلابی صورتحال میں ہمارے “بلین ٹری منصوبے” کی اہمیت و ضرورت کا ایک مرتبہ پھر بھرپور اندازہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف نے میرے ویژن کی روشنی میں بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کو بورس جانسن، ورلڈ اکنامک فورم سمیت عالمی سطح پر شاندار پذیرائی ملی۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ “ٹین بلین ٹری” مہم پر ازسرنو توجہ مرکوز کریں۔ سوشل میڈیا بھی اس ضمن میں آگہی مہم کا آغاز کرے تاکہ درخت موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے خلاف ڈھال بن سکیں۔"
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام
(9 ستمبر، 2025)
1/3
علی امین گنڈا پور کو سپریم کورٹ جا کر مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگنی چاہیئے۔ اس سے پہلے بجٹ پر بھی مجھ سے مشاورت و ملاقات نہیں کی گئی۔ علی امین کو آ کر مجھے صوبے کی گورننس، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے-
میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔
افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر میں شرمندہ ہوں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پناہ لیے ہوئے تھے انھیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے-
فیصل آباد کی عدالت کی جانب سے ایک اور جھوٹے کیس میں ہمارے 75 ممبران اور کارکنان کو دی گئی سزائیں اس ظلم کے نظام کو مزید ننگا کر رہی ہیں۔ ہم سب کو اس ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونا ہے جب ہم مل کر مقابلہ کریں گے تو فتح ہمارا مقدر بنے گی۔
میری رائے میں 9 مئی کیسز میں جھوٹے الزامات پر دی گئی سزاؤں کے ذریعے خالی کرائی گئی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان جھوٹی سزاؤں کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا- اسی لیے پارٹی اس معاملے پر غور کر کے حتمی فیصلے کے لیے کل دوبارہ اپنی تجاویز میرے پاس لے کر آئیں- حماد اظہر کا حلقہ میاں اظہر صاحب کی وفات کے بعد خالی ہوا ہے- اس سیٹ پر ہم الیکشن لڑیں گے۔
جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان پارٹی کرے گی۔
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور سینکڑوں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ میں نے اسی ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے Billion Tree جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔ اس طرح کے منصوبے ہی ہمارا ماحول بچا سکتے ہیں ورنہ ہم ہر سال تباہی ہی دیکھیں گے” -
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہم گفتگو
(26 اگست، 2025)
2/2
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2