ہماری عبادتیں اور اللہ کی نعمتیں
ایک محلے میں ایک دکاندار کی چھوٹی بیٹی تھی۔ اسے دکان سے کچھ نہ کچھ کھانے کی عادت تھی۔ اس کا والد اکثر ناراض ہو کر کہتا کہ سارا منافع تو یہ خود ہی کھا جاتی ہے!
جب بچی محسوس کرتی کہ آج والد بہت غصے میں ہیں اور اگر مفت کچھ کھایا تو ڈانٹ پڑے گی، تو وہ خاموشی سے گلے میں سے پانچ روپے کا سکہ نکالتی، دکان کے سامنے جا کر نہایت اعتماد سے کہتی:
"ابو! پانچ روپے والے بسکٹ دینا۔"
والد بھی کچھ نہ کہہ پاتا۔ بچی بسکٹ لے کر گھر جاتی اور فخر سے اپنی والدہ سے کہتی:
"دیکھیں! آج میں نے مفت نہیں کھایا، اپنے پیسوں سے لیا ہے۔"
حالانکہ وہ پانچ روپے بھی اسی کے والد کے تھے!
ہماری بہت سی عبادتوں کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے چند نمازیں، کچھ روزے یا چند نیک اعمال کر لینے کے بعد بعض لوگ دل ہی دل میں یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب جنت تو ان کا حق بن گئی ہے۔ گویا اپنے رب کے حضور اعمال رکھ کر مطالبہ کر رہے ہوں:
"یہ لیجیے ہماری عبادتیں، اب بدلے میں جنت عطا فرمائیے!"
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عبادت کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ بندہ اپنے زورِ بازو سے کچھ نہیں کر سکتا۔
اگر کوئی شخص اپنی عبادتوں پر غرور لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچے گا تو پھر نعمتوں کا حساب بھی ہوگا، اور اللہ کی ایک معمولی سی نعمت بھی گواہی دے گی کہ اس کا حق ادا نہیں کیا گیا۔
ایک بزرگ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ہے۔
جب آنکھ کھلی تو اسے کوئی خاص خوشی محسوس نہ ہوئی۔ اس کے دل میں خیال آیا:
"یہ تو ہونا ہی تھا، آخر میں نے عبادتیں بھی تو بہت کی ہیں!"
اگلی رات اس نے دوبارہ خواب دیکھا۔
اس مرتبہ فیصلہ بدل چکا تھا اور حکم ہوا:
"اسے جہنم کی طرف لے جاؤ!"
جب فرشتے اسے لے جا رہے تھے تو راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی۔ وہ بار بار پانی مانگتا رہا، مگر جواب ملتا:
"پانی آگے ملے گا۔"
جب اس کی بے قراری بہت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا:
"اسے روک دو اور ایک گلاس ٹھنڈا پانی لا کر دو۔"
ٹھنڈا پانی لایا گیا۔ گلاس کے باہر شبنم جیسے قطرے دیکھ کر اس کی پیاس اور بڑھ گئی۔
پھر حکم ہوا:
"اس سے اس کی عبادتیں لکھوا لو اور بدلے میں پانی دے دو۔"
اس نے فوراً اپنی تمام عبادتیں لکھ کر دے دیں اور پانی پی لیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اسے واپس لے آؤ۔"
پھر ارشاد فرمایا:
"تم نے اپنی ساری عبادتوں کی قیمت خود ایک گلاس پانی مقرر کر دی اور اسے بیچ بھی دیا۔ اب بتاؤ دنیا میں جو اس ایک گلاس سے زیادہ پانی پیا، اس کا حساب کون دے گا؟ اور جو بے شمار نعمتیں استعمال کیں، ان کا بدلہ کیسے ادا کرو گے؟"
یہ سنتے ہی اس شخص کی آنکھ کھل گئی۔ اسے اپنی غلط فہمی کا احساس ہوا اور وہ روتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگا۔
یاد رکھیں!
ہماری تمام عبادتیں مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی ایک چھوٹی سی نعمت کا حق ادا نہیں کر سکتیں۔ اس لیے کبھی اپنی نیکیوں پر غرور نہ کریں، بلکہ ہر عبادت کو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کا احسان سمجھیں۔
جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ نعمتیں عطا فرمائے، اتنا ہی زیادہ شکر ادا کریں اور عاجزی اختیار کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، عاجزی اور حقیقی شکرگزاری نصیب فرمائے۔ آمین۔