نرس رضیہ نورین ایک بچے کو اپنی جان خطرے مین ڈال کر بچاتے ہوئے
Not all heroes wear capes
نرس رضیہ نورین کیلئے وزیراعظم نے ایک کروڑ روپے اور ستارہ خدمت دینے کی منظوری
یہ ایک بہت اچھا سوال ہے
اور اس کا جواب یہ ہے کہ نوازشریف سوفیصد پاکستانی تھے اور ہیں۔ وہ کسی گولڈسمتھ فیملی کے داماد اور کسی اسرائیلی ایجنڈے کی کٹھ پتلی نہیں تھے۔عمران خان کے لئے اب تک جتنی آواز اٹھی وہ اسرائیلی اور صہیونی لابی نے اٹھائی جبکہ مسلم ممالک میں اس کی پہچان خانہ کعبہ کے عکس والی گھڑی کی چوری بھی بنی۔
عمران کے لئے آواز وہی اٹھا رہے جنہیں ڈاکٹر اسرار سے حکیم سعید شہید تک نے اس کا گاڈ فادر کہا، جن کے پاس ابھی تک اس کے قانونی و غیرقانونی بجے یرغمال ہیں اور وہ ملاقات تک کے لئے انہیں چھوڑنے پر تیار نہیں۔
مگر اس کا جواب اس سے مختلف بھی ہے صدیق جان کہ نوازشریف کے لئے آواز مسلم ممالک سے اٹھی اور صرف آواز نہیں اٹھی انہیں خانہ کعبہ والی سرزمین پر اللہ رب العزت نے شاہی مہمان بنا دیا۔ نعتوں میں کہا جاتا ہے کہ "جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا، بڑے کرم کے ہیں یہ فیصلے بڑے نصیب کی یہ بات ہے"۔
Look who’s lecturing on principles.
Unlike you, I don’t forge documents to usurp inheritance and have always spoken for myself, and not taken money from anyone to run false narratives.
جدون نامی جس بےغیرت نے یہ سارا فساد کیا اسکا تعلق بنوں سے ہے۔ اسکا سوشل میڈیا اکاؤنٹ دیکھا گیا تو پاکستان سے نفرت اور افغانیت کی پرچار سے بھرا ہوا ہے یعنی یہ اپنے آپ میں پورا منظور پشتن ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ یہ خنزیر طلباء کو کیا پڑھاتا ہوگا؟
لیکن سب سے بڑھ کر اس نے طلباء کا ایک گروپ بنا رکھا تھا جن کو یہ تیار پرچے دے کر یا یوں سمجھیں کہ بغیر امتحان کے پاس کرتا تھا اور ان میں چند لڑکیاں خاص طور پر شامل تھیں جن کے بارے میں دیگر طلباء کہہ رہے ہیں ان کے ساتھ جدون کے ناجائز تعلقات ہیں۔ اس گینگ کا لیڈر اس نے وزیرستان کے اس واسکٹ والے لڑکے کو بنا رکھا ہے جو کرنل اسفند یار پر حملے میں پیش پیش تھا۔
یونیورسٹی اس افغانی کی حرکتوں سے تنگ آگئی تو اسکی جگہ ڈاکٹر آئینہ کو لے آئی۔ اس نے چیزیں ٹھیک کرنی شروع کیں تو جدون نے اس کے دفتر جاکر اس کو دھمکایا اور یہ بھی کہا کہ میں تمہیں تھپڑ مار دونگا۔ جس پر اس نے 15 کو کال کی۔ پولیس آئی تو اس نے باقاعدہ معافی مانگی اور اس واقعے کی رپورٹ 21 اگست کو درج ہوئی جو سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہورہی ہے۔ یونیورسٹی نے جدون کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے اپنے گینگ کو تیار کیا جس کی وٹس ایپ چیٹ لیک ہوچکی ہے۔ اگلی صبح جدون کے ساتھ وہ گینگ خاص کر وہ بدمعاش لڑکیاں ڈاکٹر آئینہ کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئیں۔ اسکی بھی ویڈیو آچکی ہے۔ پھر بھی وہ کسی طرح اندر چلی گئیں تو اس گینگ نے گیٹ بند کر دیا اور اس سے بدتمیزی شروع کر دی۔ جس کے بعد گینگ لیڈر وزیرستانی لڑکے نے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا۔ وہ چیخنے لگی اور اس نے پہلی بار اپنے شوہر کو فون کیا جو فون سن کر اسی طرح بھاگ کر آگیا۔
آتے ہی اس نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور ان بدمعاش طلباء کے نرغے سے نکالنے لگا جس کی ویڈیو وائرل ہے۔ انہوں نے اسکو گھیر لیا۔ پولیس کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی۔ اس نے انکو دھکے دے کر راستہ بنانے کی کوشش کی تو اس وزیرستانی غنڈے نے کہا کہ "ہم نے جیسے تم لوگوں کی وزیرستان میں ۔۔ ماری ہے یہاں بھی مارینگے۔" جس پر کرنل اسفند یار نے اسکو چھڑی ماری۔ اس کے بعد سب نے ملکر اس فوجی افسر پر اکھٹا دھاوا بولا۔ پولیس والے انکو روکنے کے بجائے کرنل اسفند کو ہی پکڑنے لگے۔ ڈاکٹر آئینہ کو ان لڑکوں نے زمین پر گرا دیا۔ جس پر کرنل اسفندیار نے پستول نکال کر سیدھا کیا تاکہ وہ لڑکے ڈر کر پیچھے ہٹیں۔ جب وہ پیچھے ہوئے تو ہوائی فائر کر کے ڈاکٹر آئینہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کے نرغے سے نکال کر لے گیا۔
یہ ہے سارا واقعہ اور اسکی تصدیق میں یونیورسٹی طلباء کے بیانات، ویڈیوز اور چیٹس بھی آچکی ہیں۔ اس کے بعد بھی اس افغانی جدون کو نشان عبرت نہیں بنایا گیا یا کرنل اسفند کو سزا دی گئی تو ریاست اور قومی سلامتی کا ضامن سب سے بڑا ادارہ مذاق بن کر رہ جائیگا۔ 9 مئی کرنے والوں کو سزائیں نہ دینے کے خوفناک نتائج آرہے ہیں۔ سزا ہی معاشروں کی اصلاح کرتی ہے۔ جو کچھ جدون اور اس کے گینگ نے کیا یہ اگر ایران میں ہوا ہوتا تو اب تک انکی لاشیں کرینوں سے لٹک رہی ہوتیں۔ کاش ہم اس معاملے میں ایران سبق سیکھیں۔
آج آزاد ڈیجیٹل کے صحافی شاہد قریشی سرحد یونیورسٹی کے باہر رپورٹ کر رہے تھے جب پروفیسر جدون نامی افغانی قوم پرست کے لوگوں نے انکو اغوا کیا اور چار گھنٹے یونیورسٹی میں قید رکھا
یہ سارا گند افغانی قوم پرستوں کا پھیلایا ہوا ہے، ریاست کو ان بیشرموں کے خلاف سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے
جو لوگ فوج کے خلاف بولتے ہیں یا اداروں کے خلاف، ان کا ایک ہی علاج ہے، تلوار سے ان کا سر قلم کردیا جائے، ان کا صفایا کردیا جائے۔ چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر #خان_دور
یہ ہے وہ جنسی درندہ جدون خان جس نے آج سرحد یونیورسٹی میں سارا کھیل رچا۔ اس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے درجنوں الزامات تھے۔ ڈاکٹر آئینہ نے اس کے خلاف بچیوں کی طرف سے کمپلین کی جس پر اس نے ان کے دفتر میں ان پر حملہ کیا۔
ڈاکٹر آئینہ نے اس پر پولیس میں شکایت بھی کس پر اس نے تحریری معافی نامہ مانگا۔
جب اس کی حرکات پر اسے فارغ کیا گیا تو اس نے چند سٹوڈنٹس کو ساتھ ملا کر پھر سے ہلڑ بازی کی۔تصویر کے دونوں رخ کو دیکھا جائے اور ان کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہچایا جائے
یہ اس فوجی آفیسر کی بیوی ڈاکٹر آئینہ کی جدون خان کے خلاف 21 اگست کو تھانے میں پولیس ہے آپ پڑھ لیجئے اس میں ڈاکٹر آئینہ نے شکایت کی کہ جدون خان اس کے دفتر میں آیا اسے گالیاں دیں مارنے کی دھمکی دی پھر جدون نے تحریری معافی تھانے میں مانگی اس کی بھی تفصیل درج ہے
اس کے آپ سوچیں کہ معاملہ تھا کیا اور تحریک انصاف نے بنا کیا دیا ہے
جنگل کے آگ کی طرح پھیلائیں اور انصاف کا مطالبہ کریں۔
زید خاموشی اب برداشت نہیں۔ 🚨🚨
👈سرحد یونیورسٹی کے اساتذہ کی گروپ چیٹ لیک ہو گئی ہے ڈاکٹر جدون اصل ماسٹر مائنڈ ہے جس نے باقی ٹیچرز ساتھ ملکر سیاست کی اور یونیورسٹی کے طلباء کو استعمال کیا
اگر فوج سے اپنے افسر کو سزا سے سکتی ہے تو حکومت کو چاہیے ان سب اساتذہ کو بھی سزا دے اور ان تمام کرداروں کو بھی جنہوں نے اس واردات میں حصہ لیا 🚨🚨
سب پاکستانی آواز اٹھائیں
لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہوا کیوں ہوا معاملہ کہاں سے شروع ہوا،
سب اصل حقائق پڑھیں،
تمام ثبوتوں کے ساتھ ‼️‼️‼️
تھریڈ ۔۔۔!!!
پہلی تصویر ڈاکٹر جدون خان کی، سابقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ HoD جو کرنل اسفند یار خان پر حملہ آور ہے۔
اب کہانی سنئیے ۔۔۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی کہ جدون خان ان کو غیرضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آئینہ جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔
جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔
ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا اور اس کے بعد ڈاکٹر آئینہ کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔
معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا،
گزشتہ جمعے 21 اگست کو ڈاکٹر جدون خان، ڈاکٹر آئینہ کے آفس میں زبردستی آ گھس گیا، انہیں گالیاں دیں دھمکایا حتیٰ کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔
اس صورتحال پر ڈاکٹر آئینہ نے فورا پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فوراً بعد تھانہ ھمک چلی گئیں۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف کاروائی کیلئے۔
اب پوسٹ کے ساتھ لگی وہ درخواست دیکھئیے جو ڈاکٹر آئینہ نے جدون خان کیخلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔
اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فورا تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر آئینہ سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔
وائس پرنسپل نے ڈاکٹر آئینہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کرینگے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔
پہلے تو ڈاکٹر آئینہ نہیں مانیں،
انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہٰذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔
وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر آئینہ صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی۔ ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔
جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آئینہ سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا،
جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔
میری اس پوسٹ میں تصویر دیکھئیے جدون خان کے معافی نامے کی۔
اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر آئینہ جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپل کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔
کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔
اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں۔
جو انتہائی افسوسناک ہے۔
خیر اب آئیے کہ 24اگست سوموار کے روز کیا ہوا۔
یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔
ڈاکٹر آئینہ چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افئیرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کے لئے گئیں۔
اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے،
جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔
اہم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج میں کیوں موجود تھا!!!؟؟؟
جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!!
جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر آئینہ کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔
یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر آئینہ نے سوچا کہ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا یہ باز ہی نہیں آ رہا،
انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔
جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر آئینہ کے بلانے پر آئی ہوئی تھی!!!
پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔
ڈاکٹر آئینہ نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!!
یہ جاننا بہت اھم ہے!!!
یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو کہا کہ تم اسفند کو مت بتانا، کیونکہ وہ ظاہر ہے اپنے شوہر کے طبیعت کو پہچانتی ہیں، کہ جب وہ جانیں گے کہ ایک بار پھر ایسی حرکت ہوئی ہے تو طیش میں آئیں گے۔
ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو آگاہ کیا تاکہ فیملی میں کسی کو معلوم ہو۔
ڈاکٹر آئینہ اس دوبارہ وقوعے کو ہونے سے ۔