جب تک سوشل میڈیا اور چینلز ریٹنگز کے پیچھے پڑے رہیں گے اور دیکھنے والے بھی اچھے بُرے کی تمیز کیے بغیر سنسنی اور مثالے کو ہی دیکیھنا پسند کریں گے تو پھر صحافت کے نام پر گند اور گھٹیا پن نئی نئی حدیں کراس کرتا رہے گا۔ اور یہی یہاں ہو رہا ہے۔ ایسے میں پھر شکوہ کس سے کیا جا رہا ہے؟
شہباز گل کا گلبرگ گرین میں فارم ہاوس عمران ریاض لاہور اور چکوال میں فارم ہاوسز آفتاب اقبال لاہور بیدیاں روڈ پر فارم ہاوس اور کینیڈا میں ریسٹورنٹس معید پیرزادہ کا 50 کروڑ کا پراجیکٹ صابر شاکر کا ہسپتال حتی کہ جمیل فاروقی کا بھی فارم ہاوس۔ وغیرہ
لیکن ٹاوٹ اور کرپٹ ھر مخالف ھے 🤣 !
روم میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں
مظاہرین نے ایک بہت بڑا علامتی کفن اٹھا رکھا تھا اور اس پر غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے 21,000 سے زائد فلسطینی بچوں کے نام درج تھے۔
سنیل گواسکر اور گنگولی جیسوں کا کا بنیادی میدان اگر کرکٹ ہی ہے تو انہیں پاکستان کا انکل بننے سے پہلے اپنے جے شا کو ایک خط لکھنا چاہیے کہ احمق انسان تم نے کرکٹ کی اخلاقیات پامال کردیں. کرکٹ سے بہتر سلوک کرو.
ٹرمپ، زلمے خلیل زاد یا اراکین کانگریس نے کون سا جن نکال لیا جو گواسکر جیسے آ گئے ہیں.
پاکستان کے داخلی معاملات گھر میں ہی حل ہوں گے، واہیات قسم کی لابنگ سے نہیں کہ اب ہم فلاں سے خط لکھوا دیں گے اور فلاں کو خط لکھوا دیں گے.
یہ بڑھکیں تمام ہوئیں صاحب، سیاست کی گتھیاں سیاسی بصیرت سے کھلیں گے اس قماش کی حرکتوں سے نہیں.
حدیث نبوی کے مطابق ایک مؤمن نہ بدزبانی کرنے والا اور نہ فحش گوئی کرنے والا ہو سکتا ہے ۔ اختلاف بغیر کسی کی تذلیل اور مزاق اڑانے کے بھی ہو سکتا ہے بہت افسوس ہے ان پڑھے لکھوں پر
کیا اختلاف کا حق اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ دوسروں کے خلاف بدزبانی کی جائے، نفرت اور خطرات پھیلائے جائیں؟ لائکس کی دوڑ نے قانونی و صحافتی ضابطوں کو روند دیا ہے۔ صحافتی تنظیمیں کہاں ہیں؟
میرا ٹویٹ، اُن کے جواب 👇