بلوچ نسل کشی کیخلاف لانگ مارچ کے رہنماء ماہ رنگ بلوچ نے اپنے ویڈیو پیغام میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے اسلام آباد پولیس کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔“
ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ تشدد ہمیں روک نہیں سکتے ہیں، ہم اسلام آباد پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاج کرینگے
یہ بچی نو سال پہلے نابینا نہیں تھی باپ کے لئے روتے روتے بینائی چلی گئی اگر اسکا باپ دہشت گرد ہے تو اسے عدالت میں پیش کرو اور سزا دلواؤ جس ریاست میں مظلوم لوگوں کو انصاف نہ ملے وہ ریاست کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی ہمیشہ بھکاری رہے ��ی
Sadia Baloch..
میرے بھائی سلمان بلوچ کو 13 نومبر 2022 کو جبرا لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہے ہمارے پیاروں کو بغیر قانونی تضاضے پورے کیے سالوں لاپتہ کرتے ہیں ازیت گاہوں میں ان پر تشدد کیا جاتا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر وہ ملزم ہےان پر جرم عدالتوں میں ثابت کریں.
@sadiabalochssb
Whenever the state attempts to oppress Balochs, they will return and peacefully resist. They will continue to expose the state’s violence, just as we did in Islamabad through the march......
ماہین بلوچ کی عمر صرف 15 سال ہے یہ اپنے لاپتہ ابو کے لئے قلات سے اکیلی اسلام آباد آئی ہے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کےلئے دھرنے میں بیٹھی ہےاسکا کوئی بھائی نہیں وہ صرف اللّٰہ کے آسرے پر اتنی دور آئی ہے ذرا سوچیں جب یہ خالی ہاتھ واپس بلوچستان جائے گی تو اسلام آباد کو کیا کہے گی؟
جو شعور رکھتے ہیں اور جو حق اور سچ کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین اور ملک کے خیر خواہ ہو تو وہ بلوچ کی مسلے کو سمجھتے ہوئے انکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہینگۓ۔
@AhsanJPirzada شکریہ جو آپنے اپنی فرائض سرانجام دیا۔#MarchAgainstBalochGenocide
اسلام آباد کے سرد ہواؤں میں بیٹھے ہم خواتین و مرد، صرف بلوچ مائیں بہنیں اور بچے نہیں۔۔؟؟
ریاست، ریاستی اداروں، عدلیہ، سین�� اور سیاسی و مذہبی جماعتوں پر بھی ہمارے حقوق ہیں ۔۔
ان سب سے التماس ہے اپنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کر کے انسانیت کے رشتے پر آگے بڑھیں۔۔
2013 سے بیٹا جبری لاپتہ ہے ، پہننے کو صاف جوتے اور کپڑے تک نہیں مگر کوہلو سے کرایہ ادھار لیکر اسلام آباد پہنچا تاکہ وفاق انکو سنے ، مگر ادارے کہتے ہیں یہاں آپکی موجیں لگی ہوئی ہیں ؟
شرم کا مقام ہے ریاست کیلئے
#MarchAgainstBalochGenocide#StopBalochGenocide
A Baloch missing person Jan Mohammad Kurd, forcibly disappeared from Quetta on 26 July 2015 has been released today after eight and half years. Jan Mohammad’s mother passed away in April 2020.
This mother’s sons has been enforcedly disappeared since 2014. Instead of resting at home at 80, she has been a strong participant in this Long March,
"My grandchildren has no one but me; lest there be no one for my grandchildren after my death," the painful words of this mother.
آج تک کسی نے نہیں دیکھا کہ بلوچستان کس آگ میں جل رہا ہے۔ جس بلوچ نے ہمیشہ اپنی عورت کو عزت دی، آپ نے اس عورت کو گلیوں میں گھسیٹا....
اسلام آباد سیمینار میں خطاب
کسی کا باپ،کسی کا خاوند اور کسی کا بھائی لاپتہ ہے ��ور انکی بازیابی کے لئے ہزاروں کلومیٹر سفر کرکے سخت سردی میں کھلے آسمان تلے خواتین بیٹھی ہیں اور بےحس پولیس والا کہ رہا ہے کہ آپ موجیں کررہی ہیں اور تماشہ لگایا ھوا ہے-
#MarchAgainstBalochGenocide
یہ ہے وفاق کی نمائندہ اسلام آباد پولیس جو بلوچ خواتین سے کہہ رہی ہے کہ تم نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟ سلام ہے اسلام آباد کے غیور شہریوں کو جو اپنی بلوچ ماؤں بہنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر پولیس والوں کو شرم دلا رہے ہیں کہ ان مجبور اور مظلوم عورتوں کے ساتھ بدتمیزی مت کرو
This is the level of seriousness of the authorities with the ongoing #MarchAgainstBalochGenocide.
The police wasn't letting us bring our speakers. Do they really think this would diminish our voices for justice???