بھائی بند ہی کر دو یہ پٹرول پمپس تاکہ روز کی اس ب۔۔۔ ب۔۔ سے جان چھوٹے۔۔
ہم کھوتے ہی خرید لے لیتے ہیں یا اونٹ۔ ساتھ میں بچوں کے لیے ریڑھی بھی۔۔
وہی کھوتے/اونٹ پر سفر کرنے والا دور ہی اچھا تھا۔ دن کا سو دو سو روپے کا چارہ خرید لیا اور انہیں کھلا دیا۔۔ نہ پٹرول نہ ڈیزل کا خرچہ، نہ روز بیرل کی قیمت بڑھ گئی یا کم ہوگئی کا فساد، نہ ہی حکومت کی ایک سو تیس روپے فی لٹر لیوی ٹیکس کا ڈاکا نہ ہی جی ایس ٹی کا پھڈا نہ ہی ڈیلر کمشن نہ ہی ائل کمپنیوں کو اربوں روپے کی ایک ہی دن میں مارجن کی ادائیگاں نہ ہی روز کی یہ بک بک۔
الٹا جب سے ڈیزل پٹرول آیا ہے ہمارے ہاں موٹاپا بڑھ گیا ہے، کولیسٹرول، ہارٹ اٹیک، شوگر ۔۔۔ ہزاروں بیماریاں۔۔ سب کچھ اس پٹرول ڈیزل کی وجہ سے ہے کہ لوگ اب چند قدم نہیں چلتے بائیک کو کک ماری چل پڑے یا گاڑی۔۔ بند کر دو سب پمپس پلیز۔۔
ہمیں 1970/1980 والی دہائیاں ہی ٹھیک ہیں۔۔ جان ہے تو جہان ہے۔۔ لوگ تو پیدل مکہ مدینہ حج کر آتے تھے۔ آپ نے ہمیں پٹرول ڈیزل کے چکر میں ڈال کر معذور مریض بنا دیا۔ رکھو تسی اپنڑے کول اپنڑے پمپس ۔۔ اب وہاں کھوتے اور اونٹ کا چارہ بیچیں۔۔۔ شکریہ
Iran’s attack on an Emirati oil tanker in the Strait of Hormuz represents continued aggression and must be condemned by all who support peace
https://t.co/V4Vp9UMkL0
میں ایک محفل میں ایک مسئلہ بتا رھا تھا جو کچھ عرصہ پہلے جنگ میں اسلامی صفحے پر پڑھا تھا۔۔کوئی لدھیانوی صاحب جواب دیتے تھے،
ایک بزرگ نے لکھا کہ انکے پاس کچھ رقم ھے جو وہ حکومت کی بچت اسکیم میں لگا چکے ھیں ، جہاں سے اتنی آمدنی ماہانا ھو جاتی ھے کہ انکا مہینہ آرام سے گزر جاتا ھے، اب انھیں لوگ کہہ رھے ھیں کہ یہ سود ھے اور حرام ھے۔۔۔اب اگر میں اس رقم کو نکال لوں اور کسی کاروبار میں لگا دوں جہاں نقصان یا دھوکہ ھو جاے تو انکا بڑھاپا بہت خوار ھو جاے گا کیا کروں۔۔؟
انکو جواب 'کتاب الحیل' کی مدد سے مولانا نے یہ دیا کہ آپ ھر ماہ آخری تاریخوں میں اپنے کسی غیر مسلم دوست سے قرضہ لے لیا کریں، اور جب آپ کو اپنی بچت پر پیسے ملیں اپنے غیر مسلم دوست کا قرضہ اتار دیا کریں کیوں کہ غیر مسلم کا قرضہ اتارنے کے لیے سود کی اجازت ھے -
باقی احباب تو کہتے رھے کہ یہ فراڈ ھو گا۔۔اور مذھب ایسی اجازت کیسے دے سکتا ھے، لیکن ایک نے کہا کہ یہ بات درست ھے، خود میرے پاس جو پیسے تھے وہ ناجائیز زرایع سے کماے تھے ۔۔۔لیکن کیوں کہ حج کرنے کا شوق تھا،ایک مفتی کے مشورے پر ایک ھندو دوست سے قرض لے کر حج کی رقم جمع کرائی، واپس آ کر اپنے ھندو دوست کا قرضہ اتار دیا۔
۔۔
لیکن وزیر اعظم شہباز شریف میں کسی قسم کی اکڑ نہیں بلکہ ان کی لچک اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ وہ مسلم لیگ نون اور قوم کےُلئے پریشانی کا باعث بن رہی ہے ان لی لچک سے خوش حلقے بھی چلا اٹھے ہیں کہ نظام نہیں چل رہا تھوڑی اکڑ پیدا کریں اکڑنے کےُ لئے چھ ماہ کا وقت بھی دیا ہے بعض اوقات اکڑنا بھی ضروری ہوتا ہے
۱- اگر موجودہ حکومت کی چھٹی ہو رہی ہے تو کس کی حکومت آئے گی؟ جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا تو یہی حکومت چلے گی
۲- اس بات سے قطع نظر کہ تجویز کس کی ہے لیکن نئے صوبوں کی اشد ضرورت ہے مگر سوال یہ ہے کہ آیا پیپلز پارٹی چاہے گی کہ سندھ تقسیم ہو اور کیا نون لیگ پنجاب کی تقسیم چاہے گی؟ کبھی نہیں، انکی سیاست ان صوبوں سے جڑی ہوئی ہے اگر وہ تقسیم ہوتے ہیں تو انکی سیاست ختم ہو جائے گی، کوئی بھی سیاسی جماعت اپنی طاقت کے مرکز ختم نہیں کرنا چاہے گی، بہتر یہ ہے کہ انکو نئے صوبوں کی تجویز سے ڈرا کر بلدیاتی نظام کو بحال، فعال اور موثر بنا لیں
Unfortunately, the American missiles currently bombing southern Iran were launched from Kuwait.
I don't know why the rulers of the Gulf states are committing all this treachery against their Muslim brothers in Iran, Palestine, Lebanon, and Yemen and Iraq
احمد بھائی سفارتکاری کے میدان میں پاکستان نے جو عزت کمائی ہمیں اس پر فخر ہے۔ ہم اس پر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے احسان مند ہیں۔
مگر بجلی کے ریٹ اور سلیب کی سفاکی اور پیٹرول والے سینہ زوری پر وزیراعظم کو کوئی احساس نہیں، عوام کو الٹے چھرے سے روز ذبح کیا جا رہا ہے۔
درست کہ اس میں فیلڈ مارشل کا کوئی کردار نہیں مگر جب حکومت، اپوزیشن، عدلیہ کوئی عوام کا وارث بننے کو تیار نہیں تو ہم فیلڈمارشل صاحب کا ہی ترلہ کریں گے، فیلڈ مارشل صرف ایک بار وزیراعظم کو کہہ دیں تو اگلے آدھے گھنٹے میں سلیب سسٹم اور مہنگی بجلی حکومت فوری بند کر کے سستی بجلی دے گی، جو وہ دے سکتی ہے آزاد کشمیر میں دے کر ثابت کیا۔ اور پیٹرول بھی 180 پر لا کر چاچو اہنے دور میں ایک روپیہ بھی نہ بڑھائیں۔ ایک بار فیلڈ مارشل کہہ کر تو دیکھیں، وزیراعظم نے آرڈر جاری کیئے بغیر سونا ہی نہیں۔ فیلڈ مارشل بےبس مخلوق خدا کے لیئے کہہ دیں عوام انہیں صدیوں محسن عوام کے طور پر یاد رکھے گی۔
کویت نے پاکستان کے ساتھ باضابطہ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی۔
یہ صرف ایک معاہدہ نہیں، ایک نئے اعتماد کا اعلان ہے۔
فوجی تربیت، لاجسٹک تعاون، ماہرین کا تبادلہ، دفاعی صنعت، انٹیلیجنس تعاون، الیکٹرانک نظام۔ ہر شعبے میں شراکت داری۔
خلیج میں پاکستان کا کردار اب صرف روایتی نہیں، اسٹریٹجک ہے۔
سعودی عرب کے بعد کویت۔ سلسلہ کہاں رکے گا؟
خطے کے ممالک پاکستان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں؟ جواب واضح ہے۔ میدان میں کھڑے رہنے کا اعتماد صرف پاکستان دیتا ہے۔
مضبوط پاکستان، محفوظ خطہ۔
#PakistanKuwait #DefenceCooperation #پاکستان_کویت_معاہدہ #StrategicPartnership
بریکنگ: کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ سرکاری طور پر نافذ، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تعاون سمیت اہم شعبے شامل مگر معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی دفاعی معاہدے سے مختلف ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے تحت ایک پر حملہ دونوں پر حملہ ہے ۔
کویت نے اتوار کو پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے 2023 میں دستخط کیے جانے کے بعد اسے سرکاری گزٹ “کویت الیوم” میں فرمانِ قانون کے ذریعے شائع کر دیا گیا۔
فرمان کے مطابق، 11 جون 2023 کو کویت میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور مسلح افواج کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کرنا ہے، جو دونوں ممالک کے ملکی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہوگا۔
معاہدے کے تحت تعاون کے اہم شعبوں میں فوجی تربیت اور تعلیم، دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان دفاعی تعاون، لاجسٹکس، فوجی اہلکاروں، تکنیکی ماہرین اور مختلف عسکری شعبوں کے ماہرین کا تبادلہ، سائنسی و تکنیکی تعاون، فوجی انٹیلی جنس اور دیگر باہمی طور پر طے شدہ شعبے شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق، دونوں ممالک ہر سال مشترکہ سرگرمیوں کے لیے سالانہ منصوبہ تیار کریں گے، جس پر پروٹوکولز اور ایگزیکٹو پروگرامز کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر سطح پر وفود کے تبادلوں کے ذریعے دفاعی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جو دفاعی تعاون کے تمام شعبوں میں رابطہ اور عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی کے شریک سربراہان دونوں ممالک کے وزرائے دفاع مقرر کریں گے، جبکہ اس کا اجلاس سال میں ایک بار منعقد ہوگا۔
معاہدے میں خفیہ معلومات کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی شقیں شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے سے حاصل ہونے والی درجہ بند معلومات اور دستاویزات کو اپنی قومی سیکیورٹی قوانین کے مطابق محفوظ رکھیں گے اور تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کو منتقل نہیں کریں گے۔ یہ تحفظ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہے گا۔
مالی امور سے متعلق شق کے مطابق، باہمی تعاون کی بنیاد پر میزبان ملک سرکاری دوروں کے دوران آنے والے وفود کے اندرونِ ملک سفری اخراجات، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس سے کسی بھی فریق کے دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حقوق یا ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جبکہ معاہدے کی تشریح یا اس پر عمل درآمد سے متعلق کسی بھی اختلاف کو براہِ راست مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
دیکھنے لڑائی دو ملکوں کے بیچ شروع ہوئی ہم نے بہت کوشش کر کے رکوا دی ۔۔ اب خبریں یہ چل رہی ہیں کہ ہم نے امریکہ سے استحکام پاکستان کیلئے دس ارب ڈالر مانگ لئے ۔۔
اصولاً تو دوسرے فریق ایران سے بھی فیس مانگنا چاہیے، چلیں اگر وہ ایک دم نہیں دے سکتا تو دس سال تک ہر سال ایک ارب ڈالر کی گیس ہی فری میں دے دیا کرے ۔۔
میرا خیال یہ ہے کہ اگر ایران سے حق محنت نہ لیا تو دنیا سمجھے گی کہ پاکستان امریکہ کے بی ہاف پر ہی یہ جنگ بند کرا رہا تھا ۔۔ اچھا امپریشن نہیں جائے گا سالا ۔۔۔
بریکنگ: تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقات کی اندرونی تفصیلات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں نے حکومت کے خلاف مشترکہ محاذ بنانے پر تفصیلی مشاورت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) نے خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے عطاالرحمان کا نام پیش کیا، جبکہ مولانا فضل الرحمان کو مشترکہ اپوزیشن لیڈر بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے اندر ان تجاویز پر شدید اختلافات سامنے آ گئے۔ علیمہ خان گروپ نے اسے جماعت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے سخت تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ بیرسٹر گوہر گروپ اور بعض دیگر رہنما ان تجاویز کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ فارمولہ طے پا گیا تو اپوزیشن کی سیاست کا نقشہ بدل سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
فضل الرحمان کا زہنی توازن خراب ہوگیا ہے اب یہ کروڑوں اہل تشیع کے عقائد پر حملہ آور ہے اس کو ماتم سے بھی مسئلہ ہے ۔ وہ ماتم کریں نہ کریں تجھے کس نے حق دیا ہے کہ اس طرح تضحیک کرے ۔ دین فروش مولوی
جن وزراء کی کارکردگی کے گرد ریڈ دائرہ ہے ،جن کو ہٹانا ہے یا پھر تبدیل کرنا ہے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ایسے وزراء کو الگ الگ بلا رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کی ۔۔کارکردگی رپورٹ۔۔ بھی ان کے سامنے رکھ دی جاتی ہے اب چاچو رکھ رکھاؤ والے انسان ہیں سب کے سامنے تھوڑا کسی کا کچا چٹھا کھولیں گے کل بھی ایک سینیر وزیر سے ملاقات کے دوران ان کی ۔۔مجموعی۔۔کارکردگی کا جائزہ لیاگیا ہے۔دیکھتے ہیں یہ عمل کب مکمل ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد اتھل پتھل ہوجانی ہے۔۔۔
وارنٹ آف پریذیڈنس کے مطابق ہی آئینی اداروں اور دیگر اہم شخصیات کو نشست ملتی ہے صدر پہلے،وزیراعظم دوسرے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر تیسرے نمبر پر ہیں اب اراکین پارلیمنٹ ضد لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کا درجہ بڑھایا جائے اس لیے وزیراعظم نے کمیٹی بنادی ہے اراکین پارلیمنٹ کو یہاں بھی عوام سے زیادہ اپنا درجہ بڑھانے کی فکر ہے حالانکہ یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔۔
باعزت اختلاف صرف سیکولر معاشروں میں ممکن ہے۔ ہم قبائلی و زرعی طرز زندگی والے معاشروں میں باادب اختلاف راۓ ممکن ہی نہیں۔ یہاں ہر بات کو حق و باطل کے ترازو میں تولہ جاتا ہے۔ جبکہ Grey areas کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
منقول