رہے جو بند یہ مُٹھّی، بھرم بھی رہتا ہے
کہ مَیں نے کھول کے دل کو، حقیر دل کو کِیا
خزانہ پیار کا دل میں سنبھال رکھا تھا
وہ کرکے تیرے حوالے فقیردل کوکیا
پرانا تکیہ
میرے بستر پر رکھا
یہ پرانا تکیہ
بہت راز جانتا ہے
یہ جانتا ہے
کہ کون سی رات
میں دیر تک جاگتا رہا
اور کس رات
تمہارا نام سوچتے سوچتے
سو گیا
کبھی کبھی لگتا ہے
یہ تکیہ نہیں
میری خاموشیوں کی ڈائری ہے
فیض اللہ خان
#قومی_زبان
یہ ہم جو بانٹتے پھرتے ہیں کو بہ کو میراث
ہمارے پاس غزل کی ہے خوبرو میراث
جو تم گئے تو ہراک شے نے ساتھ چھوڑ دیا
ہمارے پاس رہی تیری جستجو میراث
ہم اس کے اہل نہ تھے، ناز ہم بچا نہ سکے
جگہ جگہ سے ہوئی ہے اگر رفو میراث
#نازمظفرآبادی@urdu_bazm
محبتوں کی ادا کے سوا کچھ اور نہیں
فقیر پاس دعا کے سوا کچھ اور نہیں
یقیں نہ ہو تو کبھی آزما کے دیکھ ہمیں
ہمارے پاس وفا کے سوا کچھ اور نہیں
دھڑک رہا ہے جو دل بن کے تیرے سینے میں
میرے عزیز خدا کے سوا کچھ اور نہیں
#والی_آسی#قومی_زبان
کام آئی نہ کچھ دانش و دانائی ہماری
ہاری ہے تیرے جھوٹ سے، سچائی ہماری
یوں ہے کہ یہاں نام و نشاں تک نہیں تیرا
اور تجھ سے بھری رہتی ہے تنہائی ہماری
#ظفر_اقبال#قومی_زبان
اے پیار پریت تے ریت دے جذبے!
دنیا دے کانڑ جرائم ہوندن
پروانے سڑن توں نئیں ڈردے!
بھانویں شمع دے غلط عزائم ہوندن
اک آخری ساہ تائیں لفظ وفا تے!
اقرار دے لٹے اوئے قائم ہوندن
انجے "عابد" شام پونڑیندی ھے!
تقدیر دے کیہڑے ٹائم ہوندن
#عابد_تمیمی#قومی_زبان
کچھ محبتیں ملنے کے لیے نہیں ہوتیں
بس انسان کو بدلنے کے لیے آتی ہیں
وہ شخص شاید زندگی میں نہ رہے
مگر اس کے بعد زندگی ویسی بھی نہیں رہتی
دل پھر ہنستا ہے
لوگ پھر ملتے ہیں
دن پھر گذر جاتا ہے
مگر اندر کہیں ایک جگہ ایسی رہ جاتی ہے
جہاں صرف ایک ہی نام کی خاموشی ہوتی ہے
👇
نومبر کی ٹھنڈک بھری یہ شام حسیں کردی
کڑک چاۓ پلا کر میری اداسی رنگیں کردی
مہک ہے تیری چاہت کی یا بھاپ اڑاتی چاۓ
زیرِلب کہا کچھ ،میری زندگی دلنشیں کردی شبنم مرزا
خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھا
گھڑی بھر ساتھ تیرا چاہئے تھا
ہمیشہ ہم نے کی تیری تمنا
ہمیں کب تیرے جیسا چاہئے تھا
تجھے سونپا تھا اپنا آپ میں نے
تو پھر محفوظ رکھنا چاہئے تھا
دغا کر کے بھی کتنے مطمئن ہو
تمہیں تو ڈوب مرنا چاہئے تھا
#عامر_عطا#قومی_زبان
مینوں سؤں اے عید دی ڈیگر دی!
عید ہوندی ھئی سنگتاں رلیاں
آزمایا اے جانڑو ای کوئی نئیں بنڑدا!
سروں آپنڑیں بخت دے ڈھلیاں
"ابرار" توں پچھ جیویں کیتی اے!
اس سال وی عید ہکلیاں
اوھدے راہاں تے لہہ گیا عید دا دینہہ!
ہکے پیر تے کھلیاں کھلیاں
#مہر_ریاض_حسین_ابرار#قومی_زبان