بغیر حیلہ و حجت ہے زیست بے معنی
سو دل کسی نہ کسی سے لگانا پڑتا ہے
تم اہلِ زر ہو تمہیں سب ملا ہے ورثے میں
ہم اہلِ فن ہیں ہمیں سب کمانا پڑتا ہے❤️
#NewProfilePic
اگر زباں سے نہ اشکِ رواں سے گزرے گا
تو پھر غبارِ طبیعت کہاں سے گزرے گا
ہمارے نقشِ قدم راہ میں بنائے رکھو
ابھی زمانہ اسی کہکشاں سے گزرے گا
ابھی تو بجلیاں ٹوٹیں گی خرمنِ دل پر
ابھی تو قافلہ شہرِ بتاں سے گزرے گا
نصیب ہوں گی اسے سرفرازیاں کیا کیا
جو سر جھکا کے ترے آستاں سے گزرے گا
اسی سے راستے پوچھیں گے خیریت میری
وہ میرے شہر میں تنہا جہاں سے گزرے گا
میں سوچتا ہوں رہے گا جو فاصلہ قائم
زمانہ ان کے مرے درمیاں سے گزرے گا