صرف ایک ہفتے کے دوران کیا ہوا؟ کیا قدرت کے اشارے سمجھ نہیں آ رہے؟
ایک دن سرحد یونیورسٹی کا شرمناک واقعہ اور پورے ملک میں اسکی ویڈیوز کا پھیلنا اور چیخ و پکار
دو دن بعد پمز ہسپتال میں بچوں کا جلنا، والدین کی چیخ و پکار، عوام کا غصہ، بد ترین گورنس کی بازگشت۔
چند دن بعد لارڈز میں عمران خان کے بیٹوں کا غیر معمولی انٹرویو، برطانوی سرزمین، برطانوی نیوز چینل، برطانوی اینکر پرسن، پوری دُنیا میں چیخ و پکار
ساتھ میں 22 عالمی کرکٹ کپتانوں کا خط، گریگ چیپل کا انٹرویو۔ پوری دُنیا میں بازگشت۔
جاوید میانداد کا روتے ہوۓ عمران خان کیلئے انٹرویو۔
یہ سب قدرت کے اشارے ہیں لیکن قدرت کے اشارے صرف اُسے سمجھ آتے ہیں جسکا ایمان مضبوط ہو، جو انصاف پسند ہو، جسکا ضمیر زندہ ہو، جسے خُدا کا خوف ہو۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
As my X account has been “throttled” acc to @grok - after a deal was done between @elonmusk & the Pakistani government to lift their x ban, this is a request to UK based Pakistanis an any of those who are able to read this tweet (unlike those in Pakistan) to please RT and help get this message out.
صمد جی۔
اللہ کو حاضر ناضر جان کر قسم دیتا ہوں اس دن میرے لیڈر نے ایک بھی (لِسی ) کمزور بات نہیں کی۔ ایک لمحے کو ایک ایسا لفظ نہ بولا جس مجھے لگا ہو کہ میرا لیڈر کمزور پڑا ہوا۔ چہرے پر مسکراہٹ رہی۔ بھرپور اعتماد۔ رعب -
آخری لمحے گاڑی میں بیٹھنے لگے تو میری ایک ضد اور بار بار اصرار ہر انہوں نے مجھے ڈانٹا۔بہت ساری باتیں اگر آج کہوں تو پانی میں آگ لگ جائے۔ میں خان صاحب کے جیل سے باہر آبے کا منتظر ہوں۔ پھر سب کھول کر بیان کروں گا۔ ابھی خاموش ہوں کیونکہ میرے سچ کی وجہ سے میرے دلیر لیڈر پر اور پریشانیاں آئیں گی۔
لیکن ایک بات ہے۔ میں مڈل کلاس سے نکلا ایک عام شخص۔ اس آخری دن کپتان نے صبح 11 بجے سے رات لیٹ تک مجھے کئی مشکل ٹاسک دہیے۔ ایسے ٹاسک جس میں امانت اور integrity کا ٹیسٹ تھا۔ مجھے لگتا ہے میں نے اپنے لیڈر کو مایوس نہیں کیا۔ باقی میرا اللہ جانتا ہے۔ اور خوب انصاف والا ہے۔
اپنی اوقات سے اوپر جا کر اس دن میں کھیلا۔ شائید میری زندگی کا وہ مشکل اور بہترین اننگز تھی۔ میری اوقات سے بڑھ کر وزن میرے لیڈر نے ڈالا۔ اور اللہ نے مجھے اسے اٹھانے کا حوصلہ اور ہمت دی۔
میں نے اس دن جو جو مشورہ دیا۔ پوری ایمانداری سے دیا۔ اور بعدمیں تقریباً سب کچھ درست ثابت ہوا۔ یہ نہیں کہ مجھ میں عقل زیادہ تھی۔ نہیں۔ ہم مڈل کلاسیوں کو جو عزت دیتا ہے ہم اس کے لئے پھر سب فدا کر ڈالتے ہیں۔ اس دن میری لیڈر نے جو عزت بھرم اور اعتماد مجھے بخشا وہ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔
کوئی مجھے سے کچھ بھی چھین سکتا ہے لیکن اس دن میرے لیڈر نے مجھے اوپنر کے طور پر بھیجا۔ سوچیں دسویں یا گیارویں نمبر والے سے خان نے اوپن کروایا۔ اور میں نے جم کر بیٹنگ کی۔ کسی نے میرا بازو پکڑ دھمکی دی تو میں نے صرف اتنا کہا۔ اللہ مالک ہے۔ کوئی بات نہیں۔ میں اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا۔
کیوں کہ خدا گواہ ہے خان اس دن شاندار کھیلا۔ متانت عزت آبرو اور پوری دھج سے شوکت خانم کے بیٹے نے حالات اور فرعون کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر فیصلے کیے- میں تو بس دوسری اینڈ پر ادنا کارکن سنگل لینے والا تھا۔ یا گیند روک رہا تھا۔ چھکے چوکے تو اس دن عمران احمد نیازی نے لگائے۔ انشاللہ وقت بدلے گا۔ سب شئیر کروں گا۔
آپ سب کی محبتوں کا شکریہ۔
شاہین صاحب، یہ جعلی کہانی بہت دیر سے چل رہی ہے! بیچارے نوکری پیشہ لوگ ہیں! کمزور ہیں! حکم کے غلام ہیں! حکم آتا ہے تو جنگ شروع کر دیتے ہیں، حکم آیا تو ۱۹۷۱ میں ھتیار پھینک دیے! آرمی چیف کو فوج سمجھتے ہیں، ایک آدمی اور ادارے میں فرق نہیں سمجھتے، استعفی دینے کی ان میں ہمت نہیں! اگر ان میں اس قسم کی اخلاقی جرات ہوتی تو حالات کبھی یہاں تک نہ پہنچتے! اگر ان میں کوئی ہمت ہوتی تو ارشد شریف کے قتل کے وقت سینکڑوں استعفی سامنے آتے! یہ ڈرپوک ہیں! جو سپاہی نہتے شہریوں پہ گولیاں چلائیں، اپنے ملک کی صحافیوں کو اغوا اور قتل کریں، اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے میں لگے رہیں ان سے پرانے زمانے کی chivalry کی توقع نہ رکھیں! یہ پاکستان کی فوج نہیں رہی، یہ اب شریف خاندان کی فوج ہے!
اے مایوس اور دل گرفتہ لوگو ! اے بجھے بجھے سے چہرو ! اے الجھے ہوئے انسانو ! کیا ہے؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے؟ کوئی سرا پکڑائی نہیں دے رہا؟ کوئی امید نظر نہیں آرہی؟ عمران خان سے روا رکھا جانے والا سلوک دل چیر رہا ہے؟ خود کو قید ، خود کو بے بس محسوس کرتے ہو؟
نہیں ! تم بے بس نہیں ہو۔ تم وہ مسافر ہو جس کی منزل کبھی نہیں آئے گی ۔ تم اس ٹرین پر سوار ہو جس کا آخری سٹاپ کوئی ہے نہیں۔ یہ سفر ہی تمہاری زندگی ہے۔ کتنے ہی سٹاپ گزار دیے کیوں بھول جاتے ہو؟ ریڈ لائن والا سٹاپ؟ نومئی کے خوف کا سٹاپ؟ آٹھ فروری کا سٹاپ؟ اتنی کامیابیاں تمہارے دامن میں اور پھر مایوس بھی تم؟
مایوس تو وہ ہیں جو قدم قدم ناکامیوں کے گڑھے میں گر رہے ہیں۔ ہزار ارب ، سو ارب ، پچاس ارب ، پندرہ ارب ، بارہ ارب سب کدھر گئے؟ ملک کے پرزے پزرے کردیے ، آئین ہوا میں اڑا دیا انصاف کا نظام نالیوں میں بہا دیا لیکن پھر بھی ہر چیز برباد اور مایوس تم؟ فوجی فاونڈیشن ان کا بک گیا اور مایوس تم؟ اب انکی مایوسی کی حد وہ ہوچکی کہ اپنی سانسیں برقرار رکھنے کو غزہ جا کر مرنے مارنے کو تیار اور مایوس تم؟
جو کامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے وہ جیتے گا ، جو دھنستا چلا جا رہا ہے وہ ہارے گا۔ ہمارا سفر ہی ہماری کامیابی ہے اور انکے لیے تو ایک سوال ، ایک اعتراض ہی ناکامی ، چہ جائیکہ وہ نفرت کی حدت سے ابل رہے ہیں۔ حوصلہ رکھو ! وہ جیت نہیں سکتے ، ہم ہار نہیں سکتے۔
🚨🚨 Legend Imran Khan is now almost blind with his right eye with 15% eyesight left & still western media & shameless Pakistan's ex & current cricketers are silent!!
- Imran Khan is not just Pakistan's legend but world's legend as far as cricket is concerned. He is easily one of the top 3 pace bowling all rounder of all time & only captain to win Pakistan an ODI WC.
- He has been getting tortured in jail of Pakistan since 3 years now & getting tortured, sexually harrassed by big army officers & what not. His family is not allowed to even visit him, he is not even given proper food & medicines.
- Now latest confirmed report is that he lost 85% vision in his right eye & despite that no action taken beyond giving him eye drop. He needs urgent medical help else he could get blind completely.
- Shame on people of Pakistan who is still silent on their Army & Government running terrorist camps & torturing their greatest global icon & normal public who raised voice against this dictator army led by Asim Munir.
- Shame on Pakistan's ex cricketers who became whatever they became because of Imran Khan, shame on PCB & all their cricketers who has not spoken a word in his support out of fear of Asim Munir!!
I have seen many Indians voicing support for Imran Khan, but the Pakistani cricketers who played with him & current Pakistani cricketers are silent when he needs their support
This shows the fear of current ruling party and Pakistani military who runs the country on their own
Outraged by the ongoing imprisonment, medical neglect, and solitary confinement of former Pakistani Prime Minister Imran Khan. Reports say he has lost most of the vision in one eye due to severe medical neglect and has endured prolonged isolation, conditions that violate basic human rights and international law. The world is watching. Free Imran Khan now.
We have been informed that my father, Imran Khan, has lost most of the vision in his right eye, with reports indicating only 15% eyesight remains. This is the direct consequence of 922 days of solitary confinement, medical neglect (denied blood tests) and the deliberate denial of proper treatment in jail.
The responsibility lies squarely with the regime in power, the Army Chief and the puppets enabling this cruelty. This physical deterioration is happening under their orders, their watch and their responsibility. They have manipulated and warped the justice system in order to keep my father in solitary confinement.
My brother and I are still being denied visas to see our father as his health deteriorates. History will record this injustice.
We urge human rights bodies, legal institutions and democratic nations to confront this persecution and ensure those responsible face consequences.
قرون اولی کے مسلمانوں سا ایمان عمران خان کا ، بے سرو ساماں لڑتے مجاہدوں سی استقامات عمران خان کی ، رہبروں سی وسعت عمران خان کی ، وجاہت عمران خان کی، دور اندیشی عمران خان کی
محب وطن بھی انصافی، جمہوریت پسند بھی انصافی ، درد دل والے بھی انصافی ، سمجھدار بھی انصافی ، استقامت والے بھی انصافی، مظلوم کے ساتھی انصافی ، جبر کے خلاف آواز انصافی
پڑھنے والو !!!! دیکھنے والو!!!! دھڑکتے دلوں والو!!!!!! اس ملک میں انصافیوں اور عمران خان کے علاوہ بھی کوئی زندہ ہے؟ کوئی زندہ ہے؟ ہے کوئی زندہ ؟ ہے کوئی زندہ؟ کوئی نہیں ، کوئی نہیں۔
ہم سراپا سوال تھے ، ہم حرف شکایت تھے ، ہم خفگی اور ناراضی تھے ، ہم تو ناقد بھی بہت بعد میں ہوئے تھے۔ ہم چیختے رہے ، خدا کے لیے باز آجاؤ ، خدا کے لیے پلٹ جاؤ۔ ہم کیا ہر ذی شعور پیٹتا رہا ، الحذر ، الحذر ، الحذر۔
معیشت برباد ہوجائے گی، استحکام نہیں آئے گا ، سرمایہ کاری نہیں آئے گی ، تم خود حدت محسوس کرنے لگو گے ، صرف تمہاری ساکھ نہیں جائے گی ، تمہیں بھی اس کا ملبہ اٹھانا پڑے گا ، یہ وہ سب تھا نا؟ جو ہم کہتے رہے؟ جو ہم بتاتے رہے؟
اور تم ؟ تم فرعون بنے ، تم یزید بنے، ابرہہ کے بدمست ہاتھی۔ مارنا، پیٹنا ، گھسیٹا تم نے شغل بنا لیا۔ تم نے تشدد کو ریاست کا ہتھیار بنانے کا اعلان کیا ، تم نے سختی اور پھر مزید سختی کے سندیسے دیے۔ پھر زیادہ سے زیادہ تم نےکیا بگاڑ لیا؟
جن طاقتوں کا تم مہرہ بنے وہ تمہیں ہر چال میں مروا رہی ہیں۔ تمہارے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ رہی ہیں۔ تمہارا وہ ادارہ بکا جو تم نے اپنے شہیدوں کے ورثاء کی کفالت کے لیے بنایا تھا۔ تم کرہ ارض کے مظلوم ترین انسانوں کی نسل کشی کو پر تول رہے ہو۔ تم عوام کی ایڑیوں سے چپکے ہوئے ہو۔
اعداد و شمار سمجھنا تمہارے بس کا روگ ہی نہیں۔ ہر چیز میں تنزلی ہر شعبےمیں بربادی۔ تمہارا ایک ایک دعویٰ جھوٹ ثابت ہوتا رہا۔ ایک ایک وعدہ جھوٹا۔ کوئی روپیہ ، ٹکہ اور دھیلا تمہیں نہیں ملا۔ تم جنکی کی جھولیوں میں چڑھنے کو بے تاب تھے وہ تمہیں بھگا بھگا کر مارتے رہے۔
ابھی بھی تم وہیں ہو۔ اسی ڈگر پر ، اسی فلسفے پر۔ لیکن اب ہم چیختے چلاتے نہیں ہیں ، سوال نہیں کرتے ، خفگی اور ناراضی بھی ہوا ہوئی۔ جب سے نفرت ہوئی ہے تب سے ہم سکون میں ہیں۔ تمہاری بند ہوتی سانسوں کا اپنی آنکھوں سے تماشا دیکھتے ہیں۔ تم آہستہ آہستہ دلدل میں اتر رہے ہو اور ہم دیکھے چلے جارہے ہیں۔
اب تو ہم دعا کرتے ہیں کہ تمہیں کہیں سمجھ نا آجائے۔ تم کہیں پلٹ نا جاؤ۔ اب ہمیں تمہاری مکمل بربادی دیکھنی ہے۔ مکمل تباہی۔ مکمل نفرت۔ مکمل صفایا۔ وہ ہمیں سامنے صاف صاف نظر بھی آرہا ہے۔ تمہارے رستے تم نے خود بند کیے۔ ہمارے رستے ہمارا اللہ کھولے گا۔
تم جیت نہیں سکتے ہم ہار نہیں سکتے!
ہ
میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے میرے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے میرے لوگوں کو مجھ سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت اپنے لوگوں کے تمام مسائل حل کرنے میں انشاءاللہ کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ یہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے اور میں انشاءاللہ ثابت بھی کرونگا۔
ہم پر زبردستی مسلط کی گئی دہشتگردی، بند کمروں کے فیصلوں میں بدمعاشی سے جاری کردہ ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کا مجبورا انخلاء، ان تمام مظالم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کاموں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی مداخلت کی جا رہی ہے۔ تمام پروسز کو آہستہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی رجسٹریشن نادرا کر رہا ہے جوکہ وفاقی ادارہ ہے وہاں سے رجسٹریشن میں جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار چیکنگ اور آنکھ کا سکینر لگا کر لوگوں کو ویریفائی کرنے میں وقت ضائع کر کے لوگوں کو پریشان کر رہےہیں۔ گھنٹوں کا کام دنوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ تنگ ہو۔
مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے” اپنے اچھے لوگوں”کو متاثرہ لوگوں میں گھسا کر اُن کو اکسا رہے ہیں۔ تیراہ کے لوکل ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور میرے بڑے بھائی جب وہاں پہنچے تو اپنے ٹاؤٹس سے اُن کی بے عزتی کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ واپسی میں اُن کے لیے سڑک بند کر کے راستہ تبدیل کروانے پر اُن کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا۔ “اچھے لوگوں”راستے میں گاڑیاں کھڑی کر کے جان بوجھ کر سڑک پر رش بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام غصہ کرے اور منتخب نمائندوں کو بُرا بھلا کہے۔
دہشتگردی کی جنگ بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نیت ٹھیک ہونی چاہیئے اور اعتماد کو بحال رکھنا چاہیئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر مستقل اور پائیدار امن نا ممکن ہے۔ بند کمروں کے فیصلے زبردستی مسلط کرنے کے پیچھے ہمیشہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگے میں خیبر پختونخوا کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کیں ان پر عمل کروا کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے-
بند کمروں میں فیصلے کرنے والے ذرا نیچے دی گئی تصویر دیکھیں۔عمران احمد خان نیازی صاحب کو ختم کرنا سب کا ادھورا خواب رہ جائے گا۔ یہ عشق اب کئی نسلوں تک پہنچ چُکا ہے۔ جو کبھی بھی انشاءاللہ مٹ نہیں پائے گا!!
ڈاکٹر شہباز گل ؛ ایک تبصرہ انجینئر محمد علی مرزا پر ، ایک نجم سیٹھی پر۔ صفر تبصرہ عمران خان کی قید تنہائی پر۔ صفر پوسٹ اڈیالہ کے باہر عاصم منیر کی غنڈہ گردی پر۔ آخری ولاگ کے تھمب نیل میں عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
عمران ریاض خان ؛ تین تبصرے محمد علی مرزا پر ، ایک افغانستان پر ایک پیپلزپارٹی پر۔ عمران خان کی قید تنہائی پر کوئی ٹویٹ نہیں۔ آفر پوسٹ اڈیالہ کے باہر غنڈہ گردی پر۔ آخری دو میں سے ایک ولاگ کے تھمب نیل میں انجینئر ۔ ایک میں اڈیالہ کے باہر ظلم کی روداد ، عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
صابر شاکر ؛ مبشر زیدی کی سالگرہ ، اے آئی ویڈیو اور افغانستان پر پوسٹس۔ چند عدد پوسٹس اڈیالہ پر اور صفر پوسٹس عمران خان کی قید تنہائی پر۔ آخری ولاگ کے تھمب نیل میں فیلڈ مارشل کا خفیہ خط لیک کی جھوٹی سنسنی ، عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
عادل راجہ ؛ ایک پوسٹ مرزا انجینئر پر ، ایک پوسٹ افغانستان پر ، ایک پوسٹ ایرانی صورتحال پر ، صفر پوسٹ عمران خان کی قید تنہائی پر۔ آخری دو ولاگز کے تھمب نیلز میں ایران۔ عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
معید پیرزادہ ; ایک پوسٹ اڈیالہ کے باہر کی صورتحال پر ایک میں کچھ ملا جلا سا تبصرہ۔ آخری ولاگ کے تھمب نیل میں اڈیالہ کے باہر احتجاج کا ذکر عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر نشتہ۔
صدیق جان ؛ آپ کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ آپ کے ایکس اور یوٹیوب دونوں پر اڈیالہ و عمران خان کی قید تنہائی کا ذکر موجود ہے۔ آپ سے گزشتہ گستاخیوں پر معذرت۔
تبصرہ ؛ جناب ولاگران و انفلوئنسران، یہ ایک غلط رویہ ہے۔ کوئی کیا کہنا اور بولنا چاہتا ہے یہ اسکی مرضی۔ لیکن یہاں اتنا غلط ہورہا ہے ، اتنا غلط ہورہا ہے ، اتنا غلط ہورہا ہے کہ کچھ نا کچھ غلط ہمیں بھی کرنا پڑے گا۔ عمران خان کی قید تنہائی اس قدر طویل ہوگئی ہے اور اس قدر نارمل بنا دی گئی ہے کہ اب ہمیں یہ رپورٹ کارڈز جاری کرنا ہی پڑیں گے۔ آپ کا اپنی پذیرائی اور اپنے انفلوئنس کے بارے میں کیا خیال ہے اسکا مجھے علم نہیں ، میرا یہ ماننا ہے کہ اس اکاونٹ کی پذیرائی کے پیچھے سب سے بڑا اور غالب فیکٹر عمران خان اور اسکے چاہنے والے یوتھیے ہیں۔ لہذا یہ اکاونٹ عمران خان اور یوتھیوں کا مقروض ہے۔ اسے یہ قرض اتارنے کے لیے استعمال کیا جاوے گا۔
اگلی فرصت میں اس طرح کے رپورٹ کارڈز تحریک انصاف کے بڑے بڑے رہنماؤں اور سیاسی کمیٹی کے ممبران کے بھی جاری ہوں گے۔ جو عمران خان کا ذکر نہیں کرتا یا کرنا چاہتا ہم اس کا ذکر کریں گے اور خوب کریں گے۔ غلط ہے۔ لیکن مجبوری ہے۔