چیخنے چلانے کی بجائے اسی طرح منطق دلیل اور تاریخی حقائق سے آئینہ دکھانا قومی اسمبلی میں یہی ایک پارلیمنٹیرین کا اصل کام ہے
ویلڈن بیرسٹر گوہر کمال 👌
ڈان لیکس والے یہ تھے پانامہ والے یہ تھے آپ کے لیڈر جو کو ابھی صدر بنایا میمو گیٹ والے یہ تھے خود وکیلوں کا لباس کر کیس کرنے والا نواز شریف تھا
آگے بھی سنیں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوفِ خدا اور عاجزی کا بے مثال واقعہ
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چند صحابۂ کرام کے ساتھ کسی اہم کام کے لیے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک ضعیف خاتون نظر آئیں۔ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی کمر جھک چکی تھی اور وہ لاٹھی کے سہارے آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔
انہوں نے بلند آواز سے پکارا:
"اے عمر! ذرا ٹھہرو!"
یہ آواز سنتے ہی امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً رک گئے۔ بڑھیا نے قریب آ کر کہا:
"عمر! میں تمہارے وہ دن بھی جانتی ہوں جب تم مکہ کی وادیوں میں اونٹ چرایا کرتے تھے۔ گرمی کی شدت میں سارا دن محنت کرتے، پھر بھی کبھی اپنے والد خطاب کی ناراضی اور سرزنش کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔"
پھر انہوں نے کہا:
"مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے جب لوگ تمہیں 'عمیر' کہہ کر پکارتے تھے۔ اور آج وہ وقت آ گیا ہے کہ لوگ تمہیں 'امیرالمؤمنین' کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔"
یہ کہنے کے بعد انہوں نے نہایت نصیحت بھرے انداز میں فرمایا:
"اے عمر! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اپنی رعایا کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھو۔ حکمرانی کا منصب حاصل کرنا آسان ہے، لیکن لوگوں کے حقوق ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ قیامت کے دن ہر حق دار اپنے حق کا مطالبہ کرے گا، اس لیے کسی کے حق میں کوتاہی نہ کرنا۔"
یہ الفاظ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔
ساتھ موجود بعض صحابہ نے اس خاتون کو اشارہ کیا کہ اب کافی وقت ہو گیا ہے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً انہیں روک دیا اور فرمایا کہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے دو۔
جب وہ خاتون وہاں سے چلی گئیں تو ایک صحابی نے عرض کیا:
"امیرالمؤمنین! یہ خاتون کون تھیں جن کے لیے آپ اتنی دیر تک رکے رہے؟"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
"کیا تم جانتے ہو یہ کون تھیں؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ وہ عظیم خاتون جن کی فریاد سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں آیات نازل فرمائیں۔"
پھر آپ نے فرمایا:
"اگر یہ خاتون ساری رات بھی مجھے نصیحت کرتی رہتیں تو عمر یہاں سے نہ جاتا، سوائے نماز کے وقت کے۔ جس عورت کی بات اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کے اوپر سے سنی، عمر اس کی بات سننے سے کیسے انکار کر سکتا ہے؟"
سبق:
عظمت منصب سے نہیں بلکہ عاجزی سے پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص جتنا بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے اور نصیحت قبول کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حق بات سننے میں کبھی تکبر نہیں کرنا چاہیے، چاہے کہنے والا کوئی کمزور اور بے سہارا شخص ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو جواب دہی کا احساس رکھتا ہو اور لوگوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو۔
(اسلام میں امانت داری کی حیثیت اور مقام، ص ۱۸)
Connected Pakistan revolutionary Housing Scheme Launched! 🏠🇵🇰
No more jaidaad batwara jhagra in family n drama, taxes, or paperwork
entire country will be connected through universal state ownership of all houses
You will finally feel like you’re living in DHA because everything will be named DHA
🚨شریف کی کھرب پتی ہونے کا ایک اور پول کھل گیا
شریفوں کے والد لوہار کے بعد برف کا کاروبار برف کے خریدار بزرگ شہری نے قصہ ہی تمام کر دیا پٹواریوں کا
اور پٹواری انکی تصویر 5 ہزار روپے نوٹ پر لگوانا چاہتے ہیں درے ف ٹے ۔۔
قوم فرح گوگی کو بھول جائے، کیوں کہ اس نے شاید ایک فیصد بھی کرپشن نہ کی ہو جو ن لیگ کے وزرا نے انت مچائی ہوئی ہے، ن لیگ کی حمایت کرنے والے میاں داؤد نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا
جس معاشرے میں انصآف نہیں ملتا, وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہے!!
مقتول بابر شاہ کا والد غریب بائیکیا رائیڈر انصاف کیلئے میدانِ محشر کا منتظر۔
عدالت سے قاتل کی رہائی کے بعد قاتل نے مجھے دیت دینے کی پیشکش کی۔ مجھے دیت نہیں قصاص (جان کے بدلے جان) چاہئے۔
نو جون 2022ء چٹو دی گلی میں میرے بیٹے سید بابر شاہ کو ظالمانہ طریقے سے قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔
چار سال تک عدالتوں کے چکر لگاتا رہا۔ شام کو تاریخ پر تاریخ دے دی جاتی۔
میرے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے آخر کار میرے بیٹے کے قاتل کو باعزت بری کر دیا گیا
افغانستان میں لڑکیوں کو آن لائن تعلیم دینے پر خاتون استاد پر سرِعام تشدد جہالت کی انتہا ہے۔ نام نہاد دین کے ٹھیکیداروں کا یہ عمل انسانیت کی توہین ہے۔ بیٹیوں کی تعلیم بنیادی حق ہے، اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں!
#GirlsEducation#StopViolence#HumanRights
ایک بےبس باپ کی درد بھری دہائ ۔۔ 💔
جس کے بیٹا بائیکیا تھا ۔ اس کو 2022 میں قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔ لیکن عدالت نے مجرمان کو سزا دینے کی بجائے باعزت بری کر دیا ۔
لعنت ہے اس نظامِ انصاف پر ۔۔ ہزار لعنت !!
ہزارے کی اس اماں کو آج سے پچاس سال قبل کراچی لیاری سے اغ*واء کیا گیا تھا
انکو گھر میں پیار سے ڈوڈو کہہ کر پکارتے تھے،والد کا نام کالو خان مشہور تھا۔
اماں بتاتی ہے کہ انکی عمر دس سال تھی کراچی کے علاقے لیاری میں ایک گندے نالے پر انکا گھر تھا۔ چاکیواڑہ کا نام انکو یاد ہے۔
انکے گھر میں حمیدہ نامی ایک خاتون آئی اپنے ساتھ چاول لائی تھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میری بھابھی برتن دھونے میں مصروف تھی۔ خاتون چاول لائی میں نے کھائے، پھر مجھے اس نے کہا چلو بیٹا کھڈا مارکیٹ تمہارے ابو کی دوکان پر چلتے ہیں! میں ساتھ ساتھ گئی تو دو گلیوں بعد مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا اور میں چاول کھانے کے بعد سے نیم بےہوش تھی۔
مجھے کراچی سے گھنٹوں دور لیکر گئے۔میں دن رات روتی تھی کہ گھر جاونگی وہ مجھے مارتے ڈراتے اور راتوں کو سلانے کے لئے دو دو نیند کی گولیاں کھلاتے۔ دس سال تک مجھے انہوں نے اپنے پاس رکھا مجھ سے دریا/سمندر کنارے مزدوری کروائے۔ میں کراچی میں تھی لیکن ہمارا اصل علاقہ ہزارہ ہے۔
میں مچھلی اور جھینگے کی بدبو میں بالکل برداشت نہیں کرسکتی تھی لیکن مجھ سے زبردستی انکی صفائی کام کرواتے تھے۔
دس سال بعد مجھے کسی اور جگہ بیچ دیا گیا۔پھر میری شادی ہوئی اور آج تک اپنوں کو یاد کرکے روتی رہتی ہوں۔
ڈوڈو نے اپنے والد کا نام نام کالو خان سے مشہور بتایا،والدہ گلاب جان،تین بھائی امین،شفیع اور جاوید تھے۔
ایک بہن تھی جسکو پیار سے جانے بولتے تھے۔
والد کالو خان کھڈا مارکیٹ میں مٹھائی کی ایک دوکان میں کام کرتے تھے۔مٹھائیوں کا کام جانتے تھے۔ مٹھائی کی دوکان ذاتی تھی یا کسی اور کی یاد نہیں۔
شاید انکا گھر چاکیواڑہ میں تھا۔
اماں کہتی ہے کہ ہم جب کراچی آرہے تھے تو مجھے یاد ہے ہزارے میں ہمارا گاؤں تھا۔(ہری پور کا نام بھی اماں نے لیا)۔ہم اپنے گھر سے پیدل چل کر بیڑ/ نامی ایک علاقے میں آتے تھے۔یہاں ہوٹل میں کھانا کھاکر بس میں کراچی کے لئے بیٹھ جاتے۔ بیڑ علاقے میں اماں کو لکڑی کا ایک پل یاد ہے۔ وہ پل ہم نے گوگل سے نکال کر دکھایا تو اماں کی آواز بند ہوگئی اور چہرے پر موبائل کی روشنی سے آنسوؤں کی لڑی چمکتی نظر آئی۔
کراچی چاکیواڑہ یا اطراف میں نالے پر اگر رہائش تھی تو وہ تمام گھر شاید سرکار نے خالی کروادئیے ہیں۔بیڑ میں انکا خاندان ملنا ممکن ہے۔
ماموں کا نام علی الزمان تھا اور ان کے بیٹوں کے نام فرمان،زعفران ہیں۔
چچا کا نام خانو تھا۔ خانو کے بیٹے کا نام عظیم اور مسکین ہے۔
بھانجے کا نام نواز، مشتاق اور ریاض۔۔
لیاری میں نالے کے پاس انکی پھوپھی بھی رہتی تھی۔جنکا نام زرینہ تھا۔ زرینہ کے دو بیٹے تھے ممتاز اور سلیم۔ ممتاز چونے کے کھلونے بناکر کھڈا مارکیٹ میں بیچتا تھا۔
اماں کو جب بیڑ میں لکڑی کا پل موبائل میں دکھایا تو بیٹے سے کہنے لگی یہ تصویر اپنے موبائل میں رکھو میں صبح شام دیکھتی رہونگی میرے دل تو سکون ملتا رہےگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا ماں جی کو اپنوں سے ملانے میں ہمارا ساتھ دیں۔انکے گاؤں یا کراچی سے ضرور انکا خاندان مل سکتا ہے۔آپ کا ایک شئیر آپکو بےشمار دعاؤں کا حقدار بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
21 june 2026
#waliullahmaroof
قیامت کے بازار میں کسی سودے کی اتنی قیمت نہیں ہوگی جتنا ضرورت مندوں کا خیال رکھنے اور غمزدہ دکھی دل خوش کرنے کی قیمت ملے گی
اس بچے نے یتیمی میں آنکھ کھولی انتھائی غریب فیملی ھے ان کی کافی عرصے سے ھیلپ کررھے ھیں
اللہ پاک کسی کو یتیمی کا دکھ نادے
قیصر سوانسی 03026350690
اس نوجوان کا نام راشد ہے والد کا نام عبدالرزاق ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ شاید سال 2000 سے 2004 کے درمیان کسی سال میں یہ کم عمری میں گھر سے نکلا تھا راستہ بھول گیا آج تک گھر نہیں لوٹ سکا۔
راشد کا کہنا ہے کہ انکی فیملی گاؤں سے کراچی شفٹ ہوئی تھی۔ کراچی میں سال مکمل ہونے سے قبل وہ گم ہوا تھا۔
کراچی میں جہاں رہائش تھی گھر والوں کے ساتھ کبھی کبھی پہاڑی کی طرف گھومنے جاتے تھے۔ مدرسے سے کسی رشتےدار کے ہاں گیا تھا پھر وہاں سے اپنے گھر جانے کے لئے بس میں بیٹھ گیا کسی انجان جگہ پہنچا جہاں پولیس نے ریسکیو کرکے ایک شیلٹر میں داخل کردیا تھا۔ وہ دن آج کا دن راشد اپنوں سے جدا ہے۔
راشد کو والد کا نام عبدالرازق یاد ہے۔والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔
یہ اکلوتا بھائی تھا۔ تین بہنیں تھیں۔بڑی بہن گونگی تھی ،دوسری بہن کا نام عائشہ اور تیسری کا نام رمشہ تھا۔
والد مستری کا کام کرتا تھا۔گھر میں اردو بولتے تھے۔
کراچی میں گھر کے قریب پاپے بنانے والی فیکٹری تھی۔پندرہ منٹ کے پیدل فاصلے پر پہاڑی تھی۔
ایک طرف راشد کی حالیہ تصویر ہے اور دوسری طرف بچپن کی۔
راشد والدین کا اکلوتا بیٹا تھا نجانے ماں اپنے شہزادے کے لئے کس کرب سے گزری ہوگی۔ جس بیٹے نے بڑے ہوکر ماں باپ کا سہارا بننا تھا وہ بھری جوانی میں لاوارث ہے ۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ ایک بچھڑا ہوا شہزادہ اپنوں کو مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج ہمارے فون نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
20 june 2026
#waliullahmaroof
اٹلی کی وزیر میلونی نے ٹرمپ کا ڈرم بجا دیا ہے
عمران خان دنیا کا سب سے بڑا لیڈر ہے
ٹرمپ یاد رکھیں اٹلی اور جارجیا میلونی بھیک نہیں مانگتے ان کے من گھڑت بیانات اور اتحادیوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ ناقابلِ قبول ہے یہ پہلی بار نہیں مگراب حد ہو چکی ہے 🔥✌️