12 اکتوبر ہے۔ آج ہی کے دن 1999 میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا۔ اس کا انجام کیا ہوا، وہ دنیا نے دیکھا۔ لیکن اُس وقت میری پارٹی کا سربراہ مجھے تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وہ نہ بھاگتا تو شاید وہ مارشل لا زیادہ دیر نہ چلتا۔ تمام اپوزیشن، خصوصاً بینظیر بھٹو، نے اس مارشل لا کا خیرمقدم کیا۔ تقریباً سب نے مٹھائیاں بانٹیں۔
میں نے تنہا اس مارشل لا کا مقابلہ کیا۔ آج کے نام نہاد وزیر نے سعودی عرب اور دبئی میں نوکریاں لے لیں۔ مجھے 23 سال کی سزا ہوئی۔ مجھ پر تشدد بھی ہوا۔ میرے ساتھ سیل میں موجود لوگ جان کی بازی ہار گئے۔
ہم نے مقابلہ کیا، لڑ گئے، اور پھر وہ ڈکٹیٹر مرتے دم تک ملک میں قدم نہ رکھ سکا۔
آج اُس سے کئی گنا برا مارشل لا ہے۔ لیکن آج کے دن بھی، 27 سال بعد، اسلام آباد میں 111 بریگیڈ نافذ ہے۔
فرق اتنا ہے کہ آپ کا لیڈر ڈٹ کر ایک ڈکٹیٹر کا مقابلہ کر رہا ہے۔ وہ اس ڈکٹیٹر کو ہرا رہا ہے، اسے خوف زدہ کیے ہوئے ہے۔ اس کا کارکن بھی آج قربانیاں دے رہا ہے۔
میرے پاکستانیوں! اس کی اس قربانی کو رائیگاں نہ جانے دینا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے۔
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
Either you surrender or you fight for your freedom till death.
What will we do? My belief is La Ilaha Illallah there is no God but one, and we will fight!
سہیل آفریدی
Arrested but not defeated
گورنر مالک مشرقی پاکستان میں بھی راج کرتا تھا، مگر آخر اُسے اپنی جوتی چھوڑ کر وہاں سے بھاگنا پڑا۔ پھر بھاگتا ہوا پکڑا گیا اور جیل میں اُسے موت آ گئی۔ اُس کے پیچھے جو فوج تھی، اُسے کیسے سرنڈر کرنا پڑا، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔
ملک کے حالات تو خراب ہیں، مگر اُس سے بھی زیادہ عاصم منیر کے حالات خراب ہیں۔ پاکستان کے ہر شہر کے ہر جنکشن پر پولیس تعینات ہے۔ اتنا ڈرا اور خوف زدہ کسی فاشسٹ ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
تاریخ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر ایمرجنسی تب لگاتا ہے جب وہ اپنا اقتدار جاتا دیکھ کر بےبس ہو جاتا ہے اور خوف میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ مشرف اور اندرا گاندھی کی ایمرجنسی تمہارے سامنے ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد انہیں اپنا اقتدار کھونا پڑا۔
دہشت گرد تم بناؤ، دہشت گردی تم کرو، ان کے ساتھ فکس میچ کھیل کر پھر ایمرجنسی لگاؤ۔ کیا عوام نہیں جانتی کہ دہشت گرد کون ہے! تم اس اقدام کو چند دن کے لیے بھی ہضم نہیں کر سکو گے!
The countdown has begun
پاکستان کے جتنے دشمن ہیں، خصوصاً یہ جرنیلی مافیا کان کھول کر سن لو!
میرے مرنے کی خبریں چلانے سے کام نہیں بنے گا! میں تمہیں مار کے مروں گا۔ یہ مہلت میں نے اللّٰہ تعالیٰ سے مانگی ہوئی ہے۔
محاصرے میں دوسرا دن۔
عاصم منیر تمہارے پاس کیا جواز ہے۔ تمہاری وجہ سے عوام فوج سے نفرت کرتی ہے!
میں اس جرنیلی مافیا کا آخری دم تک مقابلہ کروں گا۔ یہ اس قوم کو نوچ کھا رہے ہیں۔
عاصم منیر چلے جاو۔ ورنہ بے آبرو ہو کر نکل دیئے جاو گے۔
میں اپنی بیٹی جویریہ کے گھر میں نظر بند ہوں۔ میرے 5 اور 7 سال کے نواسوں، محمد اور اسماعیل کو آج سکول جانے سے روک دیا ہے۔ بجلی کال سے کاٹ دی ہے، کھانا پینا تو دور کی بات، پانی کا گلاس تک گھر کے اندر نہیں آسکتا۔
دشمن کے بچوں کو تو پڑھانے کا شوق تمہیں ہے۔ کیا تم میرے بچوں کو اُن سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہو؟
اپنی بیٹی آمنہ ہاشمی کے ہمراہ گھر سے روانہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔
Sunan Abi Dawud 4344
ابھی میری بیٹی اور داماد کے گھر جو کہ 9 نمبر چونگی کے ساتھ ہے وہاں پر پولیس کی ڈنڈہ بردار نفری اور پریزن وین موجود ہے۔ ابھی آئی ایس آئی اور لیڈی پولیس بھی پہنچ گئی ہے۔
مخدوم رشید، پورے شہر میں ISI دندناتی پھر رہی ہے۔ میرے رشتے دار جو مخدوم شہباز شاہ جو، بستر مرگ پر ہیں انہیں اٹھا لیا ہے۔ میرے ملازموں کو انکے گھروں سے اٹھا لیا ہے، میرے خاندان کے بچوں تک کو اٹھا لیا ہے! تمہارا زور صرف کمزور پر چلتا ہے؟
میرا جو کر سکتے ہو کر لو! میں تو نکلوں گا!
فورسز، ایجنسیاں میری بیٹی کے گھر کے باہر موجود ہیں۔ پوری آبادی کو تم نے پریشان کیا ہوا ہے۔ لوگوں کا کیا قصور ہے؟
میرے داماد، بیرسٹر شاہزیب ہاشمی، کو انہوں نے پاکستان ٹاؤن کی مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ جتھوں کی صورت میں آئی ایس آئی اور فورسز موجود ہیں۔ میرے داماد شاہد بہار کے کمرے کے باہر بیٹھے ہیں۔ جو دیواریں، جو گھر یہ گرا کر گئے ہیں، ان کے اوپر یہ دندناتے پھر رہے ہیں، جیسے کوئی بڑی چیز فتح کر لی ہے۔
میرے رشتہ دار مخدوم شاہد ہاشمی جو شہر میں رہتے ہیں ان کو فیض ٹاؤن سے اٹھا لیا ہے۔
دوسروں کو انتشاری کہنا بند کرو، تم خود انتشاری ٹولہ ہو۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
لانگ مارچ بھرپور طریقے سے اپنی منزل کی جانب رواں ہے۔ میں ایوب خان کے خلاف مارچ سے لے کر کئی مارچوں کا حصہ رہا ہوں۔ مگر حقیقتاً ان سب مارچوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرنیلی سپورٹ موجود ہوتی تھی۔
عمران خان کا مارچ پہلا اور حقیقی جمہوری مارچ ہے۔ یہ قوم کی آزادی کا مارچ ہے۔ یہ جہاد ہے! عوام نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔
میں جمہوریت کی پہلی صف کا سپاہی ہوں۔
جب نواز شریف بہانے بنا کر بھاگ جاتے تھے، میں اکیلا لڑا ہوں۔
آج عمران خان ڈٹ کر کھڑا ہے۔ کیسے اس کا ساتھ نہ دوں؟
عاصم منیر، تمہیں یا تو خود جانا پڑے گا یا اتار دیے جاؤ گے۔ جانا تو اٹل ہے۔
انشاءاللہ ملتان سے مارچ کا آغاز کروں گا۔
عمران خان، تمہیں قدرت نے 25 کروڑ لوگوں کو آزاد کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے، اور تم اسے جوانمردی اور دلیری سے نبھا رہے ہو۔
تم جانتے ہو، اکیلے تم نے آزاد نہیں ہونا۔ تمہارے ساتھ 25 کروڑ پاکستانیوں نے آزاد ہونا ہے۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔
Happiest Birthday Imran Khan
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
میرے کل کے ٹویٹ پر ہونے والا ردِعمل میں نے دیکھا۔ جو بات میں نے کل کی، وہ میں روزانہ کرتا ہوں۔
اس پر آنے والے ردِعمل اور کمنٹس پڑھے۔ عوام کی نبض اور دل کی بات یہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عاصم منیر کو میری بات سمجھنی چاہیے کہ عوام نے اتنا ردِعمل کیوں دیا۔
آج میرے مرحوم بھائی کے فارم کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔
لگ رہا ہے کہ آج رات مجھے گرفتار کر لیا جائے۔ پولیس کے جتھے میرے گاؤں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
میں تیار بیٹھا ہوں۔ آؤ اور کر لو گرفتار!
لیکن ضرور سوچنا کہ اس ٹویٹ سے بھونچال کیوں آیا اور حقیقت میں عوام کی رائے کیا ہے۔
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.