اب تو نون لیگ کے اپنے رکن اسمبلی امجد علی جاوید بھی شرمندہ کر رہے کہ ایم اے ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو 8ہزار تنخواہ دے رہے یہ تو اس اسمبلی کے بنائے کم سے کم اجرت والے قانون کے بھی خلاف ہے
وزیرتعلیم کوئی شرم کوئی حیا ؟
آٹھ ہزار تنخواہ مذاق ہے
بات مفت پیٹرول اور ججز کی نہی ہے پاکستان کی حکمران الیٹ ہر طرح کے وسائل مکمل نچوڑ لیتی ہے آپ ان کا رہن سہن دیکھو آپ ملک میں دولت کی تقسیم دیکھو آپ یہ لوگ وسائل پر قابض ہیں اور اس وجہ سے پاکستان کے کروڑوں لوگ بہت غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
پاکستان میں اصل لڑائی اصل مسلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے
گندم کی قیمت عام کسان کو بہتر نہی دینی ہے وہاں بھی ٹھیکداری نظام لے آئے خریداری کے لئے ٹھیکیدار کو قرضہ بھی دیا گودام بھی سرکار کے دیے اور سود کا ستر فیصد بھی حکومت نے دیا اب ہر مہینے بیس ارب کی سبسڈی بھی دے رہے مگر یہ سارا پیسہ کسان کو براہ راست دینے میں کیا ہرج تھا؟
یہ سب کر کے بھی آج آٹے کا بحران سر پر گندم مہنگے زرمبادلہ پر باہر سے منگوائیں گے اس سب تجربے کا کیا فائدہ ہوا ؟
یہ اپ سے احتجاج کا حق بھی چھین لیں گے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا تھا
ستھرا پنجاب کے ٹھیکہ دار اربوں پتی ہوگئے لیکن مزدوروں کو تنخواہیں تک نہیں مل رہی ہیں اور اب تنخواہوں کیلئے احتجاج بھی نہیں کرسکتے
لاہور کی جی سی یونیورسٹی میں داخلہ لینا طلباء کا خواب ہوتا تھا پاکستان کی تمام جامعات میں سب سے ہائی میرٹ جی سی کا ہوتا تھا، اس بار جی سی یونیورسٹی کے بارہ شعبوں میں سیکنڈ ڈویژن والوں کو بھی بی ایس میں داخلہ ملا ہے اور ابھی اگلی لسٹ آنی ہے۔
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سات شعبوں میں تو تھرڈ ڈویژنرز کو بھی داخلہ مل گیا ہے۔ بی ایس کی 6000 سیٹیں ہیں۔ پہلی میرٹ لسٹ لگنے کے بعد 4500 سیٹیں خالی رہیں۔ لاہور کی ویٹرنری یونیورسٹیدکے پروفیسرز سوشل میڈیا پر داخلوں کے لیے ویڈیو پیغام دے رہے ہیں۔۔۔۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بھی ساری نشستیں پر نہیں ہوئی تھیں ۔
دوسری طرف سی ایس ایس کے امیدواروں کی تعداد چار سال میں آدھی ہوگئی ہے۔
یہ کس بات کے آثار ہیں ؟
کیا پاکستان کے نوجوان ملکی معاشی نظام سے مایوس ہوچکے؟؟
لاہور کے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی(جی سی یو) میں کبھی بہت اونچی فرسٹ ڈویژن والوں کو ہی داخلہ ملتا تھا، اب بارہ شعبوں میں سیکنڈ ڈویژن والوں کو بھی بی ایس میں داخلہ ملا ہے اور ابھی اگلی لسٹ آنی ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سات شعبوں میں تو تھرڈ ڈویژنرز کو بھی داخلہ مل گیا ہے۔ بی ایس کی 6000 سیٹیں ہیں۔ پہلی میرٹ لسٹ لگنے کے بعد 4500 سیٹیں خالی رہیں۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بھی ساری نشستیں پر نہیں ہوئی تھیں ۔دوسری طرف سی ایس ایس کے امیدواروں کی تعداد چار سال میں آدھی ہوگئی ہے۔
یہ کس بات کے آثار ہیں ؟ سینیر صحافی.اسلم ملک
پاکستان میں جس کے نام کے ساتھ “فورس” لگ جائے وہ پھر خود کو انسان نہی سمجھتی اور عوام کو تو وہ حقیر ترین جانور سے بدتر سمجھتی ہے
مریم نواز صاحب کا شکریہ پنجاب میں اپنا کاروبار کرنے والے اسی بے عزتی اور بربادی کے مستحق ہیں انکو یہ ویڈیو خود پوسٹ کرنی چاہئے https://t.co/NPd8uRNPFo
سرکاری اسکول ناکام نہیں...
پالیسی ناکام ہے!
آسامیاں خالی رکھو...
سہولیات نہ دو...
پھر کہو: "اسکول نہیں چل رہے!"پالیسی ساز اے سی میں،استاد ایک پانچ جماعتیں پڑھائے!نجی اسکول آزاد...
سرکاری اسکول پابندیوں میں!
پھر بھی قصوروار استاد؟
ایک رائے یہ لکھی جاتی کہ مرکز میں چاچو کی حکومت کی وجہ سے پنجاب میں مریم کی کارکردگی بھی کوئی اثر نہی دیکھا رہی جبکہ پنجاب سے دوستوں نے بتایا کہ پنجاب میں جو لوکل ٹیکس مریم نے لگائے وہ بھی نون لیگ کو مکمل تباہ کر دیں گے واسا کے بل بہت زیادہ ہیں ای چالان دس دس ہزار ہیں ٹوکن فیس جائداد کے ٹیکس سب بڑھ چکے ہیں چار سو ارب کا ایکسٹرا ٹیکس اس سال پنجاب پر لگنا ہے
چاچو اور مریم دونوں ملک کا خسارہ پنجاب کی عوام کی جیب سے پورا کرنا چاہتے ہیں
ضلع صوابی کے رہنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان جب اپنے گاؤں جا رہے تھے، تو انہوں نے راستے میں ایک نہر کے پاس دل دہلا دینے والا منظر دیکھا۔ ایک تین سال کا معصوم بچہ نہر میں ڈوب گیا تھا اور اس کے گھر والے اسے مرا ہوا سمجھ کر رو رہے تھے۔
ایسے میں کامران نے فوراً اپنی ڈیوٹی کا فرض نبھایا اور بچے کو مصنوعی سانس (سی پی آر) دینا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر کی کوشش کے بعد بچے کی سانسیں واپس آ گئیں اور اس کی جان بچ گئی
پنجاب میں اس وقت جبر اپنے عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ جو بھی اپنے آئینی اور قانونی حقوق کی بات کرتا ہے، اس کے خلاف طاقت کا استعمال، گرفتاریوں اور تشدد کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ آج صفائی کے شعبے سے وابستہ محنت کش بھی اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلے، مگر ان کے مطالبات سننے کے بجائے انہیں گھسیٹا گیا،
یہ بھی بتا دیں کہ 2 سالوں میں کتنی ہزاروں سیٹیں بھی اپ اساتذہ کی ختم کر چکے
2017 کے بعد 9 سال میں پنجاب کے سرکاری سکولز میں ایک بھی باقاعدہ بھرتی نہیں ہوئی یہ بھی بتائیں
یہ بھی بتائیں کتنے سکول آؤٹ سورس کر چکے آپ
یہ بھی بتائیں کتنے سکولز میں اساتذہ کم ہیں فرنیچر کم ہیں کمرے مکمل نہیں سب بتائیں
پہلے مہینہ بعد پیٹرول بڑھتا تھا پھر پندرہ دن ہوا اس کے بعد آٹھ دن بعد اور اب فرعون کی اولادوں نے روزانہ پیٹرول مہنگا کرنے کا اعلان کیا ہے
انکا خیال روز تھوڑا تھوڑا جھٹکا لگے گا تو تکلیف کم ہو گی عوام بولے گی نہی
ایس ایس ایز کو سالہا سال سے ریگولر نہ کر کے جو ناانصافی کی گئی اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ان کے جونیئر پروموشن لے سینئر بن چکے اور یہ 14000 لوگ ابھی تک ریگولرائزیشن کے منتظر ہیں۔حکومت میں آنے سے پہلے مریم صاحبہ نے وعدہ کیا تھا جو ابھی تک وفا نہ ہو سکا۔
یہ حکمران اپنی ان ظالمانہ پالیسیوں کو کیسے جسٹیفائی کریں گے بروز قیامت ۔۔۔ یا پھر ان کا آخرت پہ کوئی ایمان ہی نہیں ۔۔اگر ہوتا تو کچھ تو خوف خدا کرتے، کچھ تو رحم دلی کا مظاہرہ کرتے، کوئی ایک پالیسی تو ایسی بناتے جو ایلیٹ کے لیے نہیں بلکہ غریب کے لیے ہو
پنجاب کے وزیراعلی ہوتے ہوئے مریم کو اس پر ایمرجنسی لگا دینی چاہیے سوچنا چاہیے کہ پنجاب میں بجلی کے بلوں اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کیوں ہو رہی ہیں ؟
سب کاموں سے اہم یہ کام کہ پنجاب میں لوگ غربت سے کیوں مر رہے وہ بھی اس دور میں ؟
پنجاب میں اس دفعہ پینشن صرف تین فیصد بڑھائی اور کہا کہ پیسے نہی ہیں پنجاب میں پراپرٹی ٹیکس سے ریونیو اور ٹوکن فیس بے تحاشہ بڑھ چکی ہے 750ارب ترقیاتی فنڈ کا مریم صاحبہ نے مرکز کو دے دیا ہے ساڑھے چار سو ارب کے نئے ٹیکس لگ رہے اور اس پیسے سے الیٹ کو مراعات دے رہے اس بجٹ میں ججوں کے لئے گھروں کی تعمیر کے لیے سود بغیر قرضہ اور اب تقریباً مفت گاڑی خریدنے کی سہولت دے رہے جبکہ ججوں کی کارکردگی یہ کہ سی سی ڈی بنا کر پنجاب حکومت ماورائے عدالت ملزم مار رہی اور جواز یہ کہ عدلیہ کام نہی کرتی ہے اگر کام نہی کرتی تو ان کو یہ سہولیات کیوں دے رہے ؟
پنجاب کی تمام انتظامیہ کا غصہ صرف اساتذہ اور ڈاکٹرز پہ اترتا ہے۔۔
حضور اور بھی بہت سے محکمے ہیں کبھی ادھر کا بھی رخ کر لیں۔۔
کبھی کسی تھانے پہ چھاپہ ماریں۔۔
کبھی اے سی، ڈی سی کے دفتر کا اے سی چیک کریں کتنے نمبر پہ سیٹ ہے۔۔۔
کبھی محکمہ مال کا رخ کریں۔۔۔۔
لسے تے زور تے ڈاڈے تے ہاسا