عمل کی میرے اساس کیا ہے بجز ندامت کے پاس کیا ہے
رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو اک آسرا یہی ہے.
عطا کیا مجھ کو درد الفت کہاں تھی یہ پر خطا کی قسمت
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے
صل اللہ علیہ وسلم
Happy Birthday to my brother! 🎉🎂
Wishing you happiness, good health, success, and endless blessings. Have a fantastic day and an amazing year ahead. God bless you always! ❤️
Happy Birthday, my leader @Kdastgirkhan !🎂
Your vision, leadership, and commitment to public service continue to inspire us. May Allah grant you a long, healthy, and successful life filled with countless blessings. Wishing you many more years of achievement and service. 🇵🇰✨
سابق وفاقی وزیر انجینئر خُرّم دستگیر خان نے حلقہ ایل اے 35 جموں 2 میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے انتخابی عمل کا جائزہ لیا، کارکنوں سے ملاقات کی اور ووٹرز سے گفتگو کی۔
مرکزی نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) انجینئر خُرّم دستگیر خان نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن کے دورے کے موقع پر پُرجوش انداز میں “کشمیر بنے گا پاکستان” کا نعرہ لگایا۔ یہ نعرہ پاکستان کے اصولی مؤقف، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے یکجہتی ہے۔
کشمیر کی 12 مخصوص نشستیں محض آئینی نشستیں نہیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے پاکستان کے اٹوٹ رشتے کی علامت ہیں۔جب ہم کہتے ہیں “کشمیر بنے گا پاکستان” تو اس کا مطلب پورا جموں و کشمیر ہے۔ ان نشستوں کا خاتمہ صرف بھارت کے بیانیے کو تقویت دے گا، پاکستان کے مؤقف کو نہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر خان،چوہدری کاشف اسماعیل گجر و دیگر محلہ فیض عالم ٹاؤن میں مسلم لیگی و کشمیری رہنما چوہدری پرویز شاکر ایڈووکیٹ کی رہائشگاہ پر حلقہ ایل اے 35 جموں 2 کی انتخابی میٹنگ سے خطاب کررہے ہیں۔
الیکشن کمپین LA 35 جموں 2 ( کشمیر ٹاؤن یوسی 1 )
سابق وفاقی وزیر انجنئیر خرم دستگیر خان اور سابق یوسی و ضلعی چیئرمین بیت المال عمر جاوید بٹ کشمیر ٹاؤن یوسی 1 الیکشن کمپین ایل اے 35 جموں 2 کے حوالے منقعدہ کارنر میٹنگ میں شرکت اور خطاب کر رہے ہیں۔
ُانجنئیر خرم دستگیر خان کی قیادت میں وفاداری، اصول اور خدمت کا سفر جاری ہے۔ فتح ہو یا حالات کی آزمائش، ساتھ ہمیشہ قائم رہے گا۔ انشاءاللہ
اہل خرد اسے نہ سمجھ پائیں گے فقیہؔ
کچھ مسئلے ہیں ماورا فتح و شکست سے
ساری جماعتوں نے کہا ہم سوچیں گئے، ہم گفتگو اور مزکرات کریں گئے، صرف ” شیر “ نے کہا یہ 12 سیٹیں قائم رہے گی، مہاجروں کے ووٹ کا حق قائم رہے گا، ہمارا مقبوضہ کشمیر اور ایک لاکھ شہیدوں سے تعلق قائم رہے گا۔
سابق وفاقی وزیر انجنئیر خرم دستگیر خان کا کارنر میٹنگ سے خطاب۔
الیکشن کمپین LA 35 جموں 2 ( کشمیر ٹاؤن یوسی 1 )
سابق وفاقی وزیر انجنئیر خرم دستگیر خان اور سابق یوسی و ضلعی چیئرمین بیت المال عمر جاوید بٹ کشمیر ٹاؤن یوسی 1 الیکشن کمپین ایل اے 35 جموں 2 کے حوالے منقعدہ کارنر میٹنگ میں شرکت اور خطاب کر رہے ہیں۔
الیکشن کمپین ایل اے 35 جموں 2 ~ صدر پنجاب سوشل میڈیا ٹیم کاشف صابر خان، شعیب بٹ، اور ناصر کھوکھر کشمیر ٹاؤن یوسی 1 میں سابق یوسی و ضلعی بیٹ المال چیئرمین عمر جاوید بٹ کی جانب سے منقعدہ کارنر میٹنگ میں شرکت، چوہدری اسماعیل گجر کی حمایت کا اعلان۔
روشن گوجرانوالہ ~ خرم دستگیر خان
نفرت کی سیاست، جھوٹے بیانیے اور طاقت کے استعمال سے کسی خطے کو ہمیشہ کے لیے قابو نہیں کیا جا سکتا۔ جو دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں، انہیں ایک دن اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انصاف اور امن کی آواز کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔
جو طاقتیں دوسروں کے علاقوں میں انتشار، نفرت اور بدامنی کے بیج بونے کی سیاست کرتی ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کا قانون سب کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے۔ ظلم، غرور اور طاقت کے نشے پر کھڑی پالیسیاں ایک دن اپنے ہی مسائل کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔
جو دوسروں کے گھروں میں نفرت، انتشار اور بدامنی کے شعلے بھڑکانے کی سیاست کرتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کا اصول ہے کہ آگ ایک دن اپنے دامن تک بھی پہنچتی ہے۔ خطے میں امن خراب کرنے والی پالیسیوں کا انجام ہمیشہ نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔
مسلم لیگ ن سوشل میڈیا ونگ پنجاب کے صدر کاشف صابر خان اور شعیب بٹ کے ہمراہ کیمپ نمبر 4 میں نور محمد مرزا ، راشد کھوکھر کی جانب سے منعقدہ کارنر میٹنگ میں شریک حلقہ LA-35 جموں 2 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محمد اسماعیل گجر کی بھرپور حمایت اور سرپرستی کا اعلان ۔
ڈی سی گوجرانوالہ سے سخت اختلاف ہے، لیکن حالیہ بارشوں کے دوران جس طرح وہ خود فیلڈ میں موجود رہے اور صورتحال کو مانیٹر کرتے ہوئے کام کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔البتہ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ واسا اور ضلعی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی پر اب بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔
جب بھی ریاست مخالف بیانیے یا بیانات پر بحث ہوتی ہے تو اکثر یہی محسوس ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی میں حد سے بڑھی ہوئی سوچ ہر اصول پر غالب آ جاتی ہے۔ جب کسی شخصیت کی حمایت ریاست، آئین اور قومی مفاد سے بھی مقدم سمجھی جانے لگے تو یہ جمہوری اختلاف نہیں بلکہ اندھی وابستگی بن جاتی ہے۔
سول سپرمیسی پر میرا مؤقف آج بھی واضح ہے،اور سیاست میں اداروں کی مداخلت کی مخالفت بھی۔مگر جو لوگ ایک سیاسی شخصیت کی خاطر ریاست، آئین اور قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں،وہ اصولوں کی نہیں بلکہ شخصیت پرستی کی سیاست کر رہے ہیں۔کسی بھی فرد کو پاکستان سے بڑا سمجھنا ایک خطرناک سوچ ہے۔
اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، مگر پاکستان کے خلاف زبان استعمال کرنا یا ملک کی بدنامی کو اپنی سیاست بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ تنقید کریں، اصلاح کی بات کریں، مگر اپنے وطن کی عزت اور وقار پر سمجھوتہ نہ کریں۔پاکستان ہم سب کا ہے، اور اس کے مفاد کو ہر اختلاف سے بالاتر ہونا چاہیے
یہ پی ٹی آئی کی سوچ اور انکا چہرہ ہے۔ یہ نورین نیازی اپنی زبان نہیں بول رہی بغض پاکستان میں اپنے تمام یوتھیوں کی زبان بول رہی ہیں۔ کسی بھی یوتھئیے کو پکڑ کر سوال کرے۔ وہ یہی جوابات دے گا۔