پاکستان میں ہر اتنیک کمیونٹی کے سرحد پار پڑوسی ملکوں میں لسانی ، ثقافتی اور نسلی تعلقات موجود ہیں ، لیکن پنجابیوں کے شناختی کارڈ کبھی بند نہیں ہوئے چونکہ پختونوں کو پاکستان میں ایک کالونی بنا دیا گیا ہے اس لئے ان کی نسلی پروفائلنگ اور تذلیل کو جائز قرار دیا جاتا ہے ،
ہم آج بھی وہی مؤقف رکھتے ہیں جو باچا خان، خان عبدالولی خان اور اسفندیار ولی خان نے پوری زندگی اختیار کیا۔ ہماری سیاست کسی فرد، کسی حکومت یا کسی ادارے کے گرد نہیں گھومتی، بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی، جمہوریت، آئین اور وفاق کی مضبوطی کے گرد گھومتی ہے۔
اگر واقعی انتظامی اصلاحات مقصود ہیں تو سب سے پہلے عوام کو اختیار دیا جائے، مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا جائے، صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے جائیں اور پارلیمنٹ کو فیصلوں کا مرکز بنایا جائے۔ نئے یونٹ بنانے یا نقشے تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، جب تک عوام کو اپنے وسائل اور اپنے فیصلوں پر اختیار حاصل نہ ہو۔
پختونوں کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم مزید تقسیم کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اتحاد کے قائل ہیں۔ سابق فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہماری دہائیوں پر محیط جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اب ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان کے وہ اضلاع جہاں اکثریت پختون آبادی پر مشتمل ہے، انہیں بھی ایک آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے پختونخوا کا حصہ بنایا جائے تاکہ تمام پختون ایک ہی انتظامی اکائی میں اپنے جمہوری حقوق استعمال کر سکیں۔
یہ کسی دوسرے کی زمین یا حق پر دعویٰ نہیں، بلکہ تاریخی، ثقافتی، لسانی اور جمہوری حقیقت کی بنیاد پر ایک آئینی مطالبہ ہے۔ ایسے تمام فیصلے عوام کی مرضی، پارلیمنٹ اور آئین کے مطابق ہونے چاہییں، نہ کہ کسی بند کمرے میں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی مضبوطی مزید تقسیم میں نہیں بلکہ ایک حقیقی وفاق، صوبائی خودمختاری، بااختیار بلدیاتی نظام، آزاد پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ اور عوام کی حکمرانی میں ہے۔
باچا خان نے ہمیں نفرت نہیں، خدمت کا راستہ دکھایا۔ ولی خان نے ہمیں جمہوری جدوجہد سکھائی۔ اسفندیار ولی خان نے ہر مشکل وقت میں آئین اور پارلیمنٹ کا ساتھ دیا۔ آج بھی عوامی نیشنل پارٹی اسی نظریے پر قائم ہے: بندوق نہیں، بیلٹ؛ جبر نہیں، جمہوریت؛ تقسیم نہیں، اتحاد؛ اور طاقت کا ارتکاز نہیں، بلکہ اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی۔
ہمارا پیغام واضح ہے: ایک متحد پختونخوا، مضبوط مقامی حکومتیں، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، اور ایک ایسا پاکستان جہاں ہر قومیت کو برابری، عزت اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔
I received a phone call today by someone claiming to be from the military, the person sent me my excise sheet and footage from the motorway toll plaza of my vehicle entering the highway. He claimed that I had passed his vehcile while over speeding and that he had barely survived the crash after I had sped away. He demanded a compensation of 1.2 million. The only fact is that the date he mentioned I was out of the country. I told him to share his particulars, he then named a senior military official, claiming to be his nephew. And that he would have me picked up.
Regardless that this was scam to extort money, I understand that it’s not difficult to get details of vehicles or assets, but how come he managed to retrieve the camera footage from a motorway toll plaza, which is basically surveillance footage controlled by the government. Is the system that compromised that our data is so easily available to anyone who can buy it? Are criminals now operating in tandem with networks deep within our surveillance system? Is there any accountability at any level?
Attack on the Rangers HQ in Karachi by a TTP faction reflects the expansion of TTP,once again, to the coast of Indian Ocean which is 1000s of miles away from the DL. Lest we forget, it’s after more than 2 decades of the “war on terror”. Any accountability on this dismal failure?
A Typical DMG Career: The Quiet Ladder
Young Ahmed clears the CSS exam and enters the Civil Services Academy in Lahore. For two years he lives inside a pressure cooker of lectures, drills, and endless networking. His batch quickly forms tight “tribes” — lifelong alliances that will decide postings, favours and promotions for decades. This tribe or family will stay in power for the next 30+ years
After the academy he spends three hard years in the field as Assistant Commissioner: revenue courts, law-and-order crises, angry crowds and politicians. The district teaches him how Pakistan actually runs.
By his mid-thirties the system rewards the sharp ones. Eighty percent of ambitious officers secure scholarships to Harvard, Oxford, LSE or similar. Ahmed returns with a foreign degree, polished English and a valuable international contact book. He is now fully westernized and indirectly wired to take debt and follow western consultants
Back home he hunts “project” postings. Many move to donor-funded programmes — World Bank, ADB, FCDO, USAID — either on deputation or full secondment. The salary is better, the work cleaner, the reports international. No matter if more debt is required. Not his problem. Besides the consultants give him clean advice that he learnt at Harvard etc
By now he has also secured a spacious GOR house in Lahore that, with the right connections, he will not vacate for the next thirty or forty years.
A few years later he angles for an overseas slot: Commercial or Economic Counsellor in an embassy, or a position at the WTO or some other such agency.
After three to five rewarding years abroad he returns as Joint or Additional Secretary. With luck he reaches full Secretary rank, controlling large budgets and key policies.
In these golden years he quietly but aggressively cultivates donor representatives. Conferences, study tours and quiet dinners build the bridge.
When retirement arrives — or even early retirement — consulting contracts, advisory roles and well-paid door-opener positions appear. Donors need exactly these men: insiders who know every file, every approval route and every decision-maker.
What should we expect? A highly internationalised bureaucracy whose career incentives are shaped as much by foreign aid ecosystems as by national interest.
Who do they ultimately serve? The Government of Pakistan on paper; the revolving door of donors and multilateral organisations in practice.
Conflict of interest? Significant and largely unaddressed.
This is why experts like Stefan Dercon remain in high demand. For a few hundred million pounds over the years, Britain and other donors have built deep influence inside Pakistan’s elite bureaucracy. The system is not “owned,” but it is skilfully rented.
The West weaponized Islam against the Soviets funded jihad, built madrassas, exported radicalization , support every militant group here, then acted surprised by the blowback. Before complaining about ‘Islamification,’ maybe it must acknowledge the role Western foreign policy played in making our countries unlivable in the first place.”
The West weaponized Islam against the Soviets funded jihad, built madrassas, exported radicalization then acted surprised by the blowback. Before complaining about ‘Islamification,’ maybe acknowledge the role Western foreign policy played in making our countries unlivable in the first place.
مزاج کا تصادم
پاکستان میں بسنے والے ساری اقوام کی اپنی الگ الگ شناخت و تاریخ ہے، اپنی اپنی زبانیں اور پیچیدہ معاشرتی نظام ہیں۔ ہر ایک کی اپنی ثقافتی و معاشرتی نزاکتیں ہیں۔ مذہب ایک ہونے کے باوجود ان لوگوں کا کچھ بھی سانجھا نہیں۔ ان سب میں اگر واقعی کوئی قدر مشترک ہے وہ ان لوگوں کا عوامی و سیاسی مزاج ہے۔ ان میں سے کسی کو بھی رعایا بننا نہیں پسند۔ انکو کسی نہ کسی طرح طاقت میں اپنا حصہ چاہئے ہوتا ہے۔جدید ریاستی بندوبست میں اس کام کے لئے انھیں جمہوری طریقہ بہتر نظر آیا۔ انھیں لگا کہ اپنے نمائندے ایوانوں میں بھیج کر فیصلہ سازی میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ سو سیاسی جماعتیں بنائیں اور ہر کسی نے اپنے گلی محلے میں سیاست شروع کردی۔ یہ اس عوام کا عمومی مزاج ہے ۔
اب دوسری طرف جس مزاج کے لوگ براجمان ہیں ان میں پہلے نمبر پر جرنیل صاحبان ہیں ۔ کاکول کے تربیت یافتہ ہیں ان کا کام ہی لڑائی اور گالف کھیلنا ہے۔دوسرے نمبر پر سیکرٹری و ڈی سی صاحبان ہیں یعنی بیوروکریسی۔ انکے کام کے بارے میں عوام صرف اتنا جانتے ہیں کہ ملک میں جرائم روکنا ہو یا کوئی سیلابی ریلا انکے پاس حل ایک ہی ہے دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ۔ تیسرے نمبر پر ہے اعلی عدلیہ کے ججز۔ انکا فرض منصبی ہے انصاف کی فراہمی جس میں دنیا میں انکا نمبر ایک سو تیسواں ہے۔ ان تینوں میں سب سے طاقتور جرنیل ہیں۔ ایک قدرت اللہ شھاب کو چھوڑ کے ساری بیوروکریسی جرنیلوں کی ماتحت رہی ہے۔ اور اس پہ انکو کوئی اعتراض بھی نہیں۔ ججز البتہ کبھی بھی جرنیلوں کے ماتحت نہیں رہے بلکہ ہمیشہ سے غلام رہے ہیں ۔ بیروکریسی اور ججز کا مزاج جیسا بھی ہو اس سے کوئی زیادہ فرق پڑتا نہیں اس لئے سیدھا آتے ہیں جرنیلوں کے مزاج پر۔
جرنیل صاحبان کا مزاج یہاں کے عوامی مزاج کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مزاجوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کرکٹ اور گالف میں ۔ عوام اپنی مادری زبان میں گالی دیتے ہیں جرنیل غصہ بھی انگریزی میں کرتے ہیں۔عوام کا مزاج یہ ہے کہ وہ قومی خزانے کا حساب مانگتے ہیں جبکہ جرنیل کا مزاج ہے کہ وہ ان سے قومی ترانہ سننے کی ڈیمانڈ کرتے۔ عوام اپنی جڑوں اور تاریخ سے جڑنا چاہتے ہیں تو جرنیل چاہتے ہیں کہ ہر قوم اپنی تاریخ سنہ سینتالیس سے شروع کرے۔ اگر کسی کو اپنا ماضی تلاش کرنے کا شوق ہو تو زیادہ سے زیادہ محمد بن قاسم تک جائے، اس سے آگے کی انکی خرید ہی نہیں۔ جرنیل صاحبان کا یہ بھی ماننا ہے کہ عوام چونکہ جاہل ہیں اتنی جاہل ہے کہ انگریزی میں گالی بھی نہیں دے سکتے اس لئے ملک کی بھاگ دوڑ انکے ہاتھوں میں نہیں دی جاسکتی۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ خود بھی نہیں چلاسکتے۔ ڈائریکٹ چلانے کی انھوں نے کئی بار کوشش بھی کی لیکن ہر بار جاہل سیاسی عوام نے انکو واپس بیرکوں میں چلتا کیا۔ اب جاہل عوام سے براہراست کون الجھے بحث کرے اوپر سے ہر بات میں کاکول کا حلف اٹھا کے لے آتے ہیں کہ جرنیل سیاست نہیں کرسکتے تو مزاجوں کے اس تصادم میں انکو آئیڈیا آیا سیاسی انجینئرنگ کا۔ یعنی عوام کو بڑا شوق ہے اقتدار میں حصہ دار بننے کا اپنے نمائندے پارلیمان میں بھیجنے کا تو بے شک بھیجے لیکن جرنیلوں کی مرضی کے۔ لہذا جینوئین سیاسی عوامی نمائندوں و جماعتوں کو مختلف طریقوں بہانوں سے سائیڈ لائن کیا گیاجیسے اے این پی کے ساتھ کیا گیا۔ان حقیقی عوامی نمائندوں کی جگہ کہیں پر باپ تو کہیں پر قوم یوتھ کو لایا گیا۔ کہیں پر بزدار و محمود خان تو کہیں سرفراز بگٹی کو بٹھادیا گیا۔ اس سے جرنیلوں کو لگا کہ انکی یہ حکمت عملی کافی کامیاب ہے۔ یعنی عوام کی سیاست کا شوق بھی پورا ہورہا ہے اور انکی حکومت کرنے کا نشہ بھی۔
لیکن بظاہر کامیاب اس سٹریٹجی میں ایک بہت بڑا کیچ ہے اور وہ یہ کہ چند لوگوں کو انجینئرڈ طریقے سے عوام کا نمائندہ بتا دکھا کے عوام کے سیاست کا کیڑا تو شایدوقتی طور پہ مرجائے گا لیکن اس سے انکے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انجئنئرڈ نمائندوں کو بھی بخوبی علم ہے کہ انکو کون لایا ہے تو وہ بھلا کیوں کرے عوام کے مسائل حل کرنے میں اپنا وقت ضائع۔ وہ ووٹ دینے والے کے بجائے ووٹ گننے والوں کو ہی خوش کرے گا۔
اب ایسی صورتحال میں سالی عوام جائے تو کہاں۔ انکے حقیقی سیاسی نمائندوں کو تو ساروں کو کردیا گیا ہے ڈسکریڈٹ ۔ جسکے نتیجے میں ایک سیاسی خلا بن گیا ہے۔
https://t.co/hmMGu0OeBN
#AJK
#politics
#ANP
مقبول بٹ سے پہلے شیخ عبداللہ کو بھی جناح صاحب نے مایوس کردیا تھا۔ شیخ عبداللہ ایک وقت میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی تھے لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ قائداعظم نئے پاکستان میں صوبوں کی منتخب حکومتوں کو گھر بھیج رہے ہیں تو شیخ صاحب نے بھارت کے ساتھ الحاق پر اکتفاء کرلیا- ورنہ آج کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا۔
#kashmir
#ajk
Juma Khan Sufi also rejected Pata Khazana. As for Qalandar, his religious beliefs are a personal matter, as long as he did not use his literary works or his role in Pashtun politics to promote or preach those beliefs. Is there any evidence or reference showing that Qalandar did so?
Unbelievable. pure ignorance dressed up as expertise. He just casually threw the entire Malakand region into Peshawar Valley without even blinking. Can you please stop giving this man ur platform who lacks basics of history & geography or else he will merge himalayas into karachi.@Fahdhusain
On this district map of Khyber Pukhtunkhwa, former caretaker PM @anwaar_kakar explains which areas endure more terror attacks and why. Very important analysis
محترم خٹک صاحب نے پی ٹی ایم کی ایکٹویزم کا پوسٹ مارٹم ایک جملے میں کردیاہے۔
خٹک صاحب کہہ رہے کہ خیبر جرگے میں پی ٹی ایم نے پختونوں کو بڑی تعداد میں ایک پنڈال میں جمع تو کردیا لیکن جرگے کے اختتام پر کیا اعلامیہ جاری کرنا ہے یہ سوچا ہی نہیں گیا تھا۔ آخر میں بجلی مفت کرنے اور لشکر بنانے جیسے سطحی مطالبات کرکے جرگہ سمیٹ دیا گیا، اور بعد میں سارا الزام سیاسی جماعتوں کے سر ڈال دیا گیا۔
یعنی دلفریب نعروں سے لوگ کو اکٹھا تو کرلیا لیکن اس کے بعد کیا کرنا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہی وصف پی ٹی ایم اور اس کے عارضی روحانی بھائی پی ٹی آئی میں مشترک ہے۔ بس یہی بات ہے اچھی دونوں ہرجائیوں کی۔
اسکی وجہ میرے خیال میں ایک یہ بھی ہوسکتی ہے پی ٹی ایم اسٹائل ایکٹیویزم میں دلچسپی زیادہ تر انہی لوگوں کی ہوتی ہے جنھوں نے یا تو یورپ امریکہ کا ویزہ لینا ہوتا ہے یا کسی بیرونی این جی اوز اور سفارت خانوں سے پروجیکٹ لینے کی فکر میں ہوں۔ اس لیے جلسہ، جرگہ یا دھرنا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ سنجیدہ سوال ان میں کبھی زیر بحث نہیں آتا۔
شک ہو تو کسی بھی پی ٹی ایم کے چے گویرا کارکن سے بس یہ چند سوال پوچھ لیں آئس کریم کا آئس کریم اور شیر یخ کا شیر یخ ہوجائے گا۔
۱-اپکی نظر میں انتخابی سیاست کمپرومائزڈ ہے ہتھیار آپ اٹھاتے نہیں تو پھر پختونوں کے مسائل حل کرنے کا پلان کیا ہے؟
۲- جو نوجوان آج پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم پر ہیں، دس سال بعد وہ کہاں ہوں گے — پختونستان میں یا یورپ میں؟
۳- آئینی جدوجہد اور پارلیمنٹ سے نفرت ہے تو کس فورم سے پختونوں کے حقوق لینے کا ارادہ ہے؟
۴-کیا پی ٹی ایم کے نزدیک ٹی ٹی پی دہشتگرد تنظیم ہے یا مزاحمتی تحریک؟
۵-جن جرگوں جلسوں میں ٹی ٹی پی کے ہمدرد بھی بیٹھے ہوں، ان جرگوں سے پختونوں کو انصاف ملے گا یا مزید نقصان؟
https://t.co/hZebofPII5
#anp
#ptm
#pti