شاہ زیب قتل کیس : شاہ زیب عرف زیبی بٹ پولیس کی حراست میں اپنی جان کو خطرہ ہونے کے خدشات کا عدالت کے اندر چیخ چیخ کر اظہار کرتا رہا اس ویڈیو میں بتا رہا ہے کہ میں ن لیگ کا مخالف ہوں جس وجہ سے مجھے مارنے کی پلاننگ ہوچکی ہے یہ مجھے ماردیں گے اور پھر وہی ہوا ۔۔
اگر کوئی مجرم ہے اور وہ گرفتار ہوچکا ہے عدالت میں کیس چل رہا ہے تو عدالت کو فیصلے کرنے دیں سی سی ڈی کو ماورائے عدالت قتل کے اختیارات دینے والی پنجاب حکومت سے کون سوال پوچھے گا؟
سی سی ڈی کا قتل، ہاف فرائی، فل فرائی یہ فارمولہ عام غریب گھر سے تعلق رکھنے والے مجرموں پر استعمال ہوتا جہاں رضا ڈار جیسے ایلیٹ کلاس مجرم ہوں ان کے رشتے دار اسحٰق ڈار جیسے مینڈیٹ چور نکل آئیں وہاں سی سی ڈی بھی کونوں کھدروں میں جا چھپتی ہے۔
#بےقصور_اسیران_رہا_کرو
The Asim regime is deliberately destroying Imran Khan, his family and PTI workers in jail. Harmful food, medical neglect, and total secrecy. Khan has lost sight in one eye. Blood pressure crises ignored. His wife suffered serious eye damage and underwent surgeries with family kept completely in the dark. His sister who was perfectly fine before jail has now had a heart attack inside. More than 12 PTI workers died inside jail or days after release. This is not detention. This is slow, calculated cruelty.
No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
میرے گھر کو، میرے گاؤں کو نکاب پوشوں نے ایک بار پھر گھیر لیا ہے۔ میری سکول جاتی نواسی کی گاڑی روک لی ہے۔
میرے گاؤں والوں، میرے گھر والوں کو ہراسہ نا کیا جاے!
گرفتار کرنا ہے تو مجھے کریں!
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پوسٹس پر 😂 والے ایموجیز کے بعد پاک فوج پیسے دے کر 😥 خرید رہی ہے۔ مختلف تھائی ، بنگالی ، روسی اور میکسکن اکاونٹس پاک فوج کے لیے شدید دکھی ہیں۔
اخے ہمیں سوشل میڈیا سے فرق نہیں پڑتا
مخے سوشل میڈیا سنگھی تک جاتا ہے
I wish I could do more to support Imran Khan and his family. I won’t stop trying, but this Iran war is making everything harder 😔
I really hope Asim Munir strikes a deal with Imran Khan and PTI and stops this persecution
I have no horse in this race, it’s just heartbreaking to see such good people be treated so badly
I fkn hate politics
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
حامد میر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ تم “قومی اثاثہ “ فیصل واڈا کو اپنے پروگرام میں اکیلے بٹھا کر کیوں انٹرویو کرتے ہو ، تو اس نے کس ڈھٹائی سے جواب دیا کہ ایسے ہی عمران خان بھی ایک قومی اثاثہ تھا اور ہم اس ایک اکیلے ایم این اے کو بٹھا کر پروگرام میں سوال کیا کرتےتھے
اپنے اس جواب پروہ تنہائی میں ضرور شرمسارہوا ہو گا ۔ کیا منور حسن ، قاضی حسین احمد ، سراج الحق ، اختر مینگل ، محمود اچکزئی ، ولی خان ساجد میر ، مولانا سمیع الحق ، رسول پلیجو وغیرہ یہ سب بھی قومی اثاثہ تھے۔ یہ لیڈر بھی تو کبھی ایک ایم این اے والی یا کبھی بغیر کسی ایم این اے کی پارٹی کے سربراہ تھےاور آپ انہیں بھی پروگرامُ میں اکیلے میں بلاتے تھے ۔
کیا یہ سب فیصل واڈا کی جیسے تھے جس شخص کو پاکستان میں دس لوگ بھی نہ جانیں اگر آپ کا چینل اسے نہ دکھائے ۔ آپ نے اپنے دفاع میں عمران خان کا قد چھوٹا کرنے کی جو کوشش کی ہے ، لگتا ہے آپ جرنلزم تو چھوڑ انصاف کے بنیادی معیارات بھی بھول گئے ہیں ۔
عمران خان سیاست میں آنے سے پہلے بھی اس قوم کا ایک اثاثہ تھا اور آج بھی ہے اورآپ جیسے نوکری پیشہ شکست خوردہ صحافی اسے پاکستان کی تاریخ سے اب نہیں کھرچ سکتے ۔
کاش آپ جواب میں یہ سچ بول لیتے کہ آپ فیصل واڈا کو اپنے شو میں کیوں بلاتے ہو ، کاش ایسا ہو جاتا
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
🇵🇰 EXCLUSIVE: IMRAN KHAN'S SONS SAY THE PAKISTANI GOVERNMENT IS TRYING TO KILL THEIR FATHER!
I spoke again with Qasim and Sulaiman Khan, and this conversation was the most heartbreaking.
Not only is their father, the former Prime Minister of Pakistan, still in solitary confinement, but his three courageous sisters, Aleema, Uzma and Noreen, have now also been arrested
And when @PTIofficial supporters hit the streets, many were arrested, beaten, and even killed!
Imran Khan’s sons say they haven't spoken to their father in over 6 months, nobody has seen him for 2 months, and they're increasingly worried about his deteriorating health.
I asked them the hardest question of all: Do they still believe they’ll ever see their father again?
Qasim admitted, he has very little hope, but they will never stop fighting
I told them both I wouldn't give up hope.
And I meant it.
@Kasim_Khan_1999
رانا ثنا اللہ کے مطابق ”دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع“ کے لوگوں کو تین آفرز دیئے گئے
1. اداروں کی مدد سے دہشتگردوں کو آبادی سے نکالے
2. یا عوام آبادیوں سے باہر آئے تاکہ دہشتگردوں سے نمٹا جائے
3. آواز میوٹ ہوگئی (کچھ برداشت کرنے کی بات ہوئی، غالباً کولیٹرل ڈیمج کی بات ہو رہی ہے)
ڈاکو ڈفر الائنس خود دہشتگردوں کو واپس لے کر آئی اور اب اس کا بوجھ مقامی آبادی پر ڈال رہی ہے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
نامعلوم (جو اب سب کو معلوم ہیں) نقاب پوش افراد کا ایم این اے اقبال آفریدی کو اور ان کے بیٹے عرفان آفریدی کو ان کے رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا ہے.
#AsimLaw
Inna Lillahi wa Inna Ilayhi Raji’un.
Deeply saddened by the martyrdom of CTD DSP Imranuddin Shaheed in Karak, Khyber Pakhtunkhwa, we mourn his exceptional courage, unwavering integrity, and unbreakable commitment to duty. A fearless officer, he survived repeated assassination attempts, bomb blasts, and gunfire, refusing to let fear dictate his choices.
Despite being wounded, his resolve never faltered. When offered a safer posting, he refused, saying, “The terrorists will think I got scared.” His words capture his refusal to surrender to fear. For him, duty was a commitment upheld with honor, courage, and extraordinary responsibility.
From leading high-risk operations to safeguarding his people, DSP Imranuddin chose to lead from the front, even when the cost was his life. He had every reason to step away from danger, yet he remained steadfast in his mission until his final breath.
Pakistan has lost a brave son, Khyber Pakhtunkhwa has lost a devoted protector, and his fellow officers have lost a comrade whose courage will remain an enduring example of service and sacrifice.
His martyrdom is a profound loss, but his legacy will live on in his courage, duty, and the lives he sought to protect.
May Allah Almighty grant DSP Imranuddin Shaheed the highest ranks in Jannat-ul-Firdous, accept his sacrifice, and grant his family, loved ones, and colleagues the strength and patience to bear this devastating loss.
Ameen.
مواصلات کے سابق وفاقی وزیر دوبارہ پڑھیں مواصلات کے سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا بھائی گریڈ 9 میں نوکری کرتا ہے اور دفتر کی جانب سے ملے کوارٹر میں مفلوج ماں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
پی ڈی ایم سرکار بنی تو مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیٹے کے لیے جو وزارت مانگی وہ بھلا کونسی وزارت تھی؟ جی ہاں یہی مواصلات کی وزارت۔ کیوں؟ وجہ سب جانتے ہیں۔
عاصم منیر آرمی چیف بنا تو سکول ٹیچر بھائی کو ڈائریکٹر لگادیا۔ بیٹیوں کو ناجائز سفارتی پاسپورٹ تھما دیے۔ داماد بھتیجے کو سول سروس میں لے آیا۔ اسسٹنٹ مینجر کزن کو ادارے کا سربراہ لگا دیا۔
ان لٹیروں کی مراد سعید سے نفرت کرنا ہی بنتی ہے !
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔