Journalist
Pak-China Affairs.
X. Sec. Gen IHC journalists Association.
Past:
Dunya News, Dawn,GNN,24News,Capital TV, Fellow@China International Press center.
عمران خان سے ملاقاتیں بند کرکے اُس کے اس یقین کو مزید پختہ کردیا گیا ہے کہ تین سال سے قید میں ہونے کے باوجود عوام اب بھی اُس کی بات سنتی ہے اور اس کے پیغام کے منتظر ہوتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو انتخابی مہم کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنا بھی اس بات کا مظہر ہے کہ تحریک انصاف کی گراس روٹ پر حمایت ویسے ہی ہے جیسے تین سال پہلے تھی ۔۔
2018 میں جب پورے شریف خاندان نے نواز شریف اور مریم نواز سے عید کے موقع پر جیل میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کیلئے تحریک انصاف کی اس وقت کی حکومت نے خصوصی اجازت دی تھی۔۔ اردو نیوز کی خبر
عید مبارک 🩷
ابھی میں یہ تحریر لکھ ہی رہا تھا کہ روایت کے مطابق عید پر قیدیوں کی ان کے اہلخانہ سے ملاقاتیں ہوتی ہے کچھ کی سزائیں معاف کی جاتی ہیں کچھ کی سزاؤں میں کمی کا اعلان ہوتا ہے لیکن اب ایک نئی روایت نے جنم لیا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قید سربراہ کو عید کے پر مسرت موقع پر بھی اپنے اہلخانہ سے سے ملاقات کی اجازت نہیں۔۔ تو اسی لمحے میں تحریک انصاف کے آفیشل پیج نے بھی اسی طرح کی ملتی جلتی تحریر پوسٹ کی ہے۔۔
معلوم نہیں کہ وطن عزیز میں سیاسی نظام کا مستقبل کیا ہوگا لیکن جب تک یہ نظام چل رہا ہے تب تک ایسی روایات چھوڑ جانے والے حکمرانوں کا پیچھا کرتی رہیں گی۔۔
#FIA offloaded a student named Shahbaz and manhandled him! @MohsinnaqviC42@HamidMirPAK
Just had a talk with one genuine student who has been offloaded by Miss Hina Munawer from Islamabad Airport. He had everything!! everything!! University emails, visa, ticket, accommodation
پنجاب میں ایک بڑے ایونٹ پر عمران کی بڑی تصویر لگا کر مجید خان نیازی اور ان کے بیٹے رحیم خان نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کا برملا اظہار کیا ہے۔
منصور علی خان صاحب کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں وہ سائفر پر عمران خان کے موقف کو رنگ بازی کہہ رہے تھے اور یہ کہ امریکہ کی طرف سے یہ کہنا کہ عمران خان کو ہٹانا چاہئیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ اگر امریکہ کو کوئی بھی حکمران ناپسند ہوگا وہ اس کے بارے میں ایسا کہے گا۔
اور یہی وہ پوائنٹ ہے جو منصور اور ان لوگوں میں واضح لائن کھینچتا ہے جو سمجھے ہے کہ حکومت کی تبدیلی عوام پاکستان کی مرضی سے ہونی چاہئیے امریکہ کو سفارتی سطح پر ایسا کہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا
پیپلز پارٹی کی قیادت کیخلاف کسی نئے نیب مقدمات اور ٹرائلز کی بازگشت ہے، اگر سچ میں کوئی ایسا سوچ رہا ہے تو ان سے گزارش ہے کہ کچھ نیا سوچیں، زرداری کے کیسز، شریفوں کا پانامہ ، گیلانی اور راجہ کے ٹرائلز برسا ہا برس سے اس قوم کو از بر ہوچکے ہیں۔
ایک بار پھر سے پرانا سکرپٹ دہرایا گیا تو اچھا ’’بزنس‘‘ نہیں کر پائے گا۔۔
پانچ اگست کو اپنی گرفتاری سے پہلے عمران خان ایک کیس میں ضمانت کے سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تو میں نے " خان صاحب اسمبلیوں کی مدت ختم ہونی والی ہے اب آپ کا انتخابی جلسے کرنے کا ارادہ ہے ؟
تو بولے کہ
" میں نے عوام تک جو پیغام پہنچانا تھا وہ پہنچا چکا ہوں، یہ کب بھی الیکشن کرائیں تحریک انصاف ہی جیتے گی اور ہمیں کسی نئے جلسے کی ضرورت نہیں۔
یہ بات اس لئے ذہن میں آئی کہ اب چونکہ عمران خان کی ملاقاتیں بند ہیں، کوئی جیل سماعت بھی نہیں ہورہی کہ صحافیوں کے زریعے ان کا کوئی نیا پیغام آجاتا تو ایسے میں خان صاحب کا وہی پرانا موقف یاد آگیا کہ میں نے جو پیغام پہنچانا تھا وہ عوام تک پہنچ چکا ہے۔۔
یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجئے۔۔
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، جیسے دنیا میں سیاستدان عوام کے دم پر سیاست کرتے ہیں، ویسے ہیں صحافت کو بھی عوامی اخلاقی حمایت درکار ہوتی ہے۔
ایک صحافی کوئی بھی سکینڈل نکالنے کیلئے بہت زیادہ محنت کرتا ہے ، کس کیلئے ؟ ظاہر ہے عوام کیلئے، عوام کو وہ سچ بتانے کیلئے جو کہ جاننا ان کا حق ہوتا ہے۔ اس لئے تو صحافی کو عوام کی آواز بھی کہا جاتا ہے۔ صحافت کی کتابوں میں ’’ واچ ڈاگ ‘‘ تھیوری بھی اسی لئے پڑھائی جاتی ہے۔
جہاں صحافی پر یہ بھاری زمہ داری ہے وہیں پر اس عوام کی بھی تو کچھ زمہ داریاں ہیں کہ جن کیلئے صحافی اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہا ہوتا ہے۔
آجکل کچھ اخلاق سے عاری ’’پروجیکٹ بیسڈ صحافی‘‘ ایسے صحافیوں پر نشانے پر رکھے ہوئے ہیں جو عوام کیلئے خبر نکالتے اور پھر مین سٹریم میڈیا یا پھر سوشل میڈیا کے زریعے نشر کرتے ہیں۔ ان ’’ پروجیکٹ بیسڈ صحافیوں‘‘ کی لائن میں ایسی خبریں صرف سوشل میڈیا سے ڈالر کمانے کیلئے پیش کی جاتی ہیں۔
مہنگائی پر بات کریں ، یا بے روزگاری پر، سرکاری ملازمتوں کی عدم فراہمی پر بات کی جائے یا پھر 2024 کے انتخابات کے نتائج پر، قاضی فائز عیسی کے فیصلوں سے لیکر 27 ترمیم کے نتیجے میں بننے والی آئینی عدالت پر۔ ’’ پروجیکٹ بیسڈ صحافی‘‘ اسے اشتعال انگیزی اور منفی خبروں سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور کیوں نہ کریں، ان کا پروجیکٹ ہی یہی ہے ، روزی روٹی کا معاملہ ہے بھائی۔
بات ہورہی تھی صحافت کیلئے عوام حمایت کی۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ عوام اور حقیقی صحافت دونوں ہی ’’اثر‘‘ میں ہیں۔ کوئی ایک، دوسرے کیلئے آواز بلند کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یہاں پر مجھے عمران ریاض خان کا وہ جملہ یاد آرہا ہے کہ انہیں کہا گیا تھا کہ وہ ملک کا ماما چاچا بننے کی کوشش نہ کریں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔ اب یہی حالت عوام کی بھی ہوچکی ہے۔
ایک ایک کرکے غیر جانبدارانہ صحافت کرنیوالوں کو مین سٹریم میڈیا سے دور ہونے پر مجبور کیا گیا، کسی کو ڈرا دھمکا کر تو کسی سے نوکری چھین کر۔ کسی کو جیل کی ہوا کھانا پڑی تو کوئی جان سے گیا ( اللہ پاک شہید ارشد شریف کے درجات بلند فرمائے، آمین)
اب ہوگا کیا؟
ہونا یہ ہے کہ نئی پود جو صحافت میں قدم رکھ چکی ہے، ان میں سے زیادہ تر سوشل میڈیا کی چکا چوند سے متاثر ہیں اور ان کا مقصد سرکاری عہدیداروں کیساتھ تصاویر بنوانا اور سوشل میڈیا پروفائلنگ تک ہی محدود ہے۔ ان کے مطابق خبر صرف وہی ہے جو وٹس ایپ پر بھیجی جاتی ہے،تحقیقاتی اور پڑھائی لکھائی والی صحافت سے دور ہی رہتے ہیں۔ ویسے بھی ان کو اپنے سینئرز کا انجام نظر آرہا ہے، یہ بھی معلوم ہے کہ میڈیا آرگنائزیشنز کس حد تک اپنے بندے کیساتھ کھڑی ہوتی ہیں ۔ وہ بیوروچیفس اور نیوز ایڈیٹر جو اپنے صحافی کیلئے اس کی خبر پر ڈٹ جایا کرتے تھے وہ بھی اب اداروں کی پالیسیوں کے آگے بے بس ہیں۔ ایسے میں یہ نومولود صحافی شروع دن سے ہی ’’تابعداری کی کلاسز ‘‘ لینے لگ جاتے ہیں۔ جب کلاسز ہی تابعداری کی لیں گے تو کامیابی بھی اسی سبجیکٹ میں ملنی ہے اور یوں عوامی خبر پر ایجنڈا بیسڈ وٹس ایپ خبر مزید حاوی ہوتی جائیگی اور پھر صرف وہی شائع ہوگا اور بولا، دکھایا جائیگا جو سکرپٹ کہیں سے بھی وٹس ایپ پر ملے گا۔ کچھ سینئر تابعدار تو ایسے بھی ہیں جو ایسے اقدامات کے بھی کے فوائد گنواتے نہیں تھکتے کہ جن سے عوام کی روزمرہ زندگیوں پر منفی اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
واپس آتے ہیں صحافت کیلئے عوامی اخلاقی حمایت پر ۔ نوشتہ دیوار ہے کہ دونوں کیلئے (صحافت اور عوام )اسپیس محدود ہوتی جارہی ہے۔ اب اس بچی کھچی جگہ کو کیسے بچانا ہے اس پر ہنگامی طور پر سوچ بچار کی ضرورت ہے۔
مذاکرات اور ثالثی والا ایپیسوڈ اچھا چل گیا، ریٹنگ بھی زبردست رہی ، پاکستان نے دنیا کو امن کا تحفہ دیا۔ امن مذاکرات کی بھرپور کوریج کے بعد اب اسلام آباد کے صحافی جنگ کے دوران مہنگائی میں ہونیوالے اضافے پر کچھ لکھنے اور بولنے کا یقیناً سوچ رہے ہونگے۔
اس جنگ نے پوری دنیا بشمول پاکستان اور عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
جب تک سینئر کرسی پر موجود ہو تو ماتحت کی پرسنیلٹی دبی ہی رہتی ہے۔ اور اگر سنیئر ہو بھی تگڑا پھر تو ماتحت چوں چراں بھی نہیں کر پاتے۔ اس لئے ماتحتوں کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ باس لمبی چھٹی پر چلا جائے اور انہیں اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع ملا رہے۔۔
نیتا گیری ۔۔ کتنا دلچسپ کھیل ہے۔۔
پہلے ایک مسئلہ پیدا کرو۔۔ پھر دھیرے دھیرے اس کو حل کرنے کی کوششیں کرو اور پھر آخر میں اسے تقریباً حل کرکے داد و تحسین سمیٹو۔۔
کمال ۔۔
اگر آپ کبھی ھمارے تین سب سے پرانے tv چینلز کے سٹوڈیوز میں جانے کا اتفاق ھو تو آپ کو یہ اندازہ ھو گا tv screen پہ نظر آنے والے خوبصورت نظر آنے والے سٹوڈیوز حقیقیت میں 25سال پرانے ٹوٹے ھوۓ فرنیچر کے گودام ھوتے ھیں۔ پچھلے ھفتے ایک نہا یت موقر اور respected show میں ریکارڈنگ کے لئے جانے کا اتفاق ھوا۔ ٹوٹے میز اور کرسی پہ بیٹھ میں نے ریکارڈنگ کروائ۔ ان پرانے چینلز کے سٹوڈیوز کو آزاد میڈیا کو دکھانا چاہئیے ۔میز کی top اکھڑی ھو گی۔ آندر داخل ھونے والے راستے اور سیڑیاں پراسرار اور نظر آتی ھیں ۔ لفٹ اگر میسر ھو فلور کے نمبر نظر نہیں آئیں گے۔ بیشتر ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں ھوتیں۔ سینئر انیکرز سے درخواست ھے میرے ان مشاہدات کا نوٹس لیں ۔
ایک اور بات پیمرا کے مطابق چینلز کو چند منٹ سوشل میسیجز کے لئے مختص کیے ھیں پیمرا ذرا اس پہ غور فرمائے کے یہ دس منٹ کسطرح استعمال ھوتے ھیں
بڑی سیاسی جماعت سیاست سے ہی دور؟
قیادت کا فقدان، منتخب نمائندے اپنی مستی میں مست۔
فوج کو برا بھلا کہے بغیر بھی کامیاب تحریک چلائی جاسکتی ہے، مگر کیسے؟
امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کے تناظر میں پاکستان کے متحرک کردار اور سفارتی کامیابیوں کے درمیان پاکستان کی داخلی سیاسی معاملات پر بحث کافی حد تک نرم پڑ چکی ہے۔ تحریک انصاف جو اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کیساتھ مسلسل زور آزمائی میں تھی انہوں نے بھی راولپنڈی میں اپنی سیاسی سرگرمی کو معطل کرکے حکومت اور طاقتور حلقوں کو ایک پیغام دیا کہ ہماری طرف سے غیر مشروط سیز فائر کو دیکھتے ہوئے آپ بھی دو قدم آگے آئیں اور مل بیٹھ کر کوئی راہ نکالیں۔
عمران خان کو عدم اعتماد کے زریعے وزارت اعظمی کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد سے جو سیاسی کشیدگی کی فضا بنی وہ اب تک قائم ہے لیکن زمینی حالات کو دیکھیں تو حکومت اور اتحادیوں نے اقتدار پر اپنی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرلی ہے۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور احتجاجی مظاہرے خون دینے کے باوجود بھی ڈیلیور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ نو مئی اور اس کے بعد ہونیوالی گرفتاریوں اور قربانیوں کی بات کریں تو تحریر طویل ہوجائے گی اس لئے اصل مدع کی طرف آتے ہیں۔
سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ عام انتخابات میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے باوجود تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے کوئی کامیاب تحریک کیوں نہیں چلا پائی؟ پی ٹی آئی کی قیادت کوئی ایسی حکمت عملی کیوں نہیں بنا پائے کہ جس بنیاد پر حکمران طبقے کو دباؤ میں لایا جاسکتا؟ اب جب جوشیلی پریس کانفرنسز ، تقریروں اور ٹاک شوز میں بیانات کا جائزہ لیں تو تصویر کچھ یوں سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف کی فیلڈ میں موجود قیادت سیاسی معاملات میں انتہائی کمزور ثابت ہوئی ہے، یہ مسلسل عدالتوں میں تو جاتے رہے ہیں۔ آئینی ترمیم سے پہلے بڑی حد تک کامیابیاں بھی سمیٹ رہے تھے لیکن یہ بھول چکے تھے کہ ان کو عدالتی محاز سے زیادہ سیاسی محاز پر ڈیلیور کرنے کی ضرورت ہے۔ جس عوام نے تمام تر مہم ، گرفتاریوں اور سزاؤں کے باوجود گاجر مولی اور نلکے کے نشانات ڈھونڈ کر اپنا قیمتی ووٹ دیکر عمران خان کے کھمبوں کو اسمبلیوں میں بھجوایا وہ کھمبے اسمبلی پہنچ کر اس عوام کو ہی بھول بیٹھے۔
پی ڈی ایم کی حکومت ہو یا پھر موجود شہباز اور محسن سپیڈ کا دور،عمران خان کیخلاف مقدمات کے علاوہ اتنے بڑے سیاسی مواقع آئے جن پر بات کرکے ڈائریکٹ عوام کو انگیج کیا جاسکتا تھا لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آئی۔ پوری جماعت ہی بس عمران خان کے کیسز کی اپ ڈیٹ دینے کیساتھ ساتھ عدالتوں اور اسٹیبلیشمنٹ کو برابھلا کہنے میں لگ رہی کیونکہ سب سے آسان کام یہی تھا۔ باقی محازوں پر پارٹی کی کارکردگی صفر بٹا صفر۔
مثال کے طور پر مہنگائی بنیادی ایشو ہے جس پر ہر وقت بات کی جاسکتی تھی، ہر فلور پر اس موضوع پر بات کرکے عوام سے اپنا رشتہ برقرار رکھا جاسکتا تھا، یوتھ کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کے مواقع میسر نہ ہونا ہے، کسانوں کے مسائل، تعلیم اور صحت کی سہولیات پر پنجاب اور وفاق میں روزانہ کی بنیاد پر بات کی جاسکتی تھی، اسمبلیوں میں موجود ارکان عوام مسائل سے جڑے معاملات پر سوالات کرکے ہر اجلاس میں کئی ایسی خبریں نکال سکتے تھے کہ جن پر مین سٹریم میڈیا نہ سہی سوشل میڈیا پر عوام کی آواز بنا جاسکتا تھا۔
جب بات عوام کی ہورہی ہو تو سیاست پھل پھول رہی ہوتی ہے۔ بڑے فورمز پر بنیادی معاملات کو اجاگر کیا جائے تو عوام بھی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور یوں ماحول میں اظہار کی آزادی پر لگائی جانیوالی قدغنوں سے پیدا شدہ گھٹن میں کمی ممکن ہوتی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کی سیاست تو بس اڈیالہ پر ہی ختم ہے۔
اڈیالہ کے باہر بھی جائیں لیکن سیاسی جماعت ایسے تو آپریٹ نہیں کرتی جیسے آج کل تحریک انصاف کی قیادت کا رویہ ہے۔ تنظیم نام کی کوئی چیز نہیں ہے، ہر بندہ ہی لیڈر بنا ہوا ہے اور پارٹی کے اندر کوئی کسی کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔ کہیں کوئی حکمت عملی ہوتی تو ہم دیکھتے کہ ایک اڈیالہ کمیٹی اناؤنس ہوتی، اس میں شامل افراد ہی اڈیالہ کے معاملات پر میڈیا میں ترجمانی کرتے ، جیل کے باہر بھی موجود رہتے، عدالتوں میں بھی اسی کمیٹی کو معاملات دیکھنے ہوتے، باقی اتنی بڑی تعداد میں جو کھمبے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ، کچھ پر مشتمل عوامی کمیٹی بنائی جاتی جو مہنگائی سے متعلق معاملات پر اعداد و شمار کی روشنی میں بات کرتے، وقفے وقفے سے مختلف شہروں میں اس معاملے کو لیکر اجتماعات ہورہے ہوتے۔ ایک کمیٹی نوجوانوں کے معاملات کو ڈیل کررہی ہوتی، یوتھ کے مسائل اور حکومتی کوتاہیوں کو موضوع بنایا جاتا، شہر شہر جا کر گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات کرکے یوتھ کو موبالائز کیا جاسکتا تھا۔
ایک کسان کمیٹی ہوتی جو کسانوں کے ساتھ براہ راست انگیج کرتی، ان کے مسائل سنتے ، ان کیساتھ بیٹھ کو پریس کانفرنسز کرتے، کسان کنونشن کی تو شاید حکومت اجازت نہ دیتی لیکن کسان بیٹھک تو ارینج کی ہی جاسکتی تھی۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ جہاں چاہ وہاں راہ۔
یہ اور اس طرح کے کئی اور معاملات پر تگڑی اپوزیشن کی جاسکتی تھی اور یہی وہ بنیادیں ہیں جہاں سے حکومت کی پریشانی بڑھتی ہے، جب ہر طرف عوام کی بات ہورہی ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت کو دباؤ لینا پڑتا ہے۔ جب آپ ان محازوں پر متحرک ہوتے تو تبھی آپ سہی معنوں میں عمران خان کی رہائی کیلئے کچھ کررہے ہوتے۔
تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بھی مائنڈ گیم میں ایکسپرٹ ہے، پارٹی قیادت بھی امریکہ ایران مذاکرات کے دوران سوشل میڈیا ٹیم سے آہنگ رہی۔
انٹرسٹنگ پوائنٹ یہ ہے کہ وطن عزیز کی شان اور وقار کیلئے پی ٹی آئی اور ان کا سوشل میڈیا پاکستان کا فخر بنے رہے تاہم دوسری طرف وہ مخالفین جن کی روزی روٹی اور سوشل میڈیا پیجز کی ریچ ہی عمران خان کے نام سے جڑی ہے وہ اپنی تھڑے بازی جاری رکھے ہوئے تھے، مسلسل اشتعال انگیز تحریریں پوسٹ کی جاتی رہیں۔ مگر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے انہیں جواب دینے کے بجائے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ایشو بیسڈ شیئرنگ کررہے ہوتے ہیں اور جہاں بات پاکستان کی ہو وہاں پاکستانیت کا رنگ رہتا ہے۔