یہ تو سنی اتحاد ہے
اچھا آپ اپنا شیعہ اتحاد بنالیں
جی بنانے گئے تھے ہم شام میں شیعہ اتحاد، ان کا اپنا بیڑہ غرق ہو گیا۔ پھر یمن پر ہاتھ رکھا، ان کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے۔
چلیں آپ آذربائیجان کے ساتھ بنا لیں وہ تو اثنا عشری شیعہ ہیں
آذری تو ہم پر لعنت بھی نہیں بھیجتے۔ وہ تو سعودی اتحاد میں جائے گا۔
بہت بُرے ذہنی حالات ہیں بے چاروں کے۔
جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو شرم آنی چاہیئے کہ مرکزی فیروز پور روڈ لاہور مزنگ چونگی بند کر کے آپ کون سی قوم کی خدمت کر رہے ہیں؟ ہزاروں شہری آپ کی بھونڈی ڈرامے بازی کی وجہ سے سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔ دو ایمبولینس ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی ہیں، اگر مریضوں کی زندگیوں کو کچھ ہوگیا تو جماعت اسلامی کا کون سا ڈرامے باز رہنما ذمہ دار ہوگا؟
#Lahore
اپنی پوری قیادت مروا کے بابا جی کو پانچ ماہ فریزر میں رکھ کے ہماری مہربانی سے دفنانے والے کہتے ہیں کاغذی معاہدے سعودی عرب کی سلامتی کی ضمانت نہیں ہو سکتے۔۔۔
Iran’s attack on an Emirati oil tanker in the Strait of Hormuz represents continued aggression and must be condemned by all who support peace
https://t.co/V4Vp9UMkL0
کیا آزاد کشمیر کے انتخابی ٹرن آؤٹ سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہے؟
آزاد کشمیر کے نامور صحافی، ریسرچر اور تنازعہ کشمیر پر گہری دسترس رکھنے والی صحافی @safdargardezi
لکھتے ہیں مظفرآباد ڈویژن میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے دوران الجزیرہ کے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ کو "انتہائی کم" قرار دیا۔ بظاہر یہ تاثر چند پولنگ اسٹیشنوں پر اس وقت موجود ووٹرز کی تعداد اور مقامی افراد سے گفتگو کی بنیاد پر قائم کیا گیا۔
تاہم، اب جبکہ سرکاری نتائج اور پول شدہ ووٹوں کی تعداد سامنے آئی ہے، متعلقہ حلقے میں ٹرن آؤٹ تقریباً 49 ��یصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر کی انتخابی تاریخ میں تقریباً 50 فیصد یا اس سے زیادہ ٹرن آؤٹ کو عمومی طور پر معقول اور تسلی بخش سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس مرتبہ امن و امان کی غیر معمولی صورتحال، احتجاجی ماحول اور بائیکاٹ کی اپیلوں کے باوجود ووٹنگ میں کمی ضرور دیکھی گئی، لیکن اس شرح کو "انتہائی کم" قرار دینا محلِ نظر قرار دیا جا رہا ہے۔
صحافی صفدر گردیزی کے مطابق الجزیرہ کی اس رپورٹ میں ایک اہم صحافتی پہلو نظر انداز کیا گیا۔ ان کے بقول رپورٹر نے یکساں نقطۂ نظر رکھنے والے چند افراد سے گفتگو کے بعد مجموعی تاثر قائم کیا، جبکہ الیکشن کمیشن یا دیگر سرکاری حکام کا مؤقف شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے نزدیک ووٹنگ کی شرح سے متعلق کسی بھی حتمی نتیجے کے لیے مستند بنیاد سرکاری انتخابی اعداد و شمار ہوتے ہیں، نہ کہ کسی مخصوص وقت پر پولنگ اسٹیشنوں کی ظاہری صورتحال۔
صفدر گردیزی یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ سوشل میڈیا اور بعض ٹی وی چینلز پر بھی ووٹرز کی کم دلچسپی سے متعلق خبریں گردش کرتی رہیں، تاہم بین الاقوامی صحافتی اصولوں کے مطابق انتخابی عمل کے بارے میں قطعی رائے دیتے وقت مصدقہ اعداد و شمار اور تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق بین الاقوامی صحافت میں ایسے الفاظ یا تعبیرات جن سے پہلے سے کوئی نتیجہ اخذ ہوتا ہو (loaded words)، معروضی رپورٹنگ کے تقاضوں سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ الجزیرہ کی رپورٹ احتجاجی ماحول اور مقامی حالات کے مخصوص تناظر سے متاثر دکھائی دیتی ہے، جس میں مقامی ذرائع یا فکسر کے زاویۂ نظر کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھی الجزیرہ کی مذکورہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اس کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں اضافے کا شکار ہے لیکن جو بندر تماشہ شہباز حکومت نے لگایا ہوا ہے، پوری دنیا میں کسی ملک نے نہیں لگایا۔ ہر چوبیس گھنٹے بعد عوام کا غیض و غضب، نواز شریف کا ووٹ اور مریم نواز کی کارکردگی تباہ۔ دارا شکوہ کے بعددوسرا بڑا انتقام ہے بھائی کا بھائی سے۔
محترم خادم رضوی کے لونڈوں کی وجہ سے بریلوی مکتبہ فکر سے ثواب دارین پہنچ چکا ہے اور اب مولانا کی وجہ سے دیوبند مکتبہ فکر نے بھی ثواب پہنچا دیا ہے اور جب ایران نے پاکستان پر میزائل حملہ کیا جس پر مورخ نے ایرانیوں کی منجی میں ڈانگ پھیری تو اس وقت سے فقہ جعفریہ کے افراد گالیاں کڈ رہے ہیں اور اب پیچھے جناب ہشام الٰہی ظہیر صاحب کی جماعت باقی ہے پتہ نہیں کس دن وہ ثواب پہنچائیں گے
یہاں یہ بھی لکھ دوں تاکہ سند رہے کہ جب انجینر محمد علی مرزا صاحب کے خلاف لکھا تو ان کے تمام طالب علموں میں سے کسی ایک نے گالی نہیں دی بلکہ علمی اختلاف کیا
جس طرح عین جنگ کے دوران پپل پارٹی نے بھارت کی گود میں بیٹھ کر مانک شاہ ڈاکٹرائن کے عین مطابق پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنے مطالبات منوا لئے تھے، کچھ دیگر احباب سیاست کا خیال ہے کہ وہ افغانوں کی لال ہونے سے پہلے اپنے مطالبات منوا لیں۔
حق اے
حق اے
سمگلنگ نہ روکو کیوں کہ یہ ان دین فروشوں کی تجارت ہے
منشیات کا دھندہ نہ روکو کیوں کہ یہ ان دین فروشوں کی صنعت ہے
اگر روکا تو یہ ہمارے شہدا کے مقدس اجسام کی توہین کریں گے۔
کھلو جا تیری میں ۔۔۔۔۔۔۔
تکلیف غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی واپسی پر ہے اور دکھ فوج کے شہدا پر تنقید کرکے نکالا جا رہا ہے۔
روندیں یاراں نوں
نام لے لے بھراواں دا
😜😜😜
جب خیبر پختون خواہ سے جڑے بارڈر کے پار تشریفات لال ہوئیں تو تمام دہشت گرد بھاگ کر بلوچستان سے ملحقہ بارڈر کے پار چھپ گیے۔ اور جب بلوچستان میں انہیں مار پڑنا شروع ہوئی تو ایک دم سے ہر پارٹی میں چھپے پختون راہنما فوج پر پل پڑے۔
بات سمجھ تو آتی ہے ماننے کو دل نہیں کرتا