خبر یہ ہے کہ خان کے بچوں کے ساتھ بات کروا دی گئی ہے ۔۔!!
لیکن سوال یہ ہے کہ خان اپنے قاسم اور سلیمان کیلئے جیل میں تو نہیں وہ ہمارے لئے ہے 25 کروڑ کیلئے ۔!!
میری تو نہیں ہوئی بات خان سے ۔
گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزراء نے درج ذیل پیش رفت سے آگاہ کیا:
1۔ کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہوگا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔
2۔ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لیے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک کہ درج ذیل مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:
• خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے موجودہ مالی سال کا مکمل حص�� فراہم کیا جائے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ فنڈز ضم شدہ علاقوں کی معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
• عمران خان کے تمام قانونی اور جائز حقوق مکمل طور پر بحال ہونے تک کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے، جن میں شامل ہیں:
1۔ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ، تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
2۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری غیر قانونی تنہائی اور عملی طور پر سولیٹری کنفائنمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، جس میں:
الف) ہر ہفتے 6 اہلِ خانہ، 6 وکلاء اور 6 دوس��وں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ب) ان کے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ج) کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک ان کی رسائی فوری طور پر بحال کی جائے۔
یہ کوئی خصوصی مراعات نہیں بلکہ بنیادی قانونی اور انسانی حقوق ہیں، جن کا احترام اور فوری بحالی مزید کسی تاخیر کے بغیر یقینی بنائی جانی چاہیے
🚨بجٹ کو پیش نا کیا جائے بجٹ کو دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کم از کم عمران خان سے ملاقات ہو انکا علاج تو اس میں کیا مشکل کام ہے ۔
علیمہ خان۔۔
حضرت عمرؓ کی اہلِ بیتؓ سے محبت اور عقیدت
ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دن سیدنا عمر فاروقؓ کسی اہم مشاورت میں مصروف تھے۔ اسی دوران ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ ملاقات کے لیے آئے۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
"بیٹا! دروازے پر ہی انتظار کرو، میں ایک ضروری معاملے میں مشغول ہوں۔"
حضرت عبداللہ بن عمرؓ ادب سے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔
کچھ دیر بعد سیدنا امام حسینؓ تشریف لائے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے دریافت فرمایا:
"کیا امیرالم��منین اندر موجود ہیں؟"
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے عرض کیا:
"جی ہاں، لیکن وہ ایک اہم معاملے میں مصروف ہیں اور مجھے بھی انتظار کرنے کا حکم دیا ہے۔"
امام حسینؓ نے فرمایا:
"اگر امیرالمؤمنین مصروف ہیں تو میں بعد میں مسجد میں ان سے ملاقات کرلوں گا۔"
یہ کہہ کر آپؓ واپس تشریف لے گئے۔
جب حضرت عمرؓ فارغ ہوئے تو اپنے بیٹے سے پوچھا:
"کوئی ملاقات کے لیے آیا تھا؟"
انہوں نے عرض کیا:
"جی، امام حسینؓ تشریف لائے تھے، لیکن آپ کی مصروفیت کی وجہ سے واپس چلے گئے۔"
یہ سنتے ہی حضرت عمرؓ بے حد متأثر ہوئے اور فرمایا:
"عبداللہ! تم نے حسینؓ کو واپس کیوں جانے دیا؟"
پھر فوراً امام حسینؓ کے گھر تشریف لے گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔
امام حسینؓ باہر تشریف لائے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا:
"شہزادے! آپ آئے تھے، اندر کیوں نہ تشریف لائے؟"
امام حسینؓ نے عرض کیا:
"آپ مصروف تھے، آپ کے اپنے بیٹے بھی انتظار کر رہے تھے، اس لیے مناسب سمجھا کہ بعد میں حاضر ہو جاؤں۔"
یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ آپؓ نے فرمایا:
"حسینؓ! میرے بیٹے کا اور آپ کا کیا مقابلہ؟ آپ رسول اللہ ﷺ کے نواسے ہیں، آپ کی والدہ سیدہ فاطمہ الزہراؓ ہیں، آپ کی نانی سیدہ خدیجہؓ ہیں اور آپ کے نانا خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔"
آپؓ نے مزید فرمایا:
"آج اگر عمر کو عزت، مقام اور محبت ملی ہے تو یہ سب رسول اللہ ﷺ اور ان کے اہلِ بیتؓ کی نسبت کا صدقہ ہے۔"
ایک اور موقع پر حضرت عمرؓ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ امام حسینؓ تشریف لائے۔ محبت بھرے انداز میں فرمایا:
"عمر! یہ میرے نانا ﷺ کا منبر ہے۔"
حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور عرض کیا:
"بے شک! یہ آپ کے نانا جان ﷺ ہی کا منبر ہے۔ ہماری عزت، ہمارا مقام اور ہماری پہچان بھی انہی کے فیض سے ہے۔"
سبق:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جتنا بلند مقام سیدنا عمر فاروقؓ کا تھا، اتنی ہی عظیم ان کی عاجزی، محبتِ رسول ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ سے عقیدت تھی۔ بزرگی انسان کو متکبر نہیں بناتی بلکہ جھکنا سکھاتی ہے، اور جو دل رسول اللہ ﷺ اور ان کے اہلِ بیتؓ کی محبت سے آباد ہو، وہی حقیقی عزت پاتا ہے۔
اللّٰہم صلِّ علیٰ سیدنا محمد ﷺ وعلیٰ آلِ سیدنا محمد ﷺ
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب بات��ں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
عمران خان بہت جلد جیل سے باہر آرہے ہیں اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں ، سہیل آفریدی
کچھ عجب نہیں کہ سہیل آفریدی ، خفیہ عسکری اثاثے اور صدیق جان بھائی ایک ہی خبر پھیلا رہے ہیں۔ جس عمران خان کی آنکھ کا بروقت علاج نہیں ہوپایا ، جس عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے وہ عمران خان ہرگز ہرگز جلد باہر نہیں آرہا۔ اتنا وقت گزرنے کے بعد اس طرح کی یقین دہانیاں کروانے پر سہیل آفریدی عمران خان کو قید میں رکھنے کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
پی ٹی آئی کی سٹریٹجی ہی غلط ہے جسے کوئی revise کرنے کی تکلیف بھی نہیں کر رہا۔
سب سے پہلے ہر منگل اڈیالہ جانے پر زور کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔ کارکنوں کی ساری انرجی اور معاشی وسائل یہاں ضائع کر دیئے جاتے ہیں جس کی کوئی آؤٹ پٹ بھی نہیں۔ لاکھوں کی تعداد بھی اڈیالہ چلی جائے تو کیا عمران خان رہا ہو جائیں گے؟ بالکل نہیں ۔ کیونکہ آپ نے جیل تو توڑنی نہیں ۔
درست سٹریٹجی یہ بھی نہیں کہ آپ اسلام آباد یا کسی ایک جگہ کی کال دیں۔ اس طرح آپ خود کو مسلح اور بیرحم دستوں کے نشانے پر رکھنے کے سوا کچھ نہیں کریں گے ۔ کیونکہ آپ پُرامن جدوجہد کے داعی ہیں
اس کا درست راستہ یہ ہے کہ نہ صرف بڑی کراسنگز دھرنا دیکر بند کی جائیں۔ بلکہ عمران خان کی بہنیں بھی اڈیالہ جا کر وقت ضائع کرنے کی ��جائے علیحدہ علیحدہ دھرنے کی جگہوں پر پہنچیں ۔ انکی موجودگی کا اثر بہت مثبت ہو گا۔
اس کیلئے آپ کو تمام پارلیمنٹیرینز کو اسمبلی سے نکال کر ڈیوٹی دینا ہو گی ۔ انہیں اعتماد میں بھی لینا ہو گا کہ یہ جدوجہد انکے بغیر نامکمل ہے۔ اس طرح وہ اپنا خلوص یا بیوفائی بھی چھپا نہیں سکیں گے
اڈیالہ کی چابی اڈیالہ میں نہیں ان بڑے راستوں اور شاہراہوں پر ہے جنہیں بند کر کے آپ پورا ملک بند کر سکتے ہیں
پھر یہ بھی کہ ہر مقام کے ساتھ دو متبادل مقام منتخب کر کے رکھیں ۔ سیکیورٹی فورسز کاروائی کریں تو بھی آپ کے چند لوگ کہیں سے بھی راستہ بند کر سکتے ہیں۔ راستوں کے کھلے ہونے سے متعلق بے یقینی ان پر لوگوں کو سفر نہیں کرنے دے گی اور راستے عملا بند رہیں گے
سڑکیں کھولنے کی آیتیں اور حدیثیں سنانے والوں کو سائفر اور انصاف کا پاٹھ پڑھائیں
اگر آپ کو کچھ کرنا ہے تو ایک جلوس ایک ریلی نہیں۔ بلکہ پرامن مگر طے شدہ پروگرام سے چ��نا پڑے گا
اس طرح یہ لوگ ایک مہینہ نہیں نکال سکتے۔ مگر تب بات چیت میں واضح مطالبات رکھیں جو رسائی اور دوائی نہیں بلکہ مکمل رہائی ہو
خان کی رہائی ہر چیز کا علاج ہے جس کے بعد ان میں سے کوئی ملک میں نظر نہیں آئے گا