ریاست نے بلوچوں کو جبری طور لاپتہ کرکے یہ ماورا عدالت قتل کرکے اُن میں ڈر و خوف پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ، مگر آج کئی دہائی گزرنے کے بعد بلوچ بچے مزاحمت کر رہے ہیں۔
ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ بندوق کے نوق پر رکھ کر آپ کبھی بلوچ کو نہیں دبا سکتے۔
بلوچستان اس وقت مختلف آفات کی زد میں ہے۔ ایک طرف ہماری بزرگ مائیں اور شیر خوار بچے طوفانی موسم میں بھی کوئٹہ کے سڑکوں میں بے یار و مددگار رہنے پر مجبور ہے تو دوسری جانب بارشوں کے دوران حکومتی غفلت سے ہونے والے تباہیوں نے رہی سہی کسر پوری کردی۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں سوشل ورک مضمون کےامتحانی پرچے پر میرےاور زاکرمجیدکےحوالےسے سوالات آنامجھ سمیت بہت سےلوگوں کوکنفیوزکررہی ہے
ایک طرف ہمیں غدار اورملک دشمن قرار دینا اور دوسری طرف پنجاب کے یونیورسٹیوں میں ایسی حرکتیں؟
پنجاب میں بیٹھے لوگ یہ تک نہیں جانتے ہیں کہ 1/1
مگرہم گھر والوں پر یہ ازیت ناک قیامت خیزتیرہ سال کیسےگزرے ہیں ہم ہی جانتے ہیں جوشایدناقابل بیان ہوں
تیرہ سال کی طویل گمشدگی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی انتہائی بھیانک شکل ہے جسکا نہ ریاست کواحساس ہےاور نہ ہی کھبی اسکا ازالہ کرسکے گی ہم سےنہ صرف ایک باپ کی شفقت چھیناگیابلکہ 1/2
سندھ پولیس کی بے شرمی و غنڈہ گردی کی انتہا!
دودا اور گمشاد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کےلیے پرامن احتجاج کررہے تھے کہ سندھ پولیس نے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانے بنایا اور گرفتار کیا۔
تمام طبقہ فکر کے لوگوں کو اس سفاکیت کے لیے آواز اٹھانا چاہیے۔
#ReleaseDodaAndGamshad
A Sit-in protest is organised against the killing of Dad Jan Baloch in Panjgur. The children joined the camp with their books for a peaceful #Balochistan, Our collective struggle against injustices is the hope and strength of our nation.
#JusticeForDadJanBaloch