لونڈیاں جتنی مرضی رکھو جیتنا چاہے سیکس کرو
لیکن ڈیٹنگ حرام ہے
ڈیٹنگ ہے کیا ؟ اک دوسرے کو جاننا سمجھنا
بات چیت کرنا اکٹھے کافی چائے پی لینا کھانا کھا لینا اسی کا نام ڈیٹنگ ہے
ایران میں تمام لڑکے لڑکیاں ڈیٹنگ کرتے ہیں والدین کی رضامندی سے ڈیٹنگ کرتے ہیں
اس سے دونوں کو اک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے
پاکستان میں سب کچھ حرام ہے
Adult Society
Happy 4th of July and 250th Independence Day! Today, as we celebrate our nation's independence and freedom, we are also looking forward to building a brighter shared future. As Chargé d'Affaires Natalie A. Baker noted on June 6, "America is strongest when we have partners and in Pakistan we have found exactly that." #Freedom250 #USAinPakistan
یوم آزادی کی دو سو پچاسویں سالگرہ اور چار جولائی مبارک! آج جب ہم اپنی قوم کی آزادی اور خود مختاری کا جشن منا رہے ہیں، وہیں ہم ایک روشن اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے بھی پر امید ہیں۔ چھ جون کو ناظم الامور نیٹلی بیکرنے کہا تھا کہ امریکہ اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے جب اس کے ساتھ شراکت دار ہوں اور پاکستان کی صورت میں ہمیں بالکل ایسا ہی ایک بہترین شراکت دار ملا ہے۔
اسحاق ڈار کی فارن پالیسی تو وڑ گئی ؟؟
رضا ڈار کون ہے ؟ کیا فارن عورتوں کے ساتھ زنا بلجبر ہوا؟ اب CCD کتے کے بچے کہاں ہیں ؟
کیا واقعی ہی اسحاق ڈار کا نواسہ ہے ؟ پنجاب حکومت ظلم جبر میں سب سے آگے ؟
مارہ طور سے
لاہور میں دو غیرملکی خواتین کا اغواء برائے تاوان، ریپ ، تشدد اور اہم ترین ملکی شخصیت کے نواسے کا ملوث ہونا۔
پنجاب کے دل لاہور میں اک ایسا واقعہ ہوا ہے جس کی گونج انٹرنیشنل میڈیا میں سنائی دے رہی ہے
زرا تصور کریں ایسا کون سورما ہے جس نے پنجاب کے دل لاہور میں سی سی ڈی کی دہشت کے باوجود دو غیرملکی خواتین کو نہ صرف اغوا کیا بلکہ تین دن تک ان کا ریپ کیا جاتا رہا تشدد کیا گیا اور رہائی کے بدلے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان مانگا گیا۔ یہ تو سیدھا سیدھا بیل (سی سی ڈی) کو لال کپڑا دکھانے کے مترادف ہے
29جون کو دو غیر ملکی خواتین اسٹیفنی اڈیانا ایرون اور آسٹر اسٹیفن بروچو جن کا تعلق ہالینڈ اور وینزویلا سے ہے، ایک پاکستانی محمد رضا ڈار کی دعوت اور معاونت سے پاکستان آتی ہیں، جہاں انہیں ڈیفنس ایک گھر میں لے جایا جاتا ہے اور اغوا کر لیا جاتا ہے، ان کے ساتھ مبینہ طور پر چار لوگ ریپ کرتے ہیں اور ان سے رہائی کے بدلے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کرتے ہیں۔ اسٹیفنی کے والد کا جب اپنی بیٹی سے رابطہ نہیں ہو پاتا تو 15 پر پنجاب پولیس کو کال کرتے اور گمشدگی رپورٹ کرتے ہیں جس پر پنجاب پولیس فوری حرکت میں آتی ہے اور صرف دو گھنٹے میں خواتین بازیاب کر لی جاتی ہیں۔
یہ ہے وہ اسٹوری جو چلائی جا رہی ہے۔
کیا حقیقت میں ایسا ہی ہوا ؟؟؟
نہیں
ان دونوں خواتین کو محمد رضا ڈار نے پاکستان بلوایا اپنے پاس رکھا۔۔یہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ رہیں پارٹیاں ہوتی رہیں جیسا ہائی سوسائٹیز میں اب فیشن بن چکا ہے،
پھر رقم کے لین دین پر ان بن ہو گئی اور خواتین اخلاقی بلیک میلنگ پر اتر آئیں ۔ محمد آصف رضا ڈار کے نانا پاکستان کی اک طاقتور ترین شخصیت اور صاحب اقتدار ہیں تو طاقت اور اقتدار کے نشے میں نوجوان رضا ڈار معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھ سکے اور جوش جوابی میں ان خواتین پر تشدد کیا ۔ خواتین روتی پیٹتی تھانے پہنچیں جہاں ایس ایچ اور فریاد اعوان نے محمد رضا ڈار کی حقیقت جاننے کے بعد مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا،جیسا کہ پاکستان میں معمول ہے کہ جہاں کسی صاحب اقتدار یا حکمران کا معاملہ ہوتا ہے پولیس ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے خاتون نے ہالینڈ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا، جنہوں نے ڈچ ایمبیسی کو اپنی بچی کے اغواء کے معاملے سے آگاہ کیا۔۔۔ڈچ ایمبیسی نے فوری اسلام آباد اور پنڈی میں رابطہ کیا اور معاملات نانا کے نواسے کے ہاتھ سے نکل گئیے ۔
ڈچ ایمبیسی کے دباو کے تحت ڈی آئی جی آپریشنز نے نہ صرف متعلقہ ایس ایچ کو غفلت اور غیر ذمہ داری پر معطل کر دیا بلکہ خاتون کی مدعیت میں محمد رضا ڈار اور تین دوسرے افراد کے خلاف سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ 1560/26 تھانہ ڈیفنس سی درج ہو گیا۔جس کے بعد جج محمد سعید کی عدالت میں خواتین کے دفعہ 64 کے تحت بیانات ہو گئے ہیں
یہ اغواء برائے تاوان یا ریپ کا معاملہ نہیں تھا، اک لین دین کا معاملہ تھا جو محمد رضا ڈار کی انا اور ناسمجھی سے اک سنگین رخ اختیار کر گیا اور پاکستان کا اک انتہائی برا تاثر دنیا میں گیا کہ پاکستان غیر ملکیوں یا خواتین کے لئیے اک محفوظ ملک نہیں ہے۔
گھر میں ہونے والے کئی خطرناک حادثات ایک چھوٹی سی لاپرواہی سے شروع ہوتے ہیں، اور اکثر ہمیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
اگر استری کی تار کہیں سے کٹ جائے، پھٹ جائے یا مڑ کر اندر سے خراب ہو جائے تو اسے جوڑ کر دوبارہ استعمال کرنا محفوظ نہیں۔
بہت سے لوگ ٹیپ لگا کر یا تار جوڑ کر مسئلہ حل سمجھتے ہیں، لیکن خراب تار میں شارٹ سرکٹ، چنگاری یا آگ لگنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ بجلی سے لگنے والی کئی گھریلو آگ کی وجوہات میں خراب یا نقصان زدہ برقی تاریں بھی شامل ہوتی ہیں۔
اس لیے اگر استری کی تار خراب ہو جائے تو اسے جوڑنے کے بجائے نئی اور معیاری تار لگوائیں۔ یہ چھوٹا سا خرچ آپ کے گھر اور خاندان کی حفاظت کے لیے بہت اہم ہے۔
آپ کے خیال میں گھروں میں سب سے زیادہ نظر انداز کی جانے والی برقی غلطی کون سی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
گھر میں ہونے والے کئی خطرناک حادثات ایک چھوٹی سی لاپرواہی سے شروع ہوتے ہیں، اور اکثر ہمیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
پنجابیوں نے اپنے گھروں کے تہہ خانوں میں عقوبت خانے بنا رکھے ہیں
پنجابی جرنیلوں نے پورے پاکستان کو ٹارچر سیل بنایا ہوا ھے
کیا ان کی فطرت میں حیوانیت ھے؟
لاہور اسلام پورہ میں تہہ خانے میں تشدد کرنے والے چاند قصائی عرف چاند بٹ کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئ
قطری شہزادے فقط ثالثی نہيں کروا رہے، امریکیوں کو یہ بھی بتا رہے ہیں کہ صلح نامہ کیسے لکھنا ہے۔ یعنی امریکہ کو ڈکٹیشن بھی دے رہے ہیں۔
میں کہتا ہوں، آفرین!
گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچستان میں جاری مسلح جدوجہد کے بعد ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نئی بلوچ نسل کے لئے پرامن جدوجہد کا استعارہ بن کر اُبھری تھی لیکن ایک جھوٹے اور بےبنیاد مقدمے میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دیگر BYC رہنماؤں کو عمر قید سُنا کر ریاست پاکستان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے