30ستمبر 1988ء کو حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپاکی گئی تھی۔
جب بھی اختیارملا، قاتلوں کوانصاف کے کٹہرےمیں لائیں گے۔سانحہ حیدرآباد کی 38 ویں برسی پرخطاب
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
آج سے 38برس قبل 30 ستمبر 1988ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپا کی گئی تھی۔ اس روز شام کے وقت 10 گاڑیوں میں سوار اسلحہ بردار حیدرآباد شہر میں داخل ہوئے، انہو ں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی،جو سامنے آیا اسے گولیوں کانشانہ بنایا گیا، آدھے گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا لیکن نہ پولیس، انتظامیہ پہنچتی ہے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس ڈی ایم پوری انتظامیہ غائب ہوتی ہے۔200 سے زائد معصوم شہریوں کو شہیدکردیا جاتا ہے اور سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں جن میں نوجوان، بزرگ�� خواتین اوربچے شامل ہوتے ہیں، حیدرآباد کی سڑکیں مہاجروں کے خون سے رنگ دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کے حملے جنرل ایوب خان کے زمانے میں کراچی میں بھی ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں بے گناہ مہاجروں کوشہید کردیا گیا تھا، اسی طرح کے واقعات ذوالفقارعلی بھٹوکے دور حکومت میں بھی کرائے گئے۔ 14دسمبر1986ء کواسی طرح کراچی میں علی گڑھ کالونی اورقصب کالونی میں پر بھی حملے کرکے مہاجروں کا قتل عام کیا گیا تھا۔جب اسی طرح کے حملے ہوتے رہے تو الطاف حسین نے ڈنکے کی چوٹ پر مہاجروں سے کہا تھا کہ وہ اپنی جان ومال کے تحفظ کے لئے لائسنس بنوائیں اوراسلحہ رکھیں اورمیں آج بھی مہاجروں سے کہتا ہوں کہ وہ ا��نی بقا کا سامان کریں۔ امام الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے بھی صحابہ کومسلح ہونے کادرس دیا اوریہاں تک بتایا کہ کہاں کے بنے ہوئے تیراورتلواریں اچھی ہوتی ہیں۔
میں سانحہ حیدرآباد 30ستمبر1988ء کے شہ��ا کی 38ویں برسی پر شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں اوران کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتاہوں اوران سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب بھی ہمیں اختیارملا، ہم قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
میں ان متعصب لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہوں جو سانحہ حیدرآباد کا الزام بھی ایم کیوایم اور مہاجروں پر لگاتے ہیں، یہ مذاق ہے کہ قتل عام بھی مہاجروں کاہواورالزام بھی ہمی پر لگایاجائے۔ میں سوال کرتاہوں کہ جب 1972ء میں بھٹوکے زمانے میں سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کیا گیا تھااس وقت پورے سندھ میں فسادات کس نے کرائے تھے؟ کیااس وقت ایم کیوایم موجود تھی؟ کیااس وقت الطاف حسین میدان سیاست میں ت��ا؟جولوگ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر بیٹھ کرایم کیوایم اور الطاف حسین پرجو جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگاتے ہیں، کیا انہوں نے اپنی آنکھوں سے الطاف حسین یا ایم کیوایم کو دہشت گردی کرتے دیکھا ہے؟ ان سے پوچھو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے سناہے۔ الزامات لگانے والے سنی سنائی باتیں توبیان کرتے ہیں لیکن کیا انہیں معلوم ہے کہ 30 ستمبر 1988ء کوحیدرآبادمیں کیا ہوا تھا؟ اسی قسم کی نفرت انگیزسوچ نے ملک میں نفرت اورعصبیت کی آگ بھڑکائی ہوئی ہے۔
30ستمبر 1988ء کوحیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام اسی لئے کیا گیا تھا تاکہ مہاجروں کو خوفزدہ کردیا جائے لیکن ہم نہ کل خوفزدہ ہوئے تھے اورنہ آج خوفزدہ ہوں گے۔میں سانحہ حیدرآباد کے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں اوردعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے اوران کے لہوکی بدولت ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی عطافرمائے۔
الطاف حسین
سانحہ حیدرآباد کے شہدا کی 38ویں برسی پر خطاب
30ستمبر 2026ء
ایم کیوایم حیدرآباد کےسینئر کارکنان عبدالمجید بھٹی اورحسنات احمد کو 5ماہ قبلATCکے باہر سےاٹھایا گیا تھا جوکہ تاحال جبری لاپتہ ہیں ،انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیاگیا ہے
مطلب ایم کیوایم کے کارکنان کو عدالت میں اپنی صفائی کے حق سے بھی محروم کیاجارہا ہے
اس ظلم پر میڈیاخاموش کیوں؟
ٹیچر نہیں تو لیڈر نہیں
جس نےخواتین اورنوجوانوں سمیت غریب ومتوسط عوام کو سیاسی شعور دیا،انہیں منتخب ایوانوں میں بھیجا
سیاسی تربیت دی
غلامی اورظلم کے خلاف لکھنا، پڑھنا اور بولنا سکھایا
سر اٹھا کر جینے کا انداز بتایا
اُس استاد محترم @AltafHussain_90 کوسلام سلام
#HappyTeachersDay
The government organized a drama of talks to undermine the momentum of PTI's "Long March." Altaf Hussain
____________
Following the recent talks between Pakistan Tehreek-e Insaf and the government ended without any agreement, it is candid clear that the government orchestrated this negotiation drama to derail PTI’s Long March.
If PTI leaders were truly committed to Imran Khan and the party, and if they genuinely recognized the feelings of their supporters, they wouldn't have engaged in negotiations with the current government established under Form 47.
The government orchestrated this misleading negotiation to undermine the preparations that @PTIofficial workers were making for the long march scheduled for October 4.
I’m shocked that the PTI negotiating team that engaged with the Form 47 government included individuals who, after being released from prison following the events of May 9, had publicly distanced themselves from @ImranKhanPTI Khan and the Pakistan Tehreek-e Insaf.
PTI leaders have already made concessions, but they seem hesitant to take bold actions.
For the past three years, they’ve been caught up in political maneuvering, all while providing empty promises to PTI supporters and leaving them in the dark.
After much struggle, they announced a long march set to start on September 27, only to push it back just three days before the date.
Strangely, they didn’t hold a press conference to inform either the workers or the public about this change.
When the long march was announced for October 4, negotiations with the government kicked off just two days prior to the event.
Why would they agree to talks with a government that has consistently misled them and has ignored the Apex Court's clear orders to transfer Imran Khan to Al Shifa International Hospital?
A government that disregards the Apex Court's decisions can't be trusted to uphold any agreements made with a political party.
To all the dedicated workers of PTI and supporters of Imran Khan: "If you truly want to see Imran Khan safe and free, it's time for you to take action and make the decisions that matter."
Altaf Hussain.
London. UK.
480th public address via TikTok on October 3, 2026.
تحریک انصاف کے رہنما اسی حکومت سے مذاکرات کررہے ہیں جسے وہ ناجائز قراردیتے رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے عوام میں ظلم وجبر کے خلاف انقلابی رحجان دیکھنے میں نہیں آتا،یعنی وہ غلامی، زورزبردستی کی جبری حکومت، آمریت یا بادشاہت سے ملک کے عوام تنگ آکر میدان عمل میں آگئے ہوں۔آخر موجودہ پاکستان کے خطے کے لوگوں کا مزاج کسی قسم کی انقلابی تبدیلیاں لانے کیلئے کیوں نہ بن سکا؟پاکستان کے عوام 80 برسوں سے ناانصافیوں، زیادتیوں، پانی، بجلی، گیس کی قلت، مہنگائی اور بے روزگاری کاسامنا کررہے ہیں، ملک میں اتنی سیاسی ومذہبی جماعتیں موجود ہیں اس کے باوجود عوامی سطح پر کوئی انقلابی سوچ کیوں وجود میں نہ آسکی؟
ایران کی مثال لی جائے تو ایران نے وہ کچھ کرکے دکھادیا جو پوری دنیا نہیں کرسکی، اسی طرح سابقہ مشرقی پاکستان کی مثال لیں تو وہاں متعدد انقلابی مظاہرے ہوئے اور انگریزوں کوعوام کی مزاحمت کاسامناکرنا پڑا، بنگلہ دیش کی تازہ ترین مثال دیکھیں وہ نوجوان نسل نے تحریک چلائی اسی طرح انڈیامیں عوام،کاکروچ جنتا پارٹی کی شکل میں سراپا احتجاج بنے، ایک مطالبہ منوانے کے بعد اب وہ دوسرا مطالبہ لیکر آئے ہیں لیکن پاکستان میں عوامی سطح پر ایسا مزاج نہیں ہے۔
پاکستا ن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب تین سال سے جیل میں قید ہیں لیکن پاکستان کی سب سے بڑی جماعت PTI کوئی ایسا لائحہ عمل نہیں لاسکی کہ وہ مؤثر اورمنظم احتجاجی مظاہرہ کرکے اپنے جائز مطالبات منواسکے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے گزشتہ تین برسوں میں باربار لگاتار یہ دعوے کیے کہ ہم فارم 47 کے تحت بننے والی حکومت کوتسلیم نہیں کرتے لیکن آج وہ اسی حکومت سے مذاکرات کررہے ہیں جسے وہ ناجائز قراردیتے رہے ہیں۔ فارم 47 کے تحت بننے والی حکومت سے مذاکرات کرکے کیاپی ٹی آئی کے رہنماء یہ ثابت نہیں کررہے کہ انہوں نے موجودہ حکومت کو تسلیم کرلیا ہے؟ کیا وہ اپنے بانی عمران خان کی یہ بات بھول گئے کہ فارم 47 کی ٹچی حکومت سے کیابات کروں جبکہ اصل طاقت فوج ہے۔ PTI کے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو جھوٹی تسلیاں دینے کے بعد اسی حکومت سے مذاکرات کئے، اگرانہیں یہی کرنا تھا تو تین سال پہلے کرلیتے کم ازکم عمران خان صاحب کو تین سال جیل میں تو نہیں رہنا پڑتا۔عمران خان جیل میں ہیں، ان کے بزرگ ساتھی جیل میں رہ کر وفانبھارہے ہیں اور جن لوگوں نے آزمائش کے وقت عمران خان اور پی ٹی آئی سے لاتعلقی اختیارکی تھی وہ آج تحریک انصاف کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کررہے ہیں۔یہ عمل کیایہ ظاہرنہیں کرتا کہ یہ مٹی وہ مٹی نہیں جہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کاخمیرہوتا ہے؟
مجھے جنرل ضیاء الحق کے دور میں سمری ملٹری کورٹ سے 9 ماہ قیداور5 کوڑوں کی سزا دی گئی لیکن میں نے معافی نہیں مانگی، میرے بڑے بھائی، بھتیجے اوربہنوئی سمیت ہزاروں ساتھیوں کو شہید کیاگیا لیکن میں نے سرینڈرنہیں کیا، مجھ پر قاتلانہ حملے کیے گئے لیکن میں نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی،جب ہینڈگرینیڈ سے مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو مرکزی کمیٹی اورکارکنوں کے اصرارپر میں عارضی طورپر لندن آیا تھا لیکن پھر ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیا اورکارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کاسلسلہ شروع کردیاگیا، ان کی لاشیں بوریوں میں ڈال کرویرانوں میں پھینک دی گئیں اور میڈیاکے ذریعے پروپیگنڈہ کرایاگیاایم کیوایم والوں نے بوری بند لاشیں پھینکی ہیں۔ تمام ترریاستی مظالم اورمنفی پروپیگنڈوں کے باوجود میں نے تحریک جاری رکھی۔
پی ٹی آئی والوں کوسمجھنا چاہیے کہ جب وہ میدان میں آگئے ہیں تو پھر انہیں ظلم وستم برداشت کرنا ہوگا، ہمت اور حوصلے کامظاہرہ کرنا ہوگا۔تحریک انصاف نے مذاق بنارکھا ہے کہ آج لانگ مارچ کریں گے،کل لانگ مارچ کریں گے اس طرح کا عمل کرکے وہ قوم اورپی ٹی آئی کے کارکنوں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ ایک خبریہ آرہی ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اس پر رضامند ہوگئے ہیں کہ وہ دہشت گردی نہیں کریں گے کیا اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے تسلیم کرلیا ہے کہ وہ دہشت گردی کرتی ہے؟
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر479 سے خطاب
3، اکتوبر2026ء
مکمل فکری نشست کا لنک
https://t.co/KhBsmbTw7D
دنیامیں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب پرامن طریقے سے نہیں آیا، ہرجگہ ظالم ومظلوم، حاکم ومحکوم، قابض قوتوں اورمقبوضہ عوام کے درمیان لڑائی کے بعد ہی انقلاب آیاہے اورمقبوضہ قوموں کو آزادی حاصل ہوئی ہے۔
18ویں صدی تک امریکہ برطانوی سلطنت کی کالونی تھا،امریکہ کے عوام سرجھکا کر برطانوی سلطنت کے ظلم کوبرداشت کرتے رہے، لیکن پھر1775ء میں امریکہ کے عوام نے سلطنت برطان��ہ سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کردی، اس دوران باقاعدہ گھمسان کی جنگ ہوئی، یہ جنگ تقریروں اوروعظوں سے نہیں بلکہ بندوقوں سے ہوئی۔امریکہ کی اس جدوجہد آزادی کو Revolutionary War of Independence کہا جاتا ہے۔
اسی طرح برطانوی سلطنت سے آزادی کے لئے برصغیر کی جنگ آزادی برسوں تک جاری رہی۔ اسی طرح بلوچ عوام بھی 1948ء سے بلوچستان کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں جسے 1948ء میں فوجی طاقت کے ذریعے پاکستان میں شامل کیاگیاتھا اوراس کے خلاف مزاحمت کرنے پر بلوچوں کوقتل کیا گیا، انہیں پھانسیاں دی گئیں۔ اگرامریکہ کی آزادی کی جنگ کوRevolutionary War of Independence کہہ سکتے ہیں تو پھر بلوچوں کی اس جنگ کو Revolutionary War of Independence کوکیوں نہیں کہا جاسکتا؟ بلوچ عوام کہتے ہیں کہ ان کی سر زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے لہٰذا تمام ایجنسیاں بلوچستان سے نکل جائیں، بلوچستان سے قبضہ ختم کیاجائے اور بلوچستان کو آزاد کردیا جائے۔ جوبلوچ مزاحمت کاراپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھائے ہوئے، ان بلوچوں کو”فریڈم فائٹر“کے بجائے غداراورملک دشمن کیوں قرارد یاجاتا ہے؟ انہیں فتنہ الہندوستان کیوں کہا جاتاہے؟
دنیامیں جہاں بھی کوئی ریاست ماورائے آئین وقانون کام کرے، ریاست کے ادارے کسی بھی قوم کے لوگوں پرظلم ڈھائیں، ان کے نوجوانوں کوقتل کریں،ان کے گھروں میں داخل ہوکران کے بزرگوں اور بچوں پر تشدد کریں، ان کی ماؤں بہنوں کے سروں سے چادریں کھینچیں،ان کی بے حرمتی کریں، ان کی حرمت اورتقدس پامال کریں اورکسی قوم کو دبانےکےلئے ماورائے قانون عمل کریں تواس عمل کے خلاف لوگوں کی جانب سے بھی ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے اوراس نفسیاتی ردعمل میں لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ردعمل نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت Third Law of Motion کے تحت ہوتاہے، یعنی ہرعمل کا ردعمل ہوتاہے اورمخالف سمت میں ہوتا ہے۔ہرایکشن کاری ایکشن ہوتاہے، یعنی اگرآپ قانون کے خلاف کسی کے ساتھ زیادتی کریں گے تو زیادتی کانشانہ بننے والے بھی خلاف قانون ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، پتھرمارتے ہیں، یاردعمل میں کچھ بھی کرتاہے، دنیامیں ہرجگہ اسی طرح نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے۔ اگردنیامیں کہیں بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو اس کے پیچھے عوام کا ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل کارفرما ہوتا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء
وزیراعظم شہباز شریف نے آج صومالیہ میں قزاقوں کےہاتھوں شہید ہونےوالے پاکستانیوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ 25 لاکھ روپےکی مالی معاونت کرنے،انہیں رہائش اور انکے بچو�� کو مفت تعلیم فراہم کرنےکا اعلان کیا ہے۔بہت شکریہ۔
کاش کہ وزیراعظم صاحب ان صومالی قزاقوں کو تاوان کی رقم اداکردیتےتو یہ پاکستانی زندہ واپس آجاتے، یہ پیسے، اور یہ امداد کئی گنا بھی دیدی جائے تو وہ بھی ان فیملیز کے پیارے واپس نہیں آسکتے۔
وزیراعظم صاحب ! ان شہیدوں کے اہل خانہ آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے شہیدوں کی میتیں اور زخمی جلد از جلد ان تک پہنچادیں
2/2
میں اپنی فلاسفی حقیقت پسندی (Realism) اورعملیت پسندی (Practicalism)کے مطابق بات کرتا ہوں۔دنیا میں مختلف نظاموں کیلئےکیپٹل ازم، سوشل ازم، کمیونزم اور ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔اگرچہ جمہوریت بڑااچھانظام ہے اور دنیا میں غیرمسلم جمہوری ممالک بالخصوص یورپی ممالک میں عملاً جمہوری نظام رائج ہےلیکن کیا کسی غیرمسلم جمہوری ملک نے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف ٹھوس اورعملی قدم اٹھایا جس سے اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھا جاسکے؟ فرانس، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، سوئیڈن اورناروے سمیت کس ملک نے کہاکہ ہم اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہیں اور��سے طاقت کے ذریعے جارحیت سے روکیں گے؟
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں صرف مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل کے حل اورمقصد کے حصول کے لئے میدان عمل میں آکرعملی اقدامات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ دنیامیں یہی ہوتا آیا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء
30 ستمبر 1988: جب کئی گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں نے حیدرآباد میں داخل ہوکر شہریوں پر اندھادھند فائرنگ کی ۔ آدھےگھنٹے تک خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی،پولیس اور انتظامیہ غائب رہی۔300 سے زائد مہاجرشہید کردیےگئے، قادر مگسی اور دیگرقاتل بری کردیےگئے
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
ایم کیو ایم کےخلاف دن رات بھونکنے والے نفرت و تعصب کے سوداگروں کی زبان سے کبھی اس قتل عام کا زکر نہیں ہوتا اسلئے کہ 30 ستمبر 1988 کو حیدرآباد میں جن کا قتل عام کیا گیا وہ مہاجر تھے۔
اس منسلک وڈیو کو دیکھئے اور ��را سوچئے کہ مہاجروں پر کیسا کیسا ظلم کیا گیا ۔
یہ حکومت کی بے حسی، بے غیرتی بے شرمی ہے کہ صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لئے حکومت پاکستان کے پاس پیسے نہیں تھے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے سرکاری خزانے سے 13 سے 14 ارب روپ�� میں قیمتی جہاز خریدا گیا۔
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر 1988ء
کسی صحافی،اینکر پرسن، تجزیہ نگار،یوٹیوبر کو یاد ہےکہ
مہاجر قوم پر کیا قیامت ڈھائی گئی ؟
یاپھر بھول گئے؟
کہ
حیدرآبادشہرمیں مسلح دہشتگردوں کی قتل وغارتگری
سینکڑوں مہاجرشہیدوزخمی کیےگئے
سفاک قاتلوں کوعدالت نےبری کردیا
اللّہ، شہداءکےدرجات بلندکرے،آمین
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سےپاکستانی عملےسمیت پانچ افرادکی شہادت بڑاسانحہ ہے۔
ریاست پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے تاوان کاانتظام کرتی لیکن اس نے ایسانہیں کیا۔
جو پاکستانی مغوی شہیدہوئے ہیں ان کاخون وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
کراچی کے شہری،وفاپرست ساتھی اورہمدرد غمزدہ فیملیزکاغم بانٹیں، شہیدوں کی تجہیزوتکفین کے انتظامات میں حصہ لیں۔
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پرہنگامی خطاب
……………………………
صومالی قزاقوں کی جانب سے ہائی جیک کئے گئے تیل بردارجہاز کے یرغمال عملے کے شہیدوزخمی ہونےکاواقعہ ایک بڑا سانحہ ہے اورمیں اس سانحہ میں شہیدو زخمی ہونے والوں کی فیملیز کے ایک ایک فرد سے دلی تعزیت کااظہارکرتاہوں اور اس سانحے پرمیں ان کے ساتھ ہوں۔
تیل لےجانے والاجہاز جس کانام ” آنر“ HONOUR تھا۔جس پرسوار عملے کی تعداد 17 تھی۔جہاز کے عملے میں 17میں سے 10 افراد کاتعلق پاکستان سےتھا جبکہ عملے کے باقی سات ارکان کاتعلق انڈونیشیا، انڈیا، سری لنکااوربرما سے تھا۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جارہاتھا۔ 24 اپریل 2026ء کو جب یہ جہازصومالیہ کےسمندری علاقے میں پہنچاتو صومالی قزاقوں نے اس جہازکو ہائی جیک کرلیا۔ صومالی قزاقوں کی جانب سے ��رغمالیوں کی رہائی کےلئے تاوان مانگا گیا تھا۔لیکن حکومت پاکستان نے سنی ان سنی کردی۔ جہاز کے پاکستانی عملے کے ارکان کی فیملیز نے حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے فریادیں کیں کہ ان کے پیاروں کی بازیابی کے لئے کوششیں کی جائیں۔ افسوس کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔آج مورخہ 29ستمبر 2026ء کویہ افسوسناک اطلاع ملی کہ بحری قزاقوں اورصومالیہ کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اورقزاقوں نے جاتے جاتے فائرنگ کرکے کئی مغویوں کو شہیدوزخمی کردیا۔قزاقوں کی فائرنگ سے جہاز کے عملے کے پانچ ارکان شہید اورچار شدیدزخمی ہوگئے۔جن میں تین پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈانجینئر محمودانصاری، بوائلرآپریٹر رفیع اللہ شامل ہیں جبکہ ایک انڈین اورایک میانمار کاشہری شامل ہے۔
یہ ایک بہت بڑاسانحہ ہے اورمیں اس سانحے پر بہت دکھی اورغمزدہ ہوں۔میں سوال کرتا ہوں کہ اگرکسی ملک کاکوئی جہازہائی جیک کرلیاجائے تواس ملک کی وزارت بحری امور، پورٹس اینڈشپنگ اور وزارت خارجہ حرکت میں آتی ہے، جو دوسرے ملک کی حکومتوں اور سفارتخانوں کے س��تھ ساتھ اقوام متحدہ کی میری ٹائم فورسزاوردیگرمتعلقہ اداروں سے رابطے کرتی ہیں اورسفارتی سطح پر تمام تروسائل اورتعلقات استعمال کرکے اپنے یرغمالی شہریوں کی بازیابی کےلئے کوششیں کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان کوبھی چاہیے تھاکہ وہ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک کئے گئے جہازکے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لئےتمام تر حکومتی اور سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرتی، قزاقوں سے رابطے کرتی، ان پر سفارتی دباؤ ڈلواتی، اپنے شہریوں کی جان بچانے کےلئے تاوان کی ادائیگی کا انتظام کرتی۔لیکن افسوس کہ حکومت پاکستان نے ایسانہیں کیا۔جب مجھ پر پابندی نہیں لگی تھی اور ایسے ہی ایک پاکستانی جہازکے عملے کو صومالی قزاقوں نے یرغمال بنالیاتھاتومیں نے یہ سب کوششیں کرکے عملے کی بحفاظت پاکستان واپسی کروائی تھی۔ اگریہ سب کچھ میں کرسکتا تھا توحکومت نے کیوں نہیں کیا؟ یہ وفاقی وصوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں تھی توکس کی ذمہ داری تھی؟ ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغوی شہریوں کوچھڑانے کے لئے سرکاری خزانے سے رقم اداکرکے انہیں بحفاظت واپس لیکرآئے لیکن پانچ مہینے تک کسی نے نہیں سنا۔ یہ موجودہ حکمرانوں کی بے غیرتی اوربے شرمی ہے کہ اپنے شہریوں کی جانیں بچانے کے لئے ان کے خزانے میں پیسے نہیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے انتہائی لگژری جیٹ گلف اسٹریم G500 خریدنے کے لئے 45سے 50 ملین امریکی ڈالر نکل آئے جولگ بھگ پاکستانی 13سے 14ارب روپے بنتے ہیں۔ جوپاکستانی یرغمالی شہیدہوئے ہیں ان کا خون وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
یہ موجودہ حکومت کی غفلت اور بے حسی ہے کہ جہازکے مغویوں کی فیملیز نے جب حکمرانوں سے درخواستیں کیں، کسی نے توجہ نہیں دی۔ اتوار 6 ستمبر کو یرغمالی عملے کی مظلوم فیملیزنے مجبورہوکر کراچی میں شاہراہ فیصل پر واقع پاکستان کی وزارت خارجہ کے رابطہ دفتر کے سامنے پلے کارڈز لیکر دریاں بچھاکردھرنا دیدیا کہ وفاقی حکومت ان کے پیاروں کی رہائی کے لئے فوری اقدامات کرے، لیکن ان کی فریادسننے کے بجائے پیر7 ستمبر کی صبح سندھ پولیس نے ان فیملیز کوجن میں خواتین، بزرگ، نوجوان شامل تھے،ان کےپلے کارڈز پھاڑے، دریاں پھاڑدیں اوران سب کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا۔ سندھ پولیس اورحکومت کوایسا کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی شرم نہیں آئی۔ یہ سندھ پولیس والے ڈاکو ہیں، ڈاکوؤں کے سردارہیں،
1/2
صومالی قزاقوں نے 21 اپریل 2026 کو تیل بردار جہاز کو اغوا کیا گیا جس کے عملے میں 10 پاکستانی تھے، آج قزاقوں کی فائرنگ سے عملے کے پانچ ارکان شہید اورکئی زخمی ہوگئے۔پانچ مہینے8 دن تک حکومت پاکستان، ریاست پاکستان کہاں تھی؟ الطاف حسین
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
پاکستان میں غیریقینی کی صورتحال تشویشناک ہے۔کہا جارہا ہے خیبرپختونخوا
میں اسمبلی معطل کرکے گورنر راج نافذ کیا جارہا ہے ۔
پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کارکنوں کے ساتھ مذاق بند کرے، غیریقینی صورتحال کا خاتمہ کرے ۔
تاریخ تاریخ ہوتی ہے جس کوجھٹلایا نہیں جاسکتا اورتاریخ یہ ہے کہ مہاجروں کے ساتھ نفرت اورتعصب برتا گیا، مہاجروں کے ساتھ نفرت آج کی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ اسی نفرت اور تعصب نے مہاجروں میں اِس سوچ کوجنم دیا کہ پاکستان ایک دھوکہ ……پاکستان ایک غلطی …… پاکستان ایک جرم……پاکستان ایک سزا ……پاکستان ایک گناہ ہے۔
یہ بات صرف ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے اردو بولنے والے مہاجروں کے لئے ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کے لئے سوچنا ہوگا کہ ہم نے کیا کھویا اورکیا پایا؟ اس حوالے سے تفصیلی حقائق جاننے کے لئے میری کتاب ” پاکستان کی آزادی کے پچاس برس …… کیا کھویا، کیا پایا “ موجود ہے۔
یہ جرم، یہ گناہ اور سزاصرف ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے لئے ہے۔ تحقیق کرلی جائے کہ جب غیرمنقسم ہندوستان میں 1945-46ء میں مرکزی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے توہندوستان کے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کوکہاں کہاں کامیاب کرایا۔ اس میں مشرقی پاکستان کوایک طرف رکھ دیجئے کیونکہ وہ اب پاکستان سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان میں 1945-46ء میں سینٹرل اورصوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے تو جہاں پاکستان بنا، یعنی موجودہ پاکستان کے علاقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ کوملنے والی نشستوں کی تعداد 8 تھی اورجہاں پاکستان نہیں بنا وہاں آل انڈیا مسلم لیگ کو مرکزی قانون سازاسمبلی کی22 نشستیں ملیں۔ کیا یہ دھوکہ نہیں کہ جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کو 22 نشستیں ملیں وہاں پاکستان نہیں بنا اور جہاں 8 نشستیں ملیں وہاں پاکستان بنایا گیا؟ کیا یہ ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے ساتھ د��وکہ نہیں؟ کیا یہ سزا نہیں؟ کیا یہ جرم نہیں؟
تمہارا جرم یہ ہےکہ تم نے آل انڈیا مسلم لیگ کو زیادہ ووٹ کیوں دیے؟ یہ تمہاری سزا ہے کہ تمہاری نشستیں زیادہ ہیں لیکن تمہارے علاقوں میں تمہیں پاکستان نہیں دیں گے۔ تمہارا گناہ یہ ہے کہ جب تمہیں 22نشستیں ملی تھیں توتم نے 8 نشستوں والے پاکستان کوقبول کیوں کیا؟ یہ گناہ نہیں ہوا تو پھر کیا ہوا؟
جہاں مسلم لیگ کو22 نشستیں ملیں آپ نے ان تمام مسلمانوں کوبھارت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا، یہ ان کے ساتھ دھوکہ اورفراڈ نہیں تھا توکیا تھا؟ یہ ظلم نہیں تھا، ناانصافی نہیں تھی توکیا تھا؟
آج پاکستان کے ماما وہ بنے پھرتے ہیں جواُس وقت انگریزوں کے جوتے صاف کررہے تھے۔
محصورین بنگلہ دیش:
قیام پاکستان کے بعد جومہاجرہندوستان سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان میں آباد ہوئے جنہیں بہاری کہا جاتا ہے، جنہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک چلی تو انہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا، پاکستان کوبچانے کے لئے 1971ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کا شانہ بشانہ ساتھ دیا، جس کی پاداش میں وہ مہاجرلاکھوں کی تعداد میں گاجرمولی کی طرح کا ٹ دیے گئے لیکن جب سقوط ڈھاکہ ہوا، پاکستان کی فوج نے ہتھیارڈال دیے اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکربنگلہ دیش بن گیا، پاکستان کی فوج تو انڈیا میں قیدرہ کر دوسال بعد پاکستان واپس آگئی لیکن پاکستان کا ساتھ دینے والے ان مہاجروں کو 55سال گزرجانے کے باوجود آج تک پاکستان نہیں لایا گیا، وہ آج بھی بنگلہ دیش میں ریڈکراس کے کیمپوں میں محصور ہیں، وہ کیمپوں میں سسک رہے ہیں پھربھی ان کے کیمپوں پر آج بھی پاکستان کے پرچم لگے ہوئے ہیں۔ کیا ریڈکراس کے کیمپوں میں ان مہاجروں کی سسکتی ہوئی زندگیاں پاکستان پر، پاکستان کی فوج کے منہ پر ایک بھرپور طمانچہ نہیں کہ وہ پاکستانی فوجی جنہوں نے 1971ء کی جنگ میں ہتھیارڈالے وہ دو سال میں وطن واپس آگئے اور جنہوں نے پاکستان کی خاطر بنا ہتھیار فوج کا ساتھ دیا، انہیں پاکستان واپس نہیں لایا گیا، پاکستان آنے کی راہ تکتے تکے ان کی کئی نسلیں دنیا سے چلی گئیں اورموجودہ نسلیں آج تک ریڈکراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگیاں گزار رہی ہیں۔ ہم نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے جوبھی تحریری معاہدے کئے ان میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کا نکتہ شامل تھا لیکن کوئی حکومت ان پاکستانیوں کووطن واپس نہیں لائی۔اگر پاکستان کوبچانے کے لئے لازوال قربانیاں دینے والے ان مہاجروں کوپاکستان واپس نہیں لایا گیا تویہ پاکستان قائم نہیں رہے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 474 ویں فکری نشست سے خطاب
27 ستمبر 2026ء