7 اکتوبر کو پیر سید ظہیر الحسن شاہ صاحب کو گرفتار کیا گیا، لیکن ہماری طرف سے کوئی ردِ عمل نہیں دیا گیا۔
اس کے باوجود 8 اکتوبر کو مسجد رحمۃ للعالمین پر دھاوا بولا گیا، جس کے نتیجے میں 2 مسلمان شہید اور 13 لوگ شدید زخمی ہوئے۔
پُرامن مارچ کا اعلان 10 اکتوبر کا تھا، لیکن اسرائیل نواز فسطائی حکومت کی ایماء پر 8 اکتوبر کی شب ہی جامع مسجد رحمۃ للعالمین پر پنجاب پولیس نے شب خون مارا۔
پوری رات شیلنگ اور سٹریٹ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں 2 نہتے شہری جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ 13 شدید زخمی ہوئے۔
فسطائی حکومت کی جانب سے مریدکے میں کی جانے والی ظلم و بربریت نہ بھولیں گے نہ بھولنے دیں گے۔
تمام کارکنان و محبین 12 اکتوبر کے تاریخ ساز ٹرینڈ کے لیے بھرپور تیاری کریں۔
جرنیلِ اہلسنت پیر سید ظہیر الحسن شاہ بخاری غیرت کا نشان ہیں۔
فرمانِ امیرالمجاہدین، فنا فی خاتم النبیین
جرنیلِ اہلسنت قبلہ شاہ صاحب کی قربانیاں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ قید کو ایک سال گزر جانے کے باوجود آپ آج بھی بابا جانؒ کے نظریے کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔
اے حلقۂ درویشاں، وہ مردِ خدا کیسا
ہو جس کے گریباں میں، ہنگامۂ رُستا خیز
آج 7 اکتوبر کو بابا جیؒ دے یار نوں گرفتار ہوئیاں اِک سال گزر گیا۔
جرنیلِ اہلسنت پیر سید ظہیر الحسن شاہ بخاری تہاڈی استقامت نوں لکھاں سلام!