سیاسی بیان بازی الزامات اور رونے دھونے سے اب بات نہیں بنے گی کیونکہ آج کے با شعور اور سوشل میڈیا دور کے نوجوان صرف کارکردگی دیکھتے ہیں۔ سندھ میں مسلسل حکومت اور آزاد کشمیر میں پچھلے ایک سال سے حکومت کے باوجود جب حالات کنٹرول نہ ہوئے اور بتانے کو کچھ نہ رہا تو سارا بلیم وفاق پر ڈال کر دھاندلی کا رونا رویا جا رہا ہے، جبکہ عوام نے مسلم لیگ (ن) کی عملی کارکردگی گرین بس، اپنی چھت اپنا گھر، کسان کارڈ، بہترین سڑکوں، امن و امان اور ترقی کو ووٹ دیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں عوام نے ثابت کر دیا کہ ووٹ الزامات پر نہیں، کارکردگی پر ملتا ہے۔ جب حکومت، وزیراعظم، انتظامیہ اور انتخابی عمل سب آپ کی نگرانی میں تھا تو دھاندلی کا الزام آخر کس پر؟ ایک سال حکومت میں رہ کر نہ عوام کو ریلیف دیا، نہ گورننس بہتر بنائی، نہ کوئی اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا نہ حالات کنٹرول کر سکے۔
عوام کو الزام تراشی، ذاتیات اور شور نہیں، بلکہ ترقی، بہتر طرز حکمرانی، عوامی خدمت اور عملی منصوبے درکار ہوتے ہیں، اسی لیے وہ کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔
1990 سے 2026 تک گندم کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا۔
گزشتہ 36 برسوں سے پنجاب مسلسل اپنی ضرورت سے زائد گندم پیدا کر رہا ہے۔ تاہم، پنجاب کو نہ صرف دیگر صوبوں کی ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں بلکہ پیداوار کا ایک حصہ اسمگل ہو کر دوسرے ممالک بھی چلا جاتا ہے۔
اس تجزیے میں میں نے ان اہم مسائل کی نشاندہی کی ہے جن کا پنجاب کو آج سامنا ہے، اور ان پالیسی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ہے جو حکومت کو اس صورتحال کے بہتر انتظام کے لیے اختیار کرنے چاہییں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنی تقاریر میں کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا غصہ یہ تھا کہ جب بات کارکردگی پہ آئی تو پیپلز پارٹی کے پاس دلھانے کے لئے کچھ نہیں تھا -
بھائ خدا کیلئے
جذباتی ہونے سے پہلے پوچھ لیا کریں ۔
سسٹم کی digitisation کا پراسسیس جاری ہے۔ اور یہ اسی پالیسی کا حصہ ہے جس سے first mile visibility مزید بہتر ہو گی۔
اربوں کا ٹیکہ کیسے لگا ؟ آپ بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں ۔
بارش آئی، لیکن زندگی نہیں رکی۔۔۔ نہ بچوں کا اسکول متاثر ہوا، نہ مزدوروں کا روزگار، نہ دکانداروں کی کمائی۔۔۔ وجہ ہے پنجاب بھر میں واسا کی ٹیموں کی مسلسل محنت، جو پانی کی نکاسی کے لیے دن رات فیلڈ میں موجود ہیں
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں مون سون کی صورتحال، اربن فلڈنگ سے نمٹنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ انسانی و مشینی وسائل بروئے کار لا کر نکاسیٔ آب اور ہنگامی امدادی کارروائیاں مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں، جبکہ بجلی سے ہونے والے حادثات کی روک تھام، خستہ حال عمارتوں کی نگرانی، تعمیراتی مقامات پر حفاظتی انتظامات اور دریاؤں، ڈیموں و بیراجوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی حفاظت اور بروقت ریلیف حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔
مظفر آباد
جلسہ شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے مسلسل برستی بارش میں سینئر منسٹر پنجاب مریم اورنگزیب صاحبہ جلسہ گاہ میں عوام کیساتھ موجود رہیں اور عوامی اجتماع کا جو ماحول ہونا چائیے وہ بنائے رکھا 👏👏👏
محفوظ سفر، بااعتماد مستقبل وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif کے وژن کے تحت ورکنگ ویمن اور طالبات کے لیے علیحدہ نئی میٹرو بسوں کا آغاز، تاکہ ہر خاتون باوقار، محفوظ اور پُرسکون انداز میں اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
جب سفر محفوظ ہو، تو خوابوں کی منزل بھی قریب ہو جاتی ہے۔
ہمارے پنجاب کی کہانی
1۔ 15 سو کروڑ روپے کی لاگت سے 8000 کسانوں کو ٹیوب ویل سولر پر کر دیئے ساتھ ہی ایک لاکھ گھرانوں کو 550 واٹ اور 1100 واٹ کے مکمل سولر سسٹم لگا کر دیئے ۔
2۔ ہمارے پنجاب کی وزیراعلی نے اپنے 30 ماہ کی حکومت میں 250 کروڑ ڈالر کا قرضہ کم کیا ۔ بھگونت مان نے 1700 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا ۔ اور بھارتی پنجاب کا کل قرضہ 5200 کروڑ ڈالر پر پہنچا دیا ۔ جو کہ پاکستان کے کل قرض کا 70% ہے۔ جبکہ ہمارے پنجاب کی آبادی بھگونت مان کے پنجاب سے 4 گنا زیادہ ہے ۔
3۔ باتیں کرنا اور چٹکلے سنانا ایک stand up comedian کا کام ہے۔ لیکن گھر کا سنجیدہ بڑا ہمیشہ پائیدار ترقی اور اثاثے بناتا ہے۔
4۔ ہماری وزیراعلی اب تک 1لاکھ 70 ہزار غریب گھرانوں کے گھر شروع کروا چکی جس میں سے 120 ہزار بن چکے
5۔ ہماری وزیراعلی 550 ہزار مریضوں کو گھر میں مفت دوائ بھجواتی
6۔ ہماری وزیراعلی 10 لاکھ چھوٹے کسانوں کو کسان کارڈ دے چکی جس سے 350 ارب کا بلا سود قرضہ استعمال کر چکے
7۔ 15 ہزار بچوں کی دل کی مفت سرجری کروا چکی
8۔ 32000 کلومیٹر روڈ بنوا چکی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت اور الفاظ کم ہیں ۔۔۔ یہ 5 فی صد ہے جو ہماری وزیراعلی کر چکی ہیں ۔۔۔ لیکن ہمیں ہمیشہ کہانیاں اور چٹکلے پسند آتے ہیں