Imagine you are 21 years old. You have played eight first-class matches in your life. You did not even have a passport a week ago.
Then you land in England.
Your first over averages 89.7mph. Every single delivery of that over is quicker than every other ball any Pakistan bowler has sent down on this entire tour. You trap the greatest Test batter England has produced before you have conceded a single run in Test cricket. You finish with four wickets.
Then you come back with the bat, score 81 from the bottom of the order in a day, and end up as the second-highest run scorer of the side. You break the record for the most sixes by a debutant in Test history. And you play an innings that wakes up an entire ground, and an entire country, in the space of a couple of hours.
That is where you tell the world that Pakistan has never had a shortage of talent. Only a shortage of people willing to look for it.
What a story. What an absolute beauty of a Test cricket session.
2 fucking years of struggle and infinite sacrifices that all started at this point. we’ve sacrificed lives, endure the state’s unprecedented fascism; for what?
tonight, a few thugs in power denied us our fundamental rights via a blatant miscarriage of justice… heartbreaking.
Dear world,
Israel just bombed a Christian hospital in Gaza and murdered over 500 Palestinian civilians. White phosphorus chemical bombs confirmed by human rights watch was not enough to open your eyes. Over 1000 dead children wasn’t enough. Will you open your eyes and act now?
Canada is deeply concerned by the dire humanitarian situation in the Gaza Strip. Unimpeded humanitarian access is essential to address the urgent needs of civilians. Canada calls for international law, including humanitarian and human rights law, to be respected.
۱۸ مارچ کو خان صاحب کی عدالت پیشی پر ان کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس آیا۔ اس دن خان صاحب کی گاڑی کو جس طرح سے گھیرے میں لیا گیا۔ جس انداز میں شیلنگ کی گئ فوٹیجز پوری دنیا نے دیکھی ہیں کسی کو گمان نہیں رہنا چاہئے کہ وہ سیٹ آپ خان صاحب پر ایک اور قاتلانہ حملے کا تھا۔ اس کے بعد اگلی مرتبہ جب انہوں نے عدالت میں گاڑی سے اترنے پر مجھے اپنی گاڑی کے ساتھ موجود دیکھا تو اپنے سٹاف کو جھڑک کر مجھے گاڑی میں بیٹھنے کی تاکید کی۔متعدد بار ان کی پیشیوں کے لیے تیار ہو کر نکلتا اور خان صاحب منع کردیتے تھے کیونکہ ان کے پاس مستند معلومات تھیں کہ مجھے قتل کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ جس کے لیے بنائے کئ منصوبے پہلے ہی بے نقاب کرچکا ہوں۔ ان کی دونوں مرتبہ گرفتاریوں پر مجھے ان کی جانب سے یہی ہدایت موصول ہوئیں کہ کسی بھی صورت خود کو خطرے میں نہیں ڈالنا۔ موجودہ صورتحال میں سختی سے تاکید کی گئ اور بارہا کی گئی کہ کوئ بھی ایسا قدم نہیں اٹھانا جس سے تمہاری زندگی خطرے میں پڑ جائے۔ خیر اندیشوں کی جانب سے جس منصوبہ بندی کی خبریں دی جارہی ہیں وہ سادہ ترین الفاظ میں بھی نہایت گھناؤنی ہیں۔ قصہ مختصر، ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے، دل پہ جبر کرنے کے سوا فی الوقت کوئ چارہ نہیں۔
۵ اگست سے عمران خان کو بوگس کیسز میں جعلی ٹرائلز کے تحت قید رکھا گیا ہے۔ ان کی ساتھ بدترین سلوک ہورہا ہے۔ وہ تو اس ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے گریزاں نہیں لیکن ہم کہ جن کو اللہ نے عمران خان کی نسبت سے اتنی عزت دی ہے کہ ہماری آواز پر قوم اس جھنڈے کے نیچے یکجا ہوتی ہے آج بھی یہ آواز لگانے کے لیے اتنے ہی بے چین ہیں جتنا اس پہلی رات تھے جب تم نے ہمارے منتخب وزیراعظم کو سازش کرکے نکالا۔ ہم تب بھی امن سے اپنے ملک اور اپنے قائد کی محبت میں نکلے تھے۔ ہم اس کے بعد بھی سینکڑوں مرتبہ اسی طرح “پاکستان زندہ باد، عمران خان پائندہ باد” کے نعرے کے ساتھ اپنے ملک، اپنے مستقبل، اپنی قومی حمیت اور آزادی کے لیے نکلے۔ تمہارے ارادے ۹ اپریل کو بھی ناپاک تھے، ۲۵ مئ کو بھی، ۴ نومبر کو بھی، ۱۴ اور ۱۸ کو مارچ کو بھی اور ۹ مئ کو بھی۔ اگر ایک بار اپنے ارادوں میں جزوی کامیابی پا کر تمہیں یہ گماں ہے کہ تمہارے گذشتہ ڈیڑھ سال کے ظلم و ستم اور ۹ مئ کے اپنے فالس فلیگ آپریشن کے بعد توڑے مظالم نے ہمارے حوصلے توڑ دیے ہیں تو آنکھیں کھولو آج بھی تمہارے عقوبت خانے ہمارے ایقان کی حدت سے لرزاں ہیں۔ آج بھی تم اس کی ایک جھلک تک سے خوفزدہ ہو۔ آج بھی تم قوم کی سوچ کا سامنا کرنے سے گریزاں ہو۔
اور ہم آج بھی وہی لوگ ہیں جنہوں نے بنی گالہ کی سڑکوں پر گرم و سرد میں بسیرا ڈالا تھا۔ ہم آج بھی وہی لوگ ہیں جن کے وجود ۱۴ اور ۱۵ مارچ کو اس کی ڈھال بنے تھے۔ ہم آج بھی وہی قوم ہیں جو تمہارے ناپاک منصوبے کی بھنک پاکر اسلام آباد کی سڑکوں پر امڈ آئ تھی اور خالی ہاتھ تمہارے ظلم کے سامنے سینہ سپر ہوگئ تھی۔ عمران خان کل بھی ہماری ریڈ لائن تھا اور آج بھی ہماری ریڈ لائن ہے۔ ہم عمران خان کے حکم پر صبر کیے بیٹھے ضرور ہیں لیکن یہ صبر عمران خان کی زندگی کی قیمت پر نہیں کیا جائیگا!