وہ ایک بہادر، وفادار اور عوامی لیڈر ہیں جنہوں نے جیلوں، مشکلوں اور دباؤ کے باوجود پی ٹی آئی اور عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ایسے ہی لیڈرز قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔
*سہیل آفریدی
#نکلو_پشاور_کی_طرف#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
جب رات کے سینے پر ظلمت کے پہرے ہوں،
جب حق کے مسافر پابندِ سلاسل ٹھہرے ہوں،
جب تخت نشین خود کو تقدیر سمجھ بیٹھیں،
اور خلق کے فیصلے دیواروں میں قید کر دیے جائیں—
تب تاریخ کے افق پر ایک نام گونجتا ہے: عمران خان!
وہ نام جسے مٹانے کی ہر کوشش، اس کے چاہنے والوں کے عزم کو نئی آواز دیتی ہے؛
وہ خواب جسے قید نہیں کیا جا سکتا، وہ عہد جسے خریدا نہیں جا سکتا،
وہ صدا جس کی بازگشت پشاور سے خیبر تک سنائی دیتی ہے!
نہ خوف کی زنجیر، نہ جبر کی دیوار،
نہ جھکنے کا ارادہ، نہ بکنے کا سوال!
خان کا نظریہ، عوام کا اختیار—
اب فیصلہ کرے گی خلقِ خدا، اب گونجے گا انقلابِ شعور کا نعرہ!
رات چاہے قیامت کی ہو، صبح نے طلوع ہونا ہے؛
طوفان چاہے سمندر کو چیر دیں، سفینے نے ساحل کی سمت بڑھنا ہے!
اور ہم نے عمران خان سے وابستہ اپنے سیاسی مؤقف، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے پُرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے، ان شاء اللہ!
اے پشاور! اٹھ، اپنی آواز کو طوفان بنا دے—
اپنے حق کی صدا کو ہر ایوان تک پہنچا دے!
جہاں سارا مُلک بِک گیا وہاں شوکت خانم کا بیٹا ہی واحد وہ ہیرا تھا جس کو کوئی نہ جُھکا سکا نہ ہی خرید سکا
یہ وطن ہمارا ہے، اس کا مستقبل بھی ہمارا ہے!
ہم قابض ٹولے کے تسلط کو ماننے سے انکاری ہیں!
آؤ، امید کا پرچم اٹھائیں، حق کی آواز بنیں اور ایک پُرامن پاکستان کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
📍 11 اکتوبر — پشاور
ہر قدم حقیقی آزادی کی طرف!
#نکلو_پشاور_کی_طرف
#گورنر_راج_نامنظور
#نکلو_پشاور_کی_طرف#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
پشاور کے زخموں سے آج بھی لہو ٹپکتا ہے، ہر ماں کی دعا میں درد کا دریا چھلکتا ہے، ہر گلی میں کسی بیوہ کی سسکیوں کا ماتم ہے، ہر چوک پہ کسی یتیم کی آنکھوں میں سوالِ ستم ہے!
ہم نے کتابوں کے خواب سجائے تھے جن آنکھوں میں، وہ بچے آج تابوتوں میں سوئے ہیں، ہم نے جن بہنوں کے ہاتھوں میں پھول سجانے تھے، وہ خوف کے سائے میں اپنے راستے کھوئے ہیں!
گورنر راج نامنظور! ایمرجنسی نامنظور! ہم نے دہشت کے سامنے سر نہیں جھکایا، پھر آئین کے گلے پہ یہ خنجر کس نے چلایا؟ کس جرم کی سزا ہے، اے اہلِ اقتدار! کیوں چھینا جا رہا ہے ہمارے صوبے کا اختیار؟
یہ خیبر پختونخوا ہے، قربانیوں کی سرزمین، یہاں ہر ذرّے میں دفن ہے کسی شہید کی کہانی! یہ مٹی لہو سے سینچی ہے، کسی تخت کی جاگیر نہیں، یہ عوام کا گھر ہے، کسی فرمان کی اسیر نہیں!
**اب زخموں کا حساب بھی ہوگا، حقوق کی بات بھی ہوگی، آئین کی حرمت کی خاطر ہر آواز بلند ہوگی! پشاور پکار رہا ہے، اے اہلِ وطن، اب نکلو، اپنے حق، اپنے وقار اور اپنے مستقبل کے لیے نکلو!
گورنر راج نامنظور! ایمرجنسی نامنظور! عوام کا حق تسلیم کرو، آئین کی بالادستی قبول کرو! اب راج کرے گی خلقِ خدا، ان شاء اللہ، ان شاء اللہ!**
#نکلو_پشاور_کی_طرف#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
پشاور! تیری صدا میں آج عمران خان کا نام ہے!
یہ صرف ایک شہر کا نوحہ نہیں، یہ عمران خان کے نام سے جڑی امیدوں، آئین کے حرف حرف، اور عوام کے ادھورے خوابوں کا ماتم ہے!
جیل کی دیواریں بلند سہی، آواز کو دیوار کیا روکے گی؟ زنجیریں جسم کو باندھ سکتی ہیں، سوچ کو کون باندھے گا؟ جو سوال عمران خان نے عوام کے سامنے رکھا، وہ سوال آج ہر گلی، ہر چوک، ہر دل میں زندہ ہے!
اے پشاور! تیری خاموشی اب تاریخ کا بوجھ نہ بن جائے، تیری نسلوں کا مستقبل مصلحتوں کی نذر نہ ہو جائے! یہ مٹی پوچھ رہی ہے، میرا حق کہاں ہے؟ یہ نوجوان پوچھ رہے ہیں، میرا کل کہاں ہے؟ یہ مائیں پوچھ رہی ہیں، میرے بچوں کے حصے میں امن کیوں نہیں؟ اور یہ آئین پکار رہا ہے، میری بالادستی کا عہد کہاں ہے؟
عمران خان! تیرا نام اب ایک سوال بھی ہے، ایک صدا بھی، کسی کے لیے امید کا چراغ، کسی کے لیے اختلاف کی آواز بھی۔ مگر عوام کے حقوق، آئین کی حرمت اور انصاف کا سوال کسی ایک شخص سے بڑھ کر، اس وطن کے مستقبل کا سوال ہے!
اے اہلِ پشاور! اب وقت ہے کہ اپنی آواز بلند کرو!
نکلو اپنے آئینی حقوق کے لیے، نکلو اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے، نکلو امن، انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے! اپنی آواز کو پُرامن احتجاج بناؤ، اپنے اتحاد کو عوامی شعور کی پہچان بناؤ، اور اپنے مطالبات کو اتنا واضح کرو کہ اقتدار کے ایوان بھی انہیں سننے پر مجبور ہوں!
نہ نفرت ہماری منزل، نہ تشدد ہمارا راستہ، ہماری طاقت ہمارا اتحاد، ہمارا ہتھیار ہمارا آئین! ہم سوال کریں گے، ہم حساب مانگیں گے، ہم اپنے حق کی بات سر اٹھا کر کریں گے!
نامنظور! ہر وہ فیصلہ جو عوام کے حق کو کچلے! نامنظور! ہر وہ روش جو آئین کی روح کو روندے! منظور ہے صرف انصاف، امن اور عوام کی حکمرانی!
پشاور اٹھے تو آواز بنے، خیبر پختونخوا بولے تو سوال بنے، اور جب خلقِ خدا اپنے حقوق کے لیے میں کھڑی ہو، تو اس کی صدا تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو!
عمران خان کا ذکر ہو، مگر مطالبہ عوام کے حق کا ہو؛ آواز پشاور کی ہو، مگر پیغام پورے پاکستان کا ہو!
#نکلو_پشاور_کی_طرف#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
عمران خان! تیرے نام پہ آج خیبر پختونخوا لہو لہو ہے،
تیرے خوابوں کی سرزمین پر جبر کا ہر منظر لہو لہو ہے!
تیرے مینڈیٹ کے ماتھے پر ایمرجنسی کا سیاہ فرمان لکھا گیا،
جمہوریت کے سینے پر جیسے ایک اور زخمِ گہرا لکھا گیا!
عمران خان! یہ کیسا دورِ ستم ہے، یہ کیسی سیاہ رات ہے،
تیرے نام پہ خاموش فضاؤں میں چیختی ہوئی ہر بات ہے!
تیرے قید خانے سے اٹھتی صدا ہر دل کو جھنجھوڑتی ہے،
تیرے انصاف کی پیاس آج ہر آنکھ کو اشک بار کرتی ہے!
عمران خان! یہ خون نہیں، یہ قوم کے خوابوں کا رنگ ہے،
یہ ہر ٹوٹے ہوئے وعدے کا نوحہ، ہر زخمی امید کا آہنگ ہے!
خیبر پختونخوا کی مٹی آج تجھ سے ایک ہی سوال کرتی ہے،
کیا ووٹ کی حرمت مانگنا بھی اب بغاوت شمار ہوتی ہے؟
#نکلو_پشاور_کی_طرف#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
آج خیبر پختونخوا کی مٹی رو رہی ہے،
ہوا کے سینے میں آہیں ہیں، فضاؤں میں سسکیاں ہیں،
عمران خان کے نام پر اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے
ایمرجنسی کا اعلان نہیں—گویا جمہوریت کے ماتھے پر سیاہی مل دی گئی ہے!
یہ محض ایک حکم نہیں، فسطائیت کا ننگا رقص ہے،
یہ عوام کے زخموں پر نمک، آئین کے سینے میں خنجر ہے،
یہ اُس مینڈیٹ کی توہین ہے جسے عوام نے امانت سمجھ کر دیا،
یہ اُس امید کا امتحان ہے جسے عمران خان کے نام سے زندگی ملی!
عمران خان زندان میں ہے، مگر اُس کا خواب زندہ ہے؛
اُس کی آواز قید ہے، مگر اُس کا نام ہر دل میں گونجتا ہے۔
اے اہلِ اقتدار! تم ایمرجنسی کے فرمان تو لکھ سکتے ہو،
مگر کروڑوں دلوں میں جلتے یقین کو کیسے بجھاؤ گے؟
#نکلو_پشاور_کی_طرف#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
امن جرگے کی قرارداد پر خون سے دستخط ہوئے تھے، ہر سیاسی جماعت نے ایک آواز میں کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کا حق مقدس ہے۔ وہ متفقہ قرارداد عوام کے دل کی دھڑکن تھی، ہر پارٹی کے رہنما نے اس پر مہر لگائی تھی، ہر کارکن نے اسے اپنا ایمان بنایا تھا۔ آج وہی وعدے دیواروں پر پھانسی پا رہے ہیں، وہی قرارداد ردی کی ٹوکری میں پھینکی جا رہی ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کو پاؤں تلے روندھا جا رہا ہے، ان کے اختیارات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ملک کے اہم معاملات میں عوام سے پوچھے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ ناقابلِ قبول ہے، یہ سراسر زیادتی ہے، یہ جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔