میں اگر کہوا کے جس ڈیپارٹمنٹ کو میں اپنے دفتر میں ہیڈ کرتی ہوں، وہاں کرپشن ہوئی ہے, تو پہلی انگلی میری جانب اٹھے گی،پہلے میری investigation ہوگی، لیکن یہاں یہ موصوف اپنے ادارے میں 20ارب کی کرپشن کا انکشاف کر کے سرخرو ٹھہرائے جا رہے ہیں۔
MQM Pakistan Chairman Khalid Maqbool Siddiqui criticized the Pakistan Peoples Party (PPP), claiming that all major development projects in Karachi were carried out during MQM’s tenure in power.
#Karachi#MQMPakistan#TOKReports
گودھراں چورنگی، کراچی کے علاقے کے لوگ پانئ کئ عدم فراہمی کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔بقر عید سے یہ وقت آچکا ہے شہر کے بیشتر علاقے جہاں پانئ کچھ حد تک آتا تھا، وہاں بھی پانی بند ہے۔
یہ زیادتی صرف کراچی کے ساتھ کیوں؟ 18 سال سے پورے سندھ پر مسلسل حکومت اور 2008سے اب تک مرکز میں موجود PPP کی حکومت جو صرف 2018 الیکشن کے تین سال مرکز میں نہیں تھی، کیوں کراچی کے پانئ کا مسلہ حل نہیں کر سکی؟ کیوں اس شہر کے لوگ ٹینکر مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہونے پر مجبور ہیں؟
@CityNews021 کراچی سے نظر کو ہٹا کر پورے پاکستان کی طرف بھی گھمائیے گا، آپکی کاروائیاں صرف کراچی میں ہی نظر آتی ہیں، باقی ماندہ پاکستان کو آپنے استثناء کیوں دیا ہوا ہے؟
@TOKCityOfLights ایف بی آر کے غیر مقامی افسران کراچی کے دکانداروں کو غیر ضروری طور پر ہراساں کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کاروائیاں پورے پاکستان میں کیوں نہیں کی جارہیں؟ صرف کراچی ہی ٹارگٹ پر کیوں ہے؟
@Anayta_Pahore جتنا ہندو سرحد کے دوسری طرف گیا۔۔۔اتنا ہی مسلمان سرحد کے اس پار سے یہاں آیا۔۔۔۔اور یہ بین القوامی معاہدے کے تحت ہوا۔۔۔۔۔80 فیصد سندھ متروکہ ہے اور مہاجروں کی ملکیت ہے۔
روز کراچی کےکسی نہ کسی الگ علاقے کی زبوحالی کی رپورٹ ٹی وی پرنشرہوتی ہے۔اگر مسائل نہ ہوتےتوصحافی کےپاس بھی دکھانے کولچھ نہ ہوتا! لیکن بلاول، سے مئر و وزیراعلی سمیت سب اکڑ کر ان تمام مسائل کو PPP کے خلاف “ پراپیگنڈہ” کا نام دیتے ہیں۔
تف ہے ایسی بے شرمی پر!
ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف کا کہنا ہے کہ کراچی کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ شہر چلانے والوں کا تعلق شہر سے نہیں، شہر کے باہر سے لوگ آکر شہر پر حکمرانی کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس شہر کے وسائل اور گورننس پر ایسے ہی غیر منتخب لوگوں کو قبضہ ہے۔ان لوگوں کو معلوم ہی نہیں اس شہر کے مسائل کیا ہے اور انکو حل کیسے ہونا ہے، کراچی پر حکمرانی کا فیصلہ کراچی کے لوگوں نے کرنا ہے
#TOKAlert #Karachi #JavedHanif
سندھ حکومت نے بلدیہ فیکٹری کے لواحقین کے ساتھ کیا سلوک کیا، سنیئے۔۔۔
سانحہ بلدیہ فیلٹری میں جرمن کمپنی کے کپڑے بنتے تھے، اس نے کسی حادثے کی صورت میں ILO سے انشورنس کروا رکھی تھی، اس مد میں فوری امداد کی جو رقم جو تقریبا 27 crore تھی، جو تقریبا فی victim دس لاکھ آرام سے بنتی، اسے لواحقین میں تقسیم کرنے کے بجائے سندھ حکومت نے بینک میں جمع کر کے اس سے آنے والے انٹرسٹ سے لوگوں کے پینشن دینا شروع کردی، یہئ نہیی، EOBI سے victims کو 3600 روپے ماہانہ پینشن ملتی تھی جو انہیں سالہاں سال صرف 750 روپے دی گئی، اور لواحقین کو اپنے پیسوں سے 5 سال کیس لڑنا پڑا جسکے بعد پینشن چھ ہزار کی گئی۔
یہ سانحات پر صرف وعدے اور دعوے کرتے ہیں، اور بعد میں لواحقین یوں روتے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے خاص طور پر گل پلازہ میں جلنے والے سو سے زائد لوگوں کے لواحقین کے بارے میں بازپرس بھی بہت ضروری ہے، ورنہ وہ بھی بلدیہ سانحہ کے لواحقین کی طرح روتے رہیں گے۔