कितना बेवकूफ था शरजील इमाम।
पटना के सेंट जेवियर से हाई स्कूल किया, डीपीएस वसंत कुंज दिल्ली से 12th पास किया, आईआईटी मुंबई से कंप्यूटर साइंस में बीटेक किया, आईआईटी मुंबई से कंप्यूटर साइंस में एमटेक किया।
डेनमार्क की IT University of Copenhagen में 10,650 अमेरिकन डॉलर के महीने की तनख्वाह थी जो भारतीय मुद्रा में 8 लाख रुपए होती है । सॉफ्टवेयर इंजीनियर और प्रोग्रामर की नौकरी छोड़कर देश में फैली बुराइयों को सुधारने चले थे।
क्या मिला तुम्हें शरजील...जेल की सलाखें....
BREAKING NEWS: Sheikh Ali Hudaify, Imam and Khateeb of Masjid Al Nabawi has been appointed as Hajj Khateeb to deliver this year's Arafat Khutbah at Masjid Al Namirah by The Custodian of The Holy Mosques
#Hajj1447
ایک تصویر میں ٹک ٹاکر ہے جس کے گھر سے چوری ہوئی اور پنجاب پولیس نے چوری شدہ سارا سامان ڈونڈ نکالا اور ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ اور باقی سب تصاویر خیبر پختونخوا کے مشہور ترین عالم دین اور سیاسی شخصیات ہے لیکن ابھی تک خیبر پختونخوا پولیس نے کسی کو انصاف فراہم نہیں کی۔ پنجاب پر تنقید کے بجائے اپنے صوبائی حکومت اور اداروں سے انصاف مانگئے۔
دارالعلوم مدارس کے طلباء، آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شیخ ادریس کو کس نے شہید کیا، لیکن آپ خوف کی وجہ سے ان کے نام ظاہر نہیں کر سکتے، اور عجیب بات ہے کہ آپ قاتل کو اب بھی کہہ رہے ہیں کہ قاتل ہمیں تلاش کرو۔
🚨اہم خبر
ایک معروف دینی عالم کو مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ اداروں نے قتل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آج صبح خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں معروف پشتون دینی عالم شیخ محمد ادریس کو پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق شیخ ادریس اور پاکستانی خفیہ اداروں کے درمیان اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اپنے دینی مؤقف پر ثابت قدم رہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی خفیہ اداروں نے درجنوں معروف علمائے کرام کو، جنہوں نے فوج اور خفیہ اداروں کے مطالبات قبول نہیں کیے، یا تو شہید کیا ہے یا قید کیا ہے۔
مزید یہ کہ پاکستانی خفیہ اداروں اور فوج نے پاکستان کے علما کو بار بار دھمکیاں دیں اور انہیں مجبور کیا کہ وہ فوج اور حکومت کی حمایت کریں اور اسے جائز قرار دیں۔ جو علما اس نظام کو جائز نہیں سمجھتے یا ان کے مطالبات قبول نہیں کرتے، انہیں مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جن میں مولانا سمیع الحق، مولانا حمید الحق حقانی، مولانا نصیب خان اور اب شیخ محمد ادریس شامل ہیں۔
شیخ ادریس صاحب کا اپنے ملک اور افواج سے محبت کا اظہار اور اس کی پاداش میں جاہلوں کی جانب سے پہلے گالیاں اور پھر سفاک درندوں کی جانب سے دن دہاڑے گولیوں سے نشانہ بنانا اس بات کی گواہی ہے کہ اسلام اور ملک سے وفاداری کی قیمت بہت بھاری ہے۔
اللّہ شیخ الحدیث صاحب کی شہادت کو قبول فرمائے