سید اکبر جہلم جیل کے کم عمر ترین قیدیوں میں سے تھا۔ اور سب سے شرارتی بچوں میں سے ٹاپ پر تھا۔ ایک بیوہ ماں کا بیٹا جو غریبی کامقابلہ کرنے کےلیے ویگن کنڈکٹر بن گیاتھا۔ جیل میں کم عمر قیدیوں کےلیے الگ بیرک ہوتاہےجسکو "منڈا خانہ" کہاجاتاہے۔ منڈا خانے کےاکثر لڑکے سیداکبر کی شرارتوں کی شکایت لےکرآتے۔ کبھی کسی کا جوتانہیں مل رہا، کبھی نہاتےہوئےکسی کےکپڑے غائب۔ واشروم کادروازہ قریبا ساڑھے چارفٹ اونچاہوتا۔ کپڑے دروازےپر ہی لٹکےہوتے۔ شرارتوں کی وجہ سےسیداکبرکا اکثر وقت "قصوری"میں ہی گزرتا۔ قصوری جیل کےاندر جیل ہے۔ کوئی غلطی کوتائی ہوئی تو بطورسزا 8×8 کی قصوری میں بندکردیاجاتاجس کےاندرایک کونےمیں واشروم بھی ہوتاتھا۔ قصوری میں ایک وقت میں چارپانچ ملزم بھی بند ہوتے۔ لوگ قصوری کی دھمکی سن کر پریشان ہوجاتے۔ جبکہ سیداکبرکایہ حال تھا کہ اسکو کہو کہ کچھ کرکےتمہیں قصوری سےنکالتے ہیں تو کہتا لالا میں خوش ہوں۔ جراب کےاندر کپڑے ٹھونس کر فٹبال بنایاہے جس سےکھیلتےدن میں۔ پولیس والوں کو چائےلاکردیتاہوں تودن میں سیل سےباہرنکلنےدیتے۔ بلا کا دل گردہ تھا بچے میں۔ جس ہمت اور خندہ پیشانی سےجیل کاٹی وہ ہمت کم لوگوں میں دیکھی۔ جدھر ہو اللہ خوشحال اور سلامت رکھے۔ آمین
خانوزئی ضلع پشین کی بکرہ منڈی میں بدترین آگ لگی ہے۔ عوام کا بےپناہ نقصان ہواہے۔ جبکہ فائربرگیڈ کی گاڑیاں جائےوقوعہ سےقریبا30 کلومیٹر دور مولانا فضل الرحمن کی جلسہ گاہ میں آبپاشی کررہی، تاکہ مولانا صاحب کو دھول مٹی سےپریشانی نا ہو۔
سلام ہے فارم 47 والوں تمہاری ترجیحات کو!
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
اتنے سمجھوتوں پر جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں۔
میں نے بولا تھا کوئی رستہ کوئی ضد توپکڑ
لوگ کہتے تھے کہ چھوڑو بھی،سدھرجاتے ہیں۔
سیاسی مولوی صاحبان جب دوسروں پر تنقید کرتے ہیں تب وہ سیاستدان ہوتے ہیں۔ تنقید انکا آئینی جمہوری حق ہوتاہے۔ جب ان پر سیاسی تنقید کی جائے تب وہ وارثان اسلام بن جاتے ہیں۔ اور تنقید کے خلاف فتوے جاری ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ بھائی ایک طرف ہوجاو۔
مزاحمت سے زیادہ طاقت مفاہمت کے لیے درکار ہوتی ہے۔ جب کوئی آپکو کسی قابل سمجھےگا تبھی آپ سے بات کرےگا۔ تبھی آپکی بات مانےگا۔ عوام واحد طاقت ہےہماری۔ اورتنظیم واحدراستہ ہےعوامی موبلائزیشن کا۔ جوتنظیم نہیں بنارہےوہ خان کوجیل میں رکھنےکاسبب بن رہے ہیں۔
ایسا ہی ہوتا ہے۔ بہت سے کرسی پرست جنکو یہ معلوم پڑتا ہے کہ طاقتور آپ سے ناراض ہیں وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔ کچھ پھر نصیحت کرتے کہ سدھر جاو۔ بعض تو فون کرکے کہتے کہ اپنے بچوں کا سوچو وغیرہ وغیرہ اور پھر وہ کال ریکارڈنگ صاحب کو خوش کرنے فارورڈ کی ہوتی ہے۔
ایمان اور ہادی کی گرفتاری کے بعد دوست مجھ سے ملنے سے گھبراتے ہیں، سب سے زیادہ دکھ میرے ایک بہت پرانے دوست کا ہے جس نے ایمان اور ہادی کی گرفتاری کے بعد رابطہ تک نہیں کیا ایک طرح سے Disown کر دیا، شیریں مزاری
@ShireenMazari1
قتال اور جھگڑو میں بےپناہ اضافہ ہواہے۔ ہر گھر ہر گلی میں یہ صورتحال ہے۔ اور یہ سب بدترین معاشی تباہی اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونیوالے زہنی دباو کا نتیجہ ہے۔ لوگ گھٹ گھٹ کرزندہ رہنے سےمارنے یامرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
گھر میں معمولی جھگڑا، بیٹے نے باپ کے خون سے ہاتھ رنگ دئے
چارسدہ کے علاقے ڈھیری زرداد میں گھریلو تنازعہ کے دوران زبانی تکرار پر بیٹے نے فائرنگ کرکے اپنے والد کو قتل کر دیا
شہباز شریف نے شبانہ روز انتھک محنت کر کے پیٹرول 150 سے 382 تک پہنچایا۔ پٹواری کہتے ہیں: قوم احسان مند ہو۔ سالار سلطان زئی
@MeFixerr
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
All the news circulating on social media that a former Army Chief met Imran Khan in Adiala Jail are fake.
We have checked with Barrister Gohar and he has also confirmed that this is totally fake!
It is disinformation especially spread to distract from the fact that Imran Khan is being tortured through total isolation.
A distraction from the fact that:
1) He is not allowed proper treatment for his eye in a proper hospital.
2) He has not been allowed to speak to his sons.
3) He has not been allowed books for the past 6 months.
4) He has no television
5) He has not been allowed contact with anyone from the outside world in the past 6 months, except two visits by his lawyer on the orders of the court.
There is a full bench court order that allows for at least 18 people to visit him every week. 6 family members and 6 lawyers on Tuesdays, and 6 party members on Thursdays.
All above are Imran Khan’s lawful rights, under Pakistan’s laws and the International laws.
بھارت پہلے ہی بگلیہار، سلال اور دلہستی ڈیم بنا چکا ہے، اب دریائے چناب سے سرنگ نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ادھر پاکستانی حکمران عوام کے حقوق چھیننے میں لگے ہیں، اور ادھر دشمن ہمارے دریاؤں پر قبضہ کر رہا ہے۔
Anyone who has been part of PTI for long and is loyal to the cause understands that as an organisation, it needs a serious reset.
We need leadership that goes beyond tweets and videos. We need people willing to lead from the front, empower workers and build political momentum on the ground. Real movements are driven by action, not words.
External pressures are real, yes, but many of PTI’s challenges are now internal. Workers have been left without direction and any ground initiative, if any taken, is discouraged.
Lahore is perhaps the clearest example.
Previous Lahore Tanzeem remained active on the ground even under the most difficult circumstances post May 9th. There was visibility, engagement and organisational energy. The minute it was changed, that same city now appears politically stagnant and lacks activity.
PTI’s greatest strength has always been its grassroots workers. Until they are trusted, organised, empowered and given space to lead, that strength will remain ineffective.
Junaid Akbar’s arrest in GB and stopping Asad Qaiser prove one thing: this regime will give PTI no space.
Until Feb 8, PTI’s unity delivered. Today, IK pays the price for the fragmentation within. So do we all.
A party draws strength from its leader. With IK in jail, only a cohesive, disciplined organisation can draw that strength. Without that, the regime has no reason to provide any latitude.