آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔
آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔
سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
اسلام آباد
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے صوبائی امیر سائیں مولانا عبد القیوم ہالیجوی صاحب صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو صاحب اور مرکزی ترجمان جناب اسلم غوری صاحب کی ملاقات باہمی امور پر تبادلہ خیال
#مولانا_کے_سنگ#سرحد_یا_سیاست#ہائبرڈ_راج_نامنظور
اگست یا ستمبر 1985 کی یہ نادر تصویر اس عزم و استقامت کی گواہ ہے جس میں قائد انقلاب مولانا فضل الرحمٰن صاحب بارش کے جمع پانی کو عبور کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام لاہور کے استقبالیہ میں پہنچ رہے ہیں۔
یہ منظر صرف ایک تصویر نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ راستے میں کیسی ہی رکاوٹ کیوں نہ ہو، عزم رکھنے والے اپنے سفر سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی سیاسی زندگی میں نظریاتی جدوجہد، آئینی سیاست اور عوامی حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے مشکلات کو کبھی اپنی منزل کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
اسی استقامت اور مسلسل جدوجہد نے لاکھوں کارکنوں کو اپنی قیادت کے ساتھ وابستہ رکھا ہے۔ کارکنوں کا سرمایہ ان کا جذبہ، وفاداری، قربانی اور اصولوں سے وابستگی ہے۔
قائد ملتِ اسلامیہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت، عزم اور استقامت کو میرا سلام۔
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
احباب، ہیش ٹیگز پر فوکس کریں اور ٹرینڈ سے متعلق تمام ایکٹویٹیز فوری طور پر عمل میں لائیں۔ اگلے تیس منٹ تک صرف ری پوسٹس لازم ہیں۔ لائیک، ری پوسٹ، کمنٹس اور پوسٹس کے ذریعے بھرپور حصہ لیں تاکہ آواز زیادہ سے زیادہ پھیلے۔
#مولانا_کے_سنگ#سرحد_یا_سیاست#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ