ایک نام نہاد جرگے نے عدالت بن کر دو انسانوں کو قتل کر دیا کیا اس خلاف اسلام اور خلاف قانون جرم کے بعد پاکستان کی کسی عدالت اور کسی ادارے میں اتنا دم ہے کہ اس لاقانونیت میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سزا دے؟
The video isn’t from Afghanistan — it’s 100% from Balochistan. You can clearly hear them speaking Balochi and Brahui. The real question now: how old is this video? We’re digging into it and verifying the facts.
خون پی کر مجھ میں پلے بڑھے گا
کل کسی عام سی بات پر غیرت کے نام پر یہی مُجھ پر بندوق تان لے گا میں نے سوچ لیا ہے کہ میں مردوں کو جنم نہیں دوں گی
راشد خان عاشر
آج ایک عورت الٹراساؤنڈ کروانے کے لیے لیڈی ڈاکٹر کے پاس پہنچی
ڈاکٹر : مبارک ہ
عورت:کس چیز کی
ڈاکٹر :بیٹا لگ رہا ہے
عورت :نہیں چاہیے
ڈاکٹر :حیران ہوتے ہوئے کس لیے لوگ تو بیٹے کے لئے ترستے ہیں
عورت : آج یہ میری کوکھ سے جنم لے گا میرے حصے کی خوراک کھا کر مجھ میں تندرست ہوگا میرا
یہ بلوچستان ہے…جہاں بڑی بڑی گاڑیاں دور دراز ویرانوں میں آتی ہیں،بڑی پگڑیاں بندوقوں سے فیصلے سناتی ہیں،اور جرگے بیٹیوں کی قسمت کا اعلان آبادیوں سے دور، بیابانوں میں کرتے ہیں۔یہاں شیتل کو لایا گیا .ایک لڑکی، ایک بیٹی،محض اس لیے کہ اُس نے محبت کی،اپنی مرضی سے جینے کی خواہش کی۔جرم؟شادی میں اپنی پسند کا اظہار۔سزا؟موت . غیرت کے نام پر۔لیکن موت سے لمحے بھر پہلےشیتل نے ایک جملہ کہا،بلوچی میں، مضبوط لہجے میں:"صرف سُم ئنا اجازت اے نمے"(یعنی، صرف گولی مارنے کی اجازت ہے)نہ التجا کی، نہ رحم مانگا .بس عزت سے کہا کہ تذلیل کی اجازت نہیں،میں گولی کی منتظر ہوں،مگر بےحیائی کی ہر رسم سے انکار کرتی ہوں۔شیتل الگ ہٹ گئی .اپنی ہی لاش کے قدموں میں کھڑی ہو گئی۔وہ مر گئی،مگر اُن پگڑیوں، اُن بندوقوں، اُن روایات کو شکست دے گئی جو عورت کی مرضی سے ڈرتی ہیں۔تم سمجھتے ہو تم نے غیرت بچا لی؟نہیں .شیتل تمہارے جھوٹے وقار کو بےنقاب کر گئی۔محبت کو کبھی بندوق سے خاموش نہیں کرایا جا سکا،نہ آج، نہ کل، نہ کبھی۔
$WIF
my biggest crypto position by a landslide, also my pfp lol
have shared my conviction in this before and while the past few months have been tough, we've got some life again
this is how i think it expands more or less from here
$10 programmed