Flood Relief for #Buner#Swat
I am starting an emergency response for families affected by the floods in Buner/Swat. Our immediate target is to support 40-50 families with:
Tents (4x4 meter, double-layer waterproof, Rs. 20,000 each, capacity 6–7 people) photo 👇🏾
Cooked meals for at least 1 week
Tarpaulins (12ft x 15ft, Rs. 1,500 each)
Once the tents are set up, we’ll expand support with dry ration, kitchen utensils, and other essentials.
If you’d like to contribute, please DM me. Will be sharing other details soon.
پُختون نسل کُشی
9237 بڑے دھماکے
ڈالری جنگ میں 76584 پشتون شہید
لینڈ مائنز سے 7538 بچے معزور
7600 آفراد جبری لاپتہ
1734 قبائلی مشران زبح کیے گیے
200 دھماکے نمازیوں بھرے مسجد میں
370000 گھر اور مساجد مسمار
پختونخوا کے 1000000 ایکڑ زمین پر آرمی کا قبضہ
217000 پختنوں کے شناختی کارڈ بلاک
5700000 پشتون بے گھر
25000 ہزار دکانیں مسمار (data copied)
آج صبح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کی قیادت کی تین ایم پی اوز (MPOs) کو اچانک ختم کر کے انہیں انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں من گھڑت ایف آئی آرز کے تحت دس روزہ ریمانڈ پر کوئٹہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
@NadiaBaloch99 کے مطابق آج ہی تینوں ایم پی اوز کے حوالے سے ججز پر مشتمل بورڈ کا اجلاس متوقع تھا، مگر اجلاس سے محض چند گھنٹے قبل مشکوک انداز میں ایم پی او ختم کی گئی، اور رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔
یہ عمل نہ صرف قانونی عملداری پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ریاست پاکستان اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے سمی دین سمیت بلوچ خواتین کی چادر پر ہاتھ ڈال کر بلوچ غیرت اور ننگ پر حملہ کیا ہے۔ اس عمل کو نہ ہم فراموش کریں گے اور نہ ہی ریاست کو فراموش کرنے دیں گے۔
سمی دین، لالا وہاب، فوزیہ بلوچ، باجی آمنہ سمیت ہمارے دیگر دوستوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد ریاست پاکستان کی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پرامن مزاحمتی تحریک کے سامنے شکست کا واضح اعلان ہے۔ ریاست مکمل طور پر بوکھلاہٹ اور حواس باختگی کا شکار ہو چکی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بہت جلد اس جابرانہ نظام کے خلاف اپنے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔
#StopBalochGenocide
#BalochGenocideRemembranceDay
#PashtunLivesMattersInPakistan
پاکستان میں پشتون ہونا کتنا بڑا گُنا ہے
اسلام آباد میں ہسپتال سے گرفتار کر کے علی وزیر پر چرس اور پولیس سے اصلحہ چین کر پولیس پر فائرنگ کے دو جھوٹے ایف ائی ارز میں عدالت میں پیش کیا گیا۔
جسمانی ریمانڈ اور جیل گزارنے کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہائی مِلی تو اڈیالہ جیل کے دروازے سے ناجائز 3MPO میں پنجاب پولیس نے گرفتار کر دیا اور گجرات میں قید کر دیا، وہاں عدالت نے رہائی دی تو جیل کے دروازے سے ایک بار پھر ایک اور ناجائز 3MPO میں پنجاب پولیس نے گرفتار کر دیا اور بھکرمیں قید کر دیے گئے وہاں سے جب عدالت نے ضمانت دی تو پنجاب پولیس نے ایک اور ناجائز 3MPO میں گرفتار کر دیا اور انہیں سرگودھا میں قید کر دئے گئے، وہاں سے عدالت نے رہائی دی تو کئ دِن تک لاپتہ تھے بعد میں وہ بلوچستان کے علاقے حب چوکی پولیس تھانے میں پائے گئے وہ بھی پی ٹی ایم کے ایک کارنر میٹنگ پر ہونے والے ایک ایسے FIR میں کہ اُس کارنر میٹنگ کے انعقاد کے دوران علی وزیر کراچی جیل میں باجوائی قید گزار رہے تھے۔
اس FIR میں عدالت میں پیش کر دیے تو بلوچستان پولیس نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ اور جج کے کرسی پر بیٹھے شخص نے کرسی کا لحاظ بھی نہیں رکھا اور جسمانی ریمانڈ پر دے دیا، سات روز پورا ہونے کے بعد پولیس نے دوبارہ جسمانی ریمانڈ مانگا تو جج کر کرسی پر بیٹھے شخص کی ضمیر میں ہلکی سی بھی انسانیت نہ جاگی اور دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا۔
وہ پورا کرنے کے بعد اب جیل بھیج دیے گئے۔
اور یہ سب کچھ جب ہورہا تھا تو کوئی عدالت، کوئی پارلمنٹ، کوئی میڈیا یا کسی بھی نے اس پر بات تک نہیں کی کیونکہ وہاں ایک ہی قسم کے لوگ ڈامینیٹیڈ ہے وہ کسے پشتون پر جھوٹے ایف ائی ارز اور ظلم جبر پر بات نہیں کرینگے۔
شاونسٹ ظلم جبر کی یہ داستانیں محکوم قوموں کے حوصلے پست نہیں کرینگے بلکہ انکو مزید مزاحمت کرنے، اور سوئے ہوے کو جاگنے کی انرجی دینگے۔
سوات میں امن پاڅون.
سوات کے عوام اور مشران کو دل کے گہرائوں سے سلام پیش کرتے ہیں کہ ہمیشہ ظالمانہ پالیسیوں اور بدامنی کے خلاف مزاحمت کی ہے۔
امن کے لئے ہر کوشش کو سراہا جائے۔
سوات اولس زندہ باد
تل آباد اوسئ.
آپ اس ملک کے مقتدرہ سیاسی قوتوں کا اپروچ دیکھیں ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں شورش اور بدامنی از سر نو ابھر رہی ہے، نوجوان یکسر ریاست سے بیزار نظر آتے ہے، ناامیدی ہے،بلاسفمی کے نام پر لوگ مر رہے ہے، اور قومی ترجیحات پی ٹی آئی کے جلسے میں کتنے لوگ شریک تھے؟
مطلب کیا ہورہا ہے؟
The convoy of foreign diplomats is attacked in #Swat, Khyber Pakhtunkhwa but not in Punjab. Such incidents are staged & part of war economy. The foreign diplomats or reporters are not allowed to visit #KhyberPakhtunkhwa because than Pakistan's war economy will be uncovered.