پہلی اور آخری وضاحت:
میری کوشش ہوتی ہے کہ PTI سپورٹرز ناجائز تنقید بھی کر جائیں تو جواب نہ دوں تاکہ لوگوں کی توجہ اصل موضوع سے نہ ہٹے
لیکن ٹویٹر پر مروت کی پیداور کچھ ایسے بدنسلے ہیں کہ جن کا دن رات کام ہی جھوٹ پھیلانا ہے
میں اپریل 2024 میں UAE سے UK گیا جبکہ جنید اور سلمان کو 5 ماہ بعد ستمبر 2024 میں پاکستانی MI نے UAE میں اغوا کروایا،
اور یہ بےغیرت اس کے اغوا کو مجھ سے جوڑنے کی کوشش کر رہےہیں
دوسرا بےغیرت لکھ رہا ہے کہ میں نے “خواتین کے خلاف کمپین کی” - اور جن کے نام لکھے اان میں سے اکثر کے ساتھ میرا بہنوں جیسا تعلق ہے اور ہمیشہ تمام خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کو SMT نے ہر سطح پر ہائی لائٹ کروایا
یہ سارا ٹولہ تحریک انصاف کی لیڈرشپ اور خواتین کو سارا دن دنیا جہاں کے سکرین شاٹ بھیجتے رہتے ہیں کہ یہ AI تصویریں اور ٹویٹس مشوانی اور SMT والے کروا رہے ہیں - حالانکہ وہی اکاؤنٹ دن رات ہماری بھی تصویریں بنا رہے ہوتے ہیں اور ہمارے خلاف بھی ٹویٹس کر رہے ہوتے ہیں
——————————————
میں پاکستان سے باہر کیوں اور کیسے آیا؟
9 مئی سے پہلے مارچ میں مجھے 8 دن اغوا رکھا گیا- 9 مئی کی رات پھر میرے گھر پر اٹیک کر کے میرے والد اور بھائی کو اغوا کیا گیا-
مجھ سے ڈیمانڈ کی جا رہی تھی کہ میں گرفتاری دے کر عمران خان کے خلاف گواہی دوں-
اس وقت تک میرا یا ہمارے کسی ٹیم ممبر کا پاسپورٹ ECL یا PCL لسٹ پر نہیں تھا-
میں نے جب عمران خان صاحب کو بتایا کہ میں پاکستان سے نکل سکتا ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے فوراً UAE میں اپنے پرانے دوست عمران چوہدری صاحب سے میرا رابطہ کروایا - عمران چوہدری صاحب اور ایک ٹویٹر کے دوست نے میرے لیے سارے انتظامات کیے اور میں جولائی 2023 میں پاکستان سے نکلا-
میرے بھائی کو عمران ریاض خان کے بھی ایک ہفتہ بعد 30 ستمبر 2023 کو چھوڑا گیا-
میری اہلیہ کو مئی 2024 میں پشاور ہائی کورٹ کے آرڈر پر سفر کرنے کی اجازت ملی- پھر بھی انہیں آف لوڈ کر دیا گیا تو پشاور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس ایشو کیا- پھر جا کر ان کا پاکستان سے نکلنا ممکن ہوا- تب تک 26ویں آئینی ترمیم نہیں ہوئی تھی اور عدالتوں کی تھوڑی بہت عزت باقی تھی-
یہ سب میں پہلے بھی ٹویٹس میں بتا چکا ہوں اور پبلک ریکارڈ کا حصہ ہے-
—————————
جنید اور سلمان کیوں UAE سے نہیں گئے؟
جنید تحریک انصاف کے قابل ترین اور ذہین تر ورکرز میں سے ایک ہے- میرا 13 سال پرانا دوست اور بھائیوں جیسا بھائی ہے اور ہر اچھا برا وقت ہم دونوں نے ساتھ گزارا ہے- اسلام اباد میں بھی ہم اکٹھے رہتے تھے اور UAE آ کر بھی ہم اکٹھے ہی رہتے رہے-
میں نے جب نومبر 2023 میں UK کا ویزہ اپلائی کیا تب جنید نے منع کر دیا تھا کیونکہ وہ UAE کو محفوظ ملک سمجھتا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ وہیں اپنا کیرئیر آگے بڑھائے اور اس کی بہنیں بھی وہیں ہیلتھ سیکٹر میں جاب کے لیے آ جائیں- اور ان کے exams کے لیے کوشش بھی کر رہا تھا-
سلمان بھائی اور ان کی فیملی 9 مئی سے بھی پہلے پاکستان سے نکل گئے تھے کیونکہ ہم سب کو اپریل 2022 سے ہی اغوا کا خطرہ تھا-
سلمان بھائی بھی وہاں اپنی جاب کر رہے تھے اور ان کا ارادہ وہیں رہنے کا تھا-
مجھے UK ویزہ لینے میں چند مشکلات تھیں جس میں قاسم سوری بھائی @QasimKhanSuri نے مدد کی اور میں اپریل 2024 میں UK آ گیا-
———————————
ہم یہ باتیں اس لیے پبلک نہیں کرتے تاکہ ہم سے منسلک یا مشکل وقت میں ہماری مدد کرنے والوں کے لیے مشکلات نہ پیدا ہوں لیکن کچھ بدنسلے اس چیز کو سازشی تھیوری بنا کر پیش کرتے ہیں
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے بیٹے اور عمران خان کے بھانجے ولی خان ( @oxwali) کا تاریخی ٹویٹ
“30 اپریل 1977، بیونس آئرس۔ چند مائیں، جن کے بچوں کو ارجنٹائن کے فوجی جنتا نے اغوا کر لیا تھا، پلازہ ڈی مایو کے میدان میں بس ایک سوال پوچھنے کے لیے جمع ہوئیں: “ہمارے بچے کہاں ہیں؟”
تین سے زیادہ لوگوں کا ایک ساتھ اکٹھا ہونا ممنوع قرار دیا گیا تھا، اس لیے وہ دو دو کی جوڑیوں میں، بازوؤں میں بازو ڈال کر چلتی رہیں۔ وہ ہر جمعرات کو واپس آتیں۔ فوجی حکومت نے انہیں "لاس لوکاس" یعنی “پاگل عورتیں” کا نام دیا۔
اسی سال دسمبر میں، ان کی بانیوں میں سے ایک، ازوسیتا ویلا فلور کو اغوا کر لیا گیا اور وہ پھر کبھی گھر واپس نہ آ سکی۔
لیکن وہ پھر بھی چلتی رہیں۔
1983 میں فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ 1985 میں فوجی جنتا کے لیڈر کا ٹرائل ہوا۔
پچھلے تین سالوں سے، جب سے ان کے بھائی عمران خان (@ImranKhanPTI) کو جیل میں ڈالا گیا ہے، میری والدہ ڈاکٹر عظمیٰ خان (@DrUzma_KhanPK) اور میری خالائیں علیمہ خان (@Aleema_KhanPK) اور نورین خان (@Noreen_KhanPK) ہر منگل کو ان سے ملنے کی درخواست لے کر اڈیالہ جیل جاتی رہیں۔ 21 ستمبر سے انہیں خود کسی بھی جرم یا الزام کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے۔
بیونس آئرس کے جرنیلوں نے ان عورتوں کو کم تر سمجھا جو بار بار سامنے آتی رہیں/احتجاج کرتی رہیں۔ پاکستان کے جرنیل بھی پاکستانی عورتوں کو مسلسل کم تر سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔
یا تو ان پر فردِ جرم عائد کرو، یا انہیں رہا کرو۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے صاحبزادے ولی خان کا ٹویٹ
خدشہ ہے کہ 28ویں ترمیم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کسی کو جیل بھیجا جائے گا اور پھر یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ خان صاحب مان گئے ہیں، ہم کسی ایسے پیغام کو تسلیم نہیں کریں گے، اصل پیغام وہی ہوگا جو عمران خان کی بہنوں کے ذریعے آئے گا۔ احد خان شوہر عظمی خان
مختلف ایجنسیوں کے نقاب پوش افراد نے میرے گھر میں داخل ہو کر میرےنواسے قاسم کو گرفتار کر لیاہے ۔انہوں نے ہمارے دروازوں کے تالے توڑ دیےہیں اور ملازمین پر تشدد کیا ۔ ان بیقسوروں کو کیوں سزا مل رہی ہے؟ کیا اب سچ بولنے والے ہر انسان پر ظلم کرو گے؟
فوج کو لگتا تھا کہ ہمارے خلاف سب پراپگنڈہ مشوانی کروارہا ہے۔ گنڈاپور کا خیال تھا اسکے خلاف ساری مہم مشوانی نے چلوائی۔ بیوگان مروت بھی ہم خیال۔ اگلے روز ڈاکٹر شہباز گل ارسلان بلوچ کو سینٹر بننے کے خواہش مند دوست کے طعنے دے رہے تھے۔ بیرسٹر سیف کہتا ہے سارا فساد مشوانی کا مچایا ہوا۔ آج تبصرہ پاڑ بھی سارا الزام اسے دے رہے ہیں۔
عمران خان کا تو تمہارا لیول نہیں ، ہوسکے تو مشوانی سے صلح ضرور کرلو۔
جب فوجی راتب خور آپ پر مسلسل بھونک رہے ہوں تو سمجھ جائیں کہ ان کی اس منہ کی بواسیر کی وجہ مالکوں سے ملنے والی “اٹینشن کی پھکی” اور “راتب” کی کمی ہے
لیکن انہیں اب یہ کون سمجھائے کہ ضرورت سے ذیادہ بھونکنے والے کو مالک بھی دور دور ہی باندھتے ہیں،
“من چاہی اسائنمنٹس” نہیں دیتے :)
پہلے میری تقریباً 800 کنال زرعی اراضی نیلام کی گئی، اسلام آباد اور اٹک میں میرے گھر سیل کیے گئے اور اٹک کی زمین بھی نیلام کر دی گئی۔ اب جنڈ میں مزید 377 کنال زمین نیلامی کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
اگر عمران خان سے وفاداری کی یہی قیمت ہے تو میں ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن خان صاحب کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ دباؤ، دھمکیاں اور جائیداد کا نقصان میرے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ میں کل بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا تھا، آج بھی کھڑا ہوں اور ہمیشہ کھڑا رہوں گا۔
عمران خان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰