سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ طویل عرصے سے بیمار اور کوما کی حالت میں گھر پر ��وجود ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے نازک اور تکلیف دہ حالات میں ایک پہلے سے متاثرہ اور بیماریوں سے نبردآزما خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا، ان کے گھر کا سامان باہر پھینکنا اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی مبینہ کوشش کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین پامالی کا معاملہ بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی خاندان، بالخصوص بیمار خواتین اور بزرگوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کی آڑ میں سیاسی انتقام، قانون سے تجاوز اور شہریوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قب��ل نہیں۔
متعلقہ حکام فوری طور پر ان اطلاعات کی وضاحت کریں، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندان کے قانونی و انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
سنگاپور کی فی کس آمدنی تقریبا" ایک لاکھ ڈالر ہے۔
سنگاپور کے وزیراعظم کے پاس کوئی سرکاری طیارہ نہیں۔یعنی وزیراعظم کے لئے کوئی سرکاری طیارہ مختص نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی فی کس آمدن دو ہزار ڈالر سے بھی کم ہے!
بریکنگ نیوز🚨
برطانوی صحافی یلدا حکیم نے عمران خان پر قیدِ تنہائی میں ہونے والے مظالم پر پورے دنیا کے سامنے آواز اٹھا دی۔
خان پر ہونے والے مظالم پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کروا رہی ہے۔یہ اب انٹرنیشنل مسئلہ بن چکا ہے
حکومتی وزراء کو دیکھ کر نعیم بخاری کی وہ بات یاد آ جاتی ہے جو انہوں نے ایک وزیر سے متعلق کہی تھی کہ اس ملک میں میرٹ ہوتا تو ی�� وزیر لاہور ریلوے اسٹیشن کے باہر سانڈے کا تیل بیچ رہا ہوتا ، ایاز امیر 😂😂
شکاگو میں شوکت خانم ہسپتال کے فنڈ ریزر میں کیا ہی شاندار رات تھی! ہدف کی رقم: 350,000 ڈالر، جمع ہونے والی رقم: تقریباً 700,000 ڈالر، یہ عمران خان کے برانڈ کی طاقت اور شوکت خانم ہسپتال کی شاندار ٹیم کی محنت کا ثبوت ہے۔ جبران الیاس
#pakistan@agentjay2009
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
تین سال میں 18 لاکھ پڑھے لکھے افراد پاکستان چھوڑ کر چلے گئے جنہوں نے ابھی نہیں چھوڑا انکے لئے بھی ایسے حالات پید کئے جا رہے ہیں وہ بھی یہ ملک چھوڑ جائیں
میں نے شہباز شریف سے پوچھا کہ آپ لانگ مارچ کو روکنے کیلیے کیوں لاشیں گرانا چاہتی ہیں؟ کیا صرف اسلیے کہ وہ عمران خان سے ایک ملاقات مانگ رہے ہیں
شہبازشریف نے میرے ساتھ معاہدہ کیا اور دو گھنٹے بعد مُکر گیا کیونکہ وہ کسی اور کی نمک حلالی کررہا تھا
مولانا فضل الرحمان
قید میں مجبور کیا جا رہا ہے۔ عاصم منیر ہر صورت خان کو ڈیل پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ ہم نے پورا سال ضائع کر دیا۔ کیا پورا ایک سال قید تنہائی کاٹنا آسان کام ہے ؟ خود کو ایک کمرے میں بند کریں پھر پتہ چلے کیا ہوتی قید۔ پورا ایک سال ضائع مگر کیوں ؟
ایک ایک لفظ سننے سے تعلق رکھتا ہے
جیل میں بیٹھا خان بہت خطرناک آدمی ہے اس نے جیل میں بیٹھ کر ملک میں محبت کے معیار ہی بدل کے رکھ دیے ہیں جس عمر میں تفریح کے مواقع ڈھونڈتے ہیں اس عمر میں نوجوان عمران خان کے لیے ڈنڈے کھاتے ہیں جیل جاتے ہیں واپس آ کر ایک ایک بندہ عمران خان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران ریاض خان
اجمل جامی: کیا آپ سہیل افریدی کی پالیسی سے اتفاق کرتے ہیں
شفقت اعوان: میں سہیل آفریدی کی پالیسی سے 100 فیصد متفق ہوں! کوئی لیڈر اتنا ہی کر سکتا ��ے اپنے لوگوں کے لیے, اپنے نظریے کے لیے, جتنا سہیل آفریدی نے کیا۔ کہ اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹا۔
حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کا جواز پیش کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، لیکن افسوس کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے صوبے کی پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج میرے گھر پر پولیس کی بھاری نفری کا چھاپہ اس طرزِ عمل کی ایک واضح مثال ہے۔ اگر گورنر راج کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو پھر سیاسی مخالفین کے گھروں پر چھاپے کیوں مارے جا رہے ہیں؟ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟ عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟ آخر خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بجائے سیاسی کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانا حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے۔ فوری طور پر سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر تمام گرفتار س��اسی رہنماؤں، کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو رہا کیا جائے۔