سرکاری سکولز کی نجکاری ایک سوچی سمجھی سازش ۔۔ذرا سوچیے۔۔
پچھلے 7 سال سے سرکاری اساتذہ کی ایک لاکھ پچاس ہزار آسامیاں خالی ہیں۔۔
ایک ٹیچر 200 بچوں کو پڑھا رہا ہے ۔۔جبکہ ہر 40 بچوں کے لیے ایک استاد ہونا چاہے۔مگر ایسا نہ کیا گیا۔مقصد صرف ایک سرکاری سکولز کو ناکام بنانا ۔۔
مگر سلام میرے سرکاری اساتذہ کو جنہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔سکولز میں سٹاف کم ہونے کے باوجود اچھے رزلٹ لانے میں کامیاب ہوگئے۔۔
سازش کھل کے تو تب سامنے آئی جب وزیراعلی نے ہمارے لاہور کے سکول کا وزٹ کیا۔۔جہاں 1600 بچوں کو 10 اساتذہ پڑھا رہے تھے۔۔۔انہے شاباش دینے کے بجائے۔۔
۔۔۔الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر پریس کانفرس کر ڈالی کے ایسے سکول چلانے ہیں تو بند کردو۔۔۔۔
اگر سرکاری سکولز کی نجکاری کر دی جاتی ہے۔۔تو کیا ہوگا عا م عوام یہ سوچ کے چپ ہے کہ یہ شاید ہمارا مسلہ نہیں ہے۔۔مگر درا سوچے وہ بچے جو جوتا نہیں خرید سکتے۔۔۔جن کے ماں باپ آنکھوں میں خواب سجائے بیٹھے ہیں۔ایک دن ہمارا بیٹا بھی آفیسر بنے گا۔۔یہ ان خوابوں کو چھینے کی سازش ہے۔۔یہ سازش تب کی گئی جب سرکاری سکولز کے بچے بورڈ میں پوزیشن لےرہے ہیں ۔
سرکاری اساتذہ کی کم ازکم تعلیم MSC Mphil PHD ہے۔۔مگر ان کاروباری لوگوں کو چاہئے صرف میٹرک پاس یومیہ اجرت والے اساتذہ۔۔جو بچوں میں شعور بیدار نہ کر سکے۔۔۔۔
۔۔مگر یہ سازش ضروری ہے۔کیونکہ احمدی NGEOs(قادیانی) کو سکول دے کر اسلام دشمن آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔۔
غریب کا بچا پڑھ گیا تو وہ سوال پوچھے گا۔۔تمہاری کرپشن پر تم سے سوال کرے گا۔۔
اچھا ہے غریب سے روزی تو چھین چکے ہو۔۔اس کے بچوں کی آنکھوں میں سجے خواب بھی چھین لو۔۔۔۔
استاد کو سڑکوں پر لانے والوں کی سازش کو سمجھو۔۔۔سکولز کی تباہی تمہاری آنے والی نسلوں کو غلام بنانے کی سازش ہے۔
جاگو میرے ہم وطنو جاگو ۔ ورنہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔
گرفتار کیےجانے والے اسرائیلی فوجیوں کو غزہ لایا جا رہا ہے۔
حماس کے فوجی کمانڈر محمد الضیف نے حماس میڈیا پر نشر ہونے والی نشریات میں ’آپریشن الاقصیٰ فلڈ‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینیوں سے ہر جگہ لڑنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ زمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی جنگ کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپریشن الا اقصیٰ فلڈ کا اعلان کرتے ہیں، اور ہم نے ابتدائی حملے میں 20 منٹ کے اندر 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے ہیں۔
#hamassoldiers
#Israel
#Palestine
میرے اندر کوئی ڈر نہیں تھا کیونکہ میرے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا پھر مُجھے اُس کی محبت عطا کر کے ڈر بٹھا دیا گیا، میں کئی سال اُس کو کھونے سے ڈرتا رہا اور پھر ایک دن اُس کو کھو کر یہ ڈر بھی نکل گیا۔
میں اب بھی ڈرتا ہوں مگر کسی کو کھونے سے نہیں بلکہ اب رشتے بنانے سے ڈرتا ہوں۔🍂
کچھ لوگ شفا جیسے ہوتے ہیں
بات کرتے ہیں تو تسکین ملتی ہے،
لفظ کہتے ہیں مرہم لگتے ہیں،
کچھ لوگ صرف لوگ نہیں ہوتے وہ ہمارا علاج ہوتے ہیں۔۔۔سکون ہوتے ہیں۔۔!!