بلوچستان کے بارے میں یہ سوال اٹھانا کہ لوگ مزاحمت کیوں کر رہے ہیں، جبکہ زمین پر جاری ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے، محض منافقت نہیں بلکہ سنگدلی ہے۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی روز کا معمول بن چکی ہے، اور پھر بھی متاثرین سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ خاموش کیوں نہیں رہتے؟
صرف گزشتہ دو مہینوں میں پنجگور میں بائیس افراد کو جبری گمشدگی یا ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کر دیا گیا۔ کیچ میں آٹھ افراد افراد اسی طرح قتل کئے گیے۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکا نہیں، بلکہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں ردِعمل دے رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر کب تک وہ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں؟
ناصر ڈگارزئی کو جنوری 2011 میں جبری گمشدہ کیا گیا، بدترین تشدد کے بعد گولیوں سے چھلنی کر کے پھینک دیا گیا۔ وہ زندہ بچ گئے تو مئی میں دوبارہ جبری گمشہ کئے گئے، اور پھر جولائی 2011میں ان کی مسخ شدہ لاش ملی۔ اس وقت ان کا بیٹا زمیر چار سال کا تھا۔ برسوں بعد، اب جب وہ جوان ہوا، اسے بھی جبری گمشدہ کر کے کل لاش ویرانے پھینک دیا گیا۔
یہ اتفاق نہیں، یہ ایک بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والا جبر،
کوئٹہ سے عنایت اللہ بنگلزئی 2014 سے لاپتہ ہیں۔ جب وہ جبری گمشدہ کئے گئے تب ان کا بیٹا امان اللہ ڈیڑھ سال کا تھا۔ قریب بارہ سال تک اسے معلوم نہ ہو سکا کہ وہ یتیم ہے یا نہیں۔ اب جب وہ خود تیرہ برس کا ہوا، وہ بھی جبری گمشدہ کر دیا گیا۔ ایک بچے سے اس کا باپ چھینا گیا، اسکا بچپن چھینا گیااور پھر اسی بچے کو بھی غائب کر دیا گیا۔ اس سے زیادہ سفاک مثال کیا ہوگی؟
ایسے میں اگر کوئی یہ کہے کہ سب ٹھیک ہے، یا یہ کہ یہ ملک سب کا ہے، تو یہ الفاظ کھوکھلے لگتے ہیں۔ اگر اپنے ہی وطن میں شہریوں کو لاپتہ کیا جائے، مسخ شدہ لاشیں پھینکی جائیں، اور انصاف کا کوئی در نہ کھلے، تو کون اس ملک کو اپنا کہے؟ رمضان جیسے مقدس مہینے میں بھی اگر یہی سب جاری رہے، تو یہ محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
اختلافِ رائے کو غداری کہنا، سوال اٹھانے والوں کو ایجنٹ قرار دینا، اور جبر کو پالیسی بنانا مسئلے کو حل نہیں کرتا، بلکہ اسے اور گہرا کرتا ہے۔ اگر بولنے والوں کو خاموش کر دیا جائے، تو خاموشی امن نہیں لاتی، صرف اندر ہی اندر ایک لاوا تیار کرتی ہے۔
یہ کہنا کہ بلوچوں کا ردِعمل بیرونی سازش کا نتیجہ ہے، تو یہ حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔ جب ریاست خود طاقت خوف اور فسطائیت کو حکمرانی کا ذریعہ بنائے، تو کسی بھی عوامی رد عمل کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کو اس نہج پر پہنچانے کا گناہ ان لوگوں پر نہیں ڈالا جا سکتا جو زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں۔
#StopBalochGenocide
پنجگور کے علاقے پروم میں گزشتہ روز ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے فائرنگ کر کے تین افراد کو شہید کر دیا۔ شہدا کی شناخت نیاز ولد اللہ بخش، ذاکر ولد عبدین اور عمر ولد علی کے ناموں سے ہوئی ہے، جو پروم کے ہی رہائشی تھے۔
بی وائی سی پنجگور ھنکین
#StopBalochGenocide
یحییٰ بلوچ ولد نور محمد کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے یکم اکتوبر 2025 کو پنجگور ایئرپورٹ روڈ سے جبری طور پر لاپتہ کیا
جس کے بعد کل 3 مارچ 2026 کو وشبود کے مقام سے ان کی مسخ شدہ لاش ملی ہے۔
ان کے جسم پر گولیوں کے نشانات تھے۔
بی وائی سی پنجگور ھنکین
#StopBalochGenocide
نواب ولد عبداللہ 29 مئی 2025 کو پنجگور چتکان میں اپنے گھر سے جبری طور پر لاپتہ ہوئے اور بلوچستان کے ضلع پنجگور کی تحصیل جائین پروم کے رہائشی تھے۔
13 فروری 2026 کو پنجگور رخشان ندی کے قریب ان کی لاش ملی جس پر گولیوں کے نشانات تھے۔
#StopBalochGenocide
بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال کسی ایک دن میں جنم لینے والا بحران نہیں، بلکہ یہ ستر برس پر محیط جبر، ناانصافی اور محکومی کے تسلسل کا نتیجہ ہے جو بتدریج ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے آج ایک ہولناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس المیے کی ذمہ داری محض چند حکمرانوں یا چند جرنیلوں تک محدود نہیں؛ درحقیقت یہ پورا نظام جبر پر استوار ہے۔ ماضی میں آنے والا ہر حکمران اور ہر جرنیل اسی جابرانہ اور بربریت پر مبنی پالیسی کا حصہ بنتا آیا ہے، اس لیے مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔
جبکہ اقتدار پر قابض مافیا اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے مگرمچھ کے آنسو بہاتے اور دھمکی آمیز بیانات کے ذریعے اجتماعی سزا کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عام آبادیوں پر بمباری، مسافر گاڑیوں پر فائرنگ، اور سیاسی کارکنوں کے اُن اہلِ خانہ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جن کا سیاست سے کوئی براہِ راست تعلق تک نہیں ہوتا۔
بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم کے والد، جو ایک سابق ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں، ان کے بھائی سمیت ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتا کرنا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ ریاستی جبر اور وحشی پن کی ایک کھلی اور ناقابلِ تردید مثال بھی ہے۔
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بلوچستان میں ریاستی تشدد نے مسائل کے حل کے بجائے ہمیشہ جلتی آگ پر تیل ڈالنے کا کردار ادا کیا ہے۔ مزید تشدد ناگزیر طور پر مزید مزاحمت اور تصادم کو جنم دے گا۔ درحقیقت، وہ عناصر جو عوامی خدمت، سیاسی بصیرت اور اخلاقی قیادت میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں، مافیا اور جنگی منافع خوری کے ذریعے اقتدار پر قابض رہنے کے خواہاں ہیں۔ طاقت کی اس اندھی دوڑ میں وہ اس حد تک گر چکے ہیں کہ اپنی انسانیت بھی کھو بیٹھے ہیں۔
بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جبر پر مبنی نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے لازم ہے کہ سیاسی مکالمے و جمہوری عمل کے لیے فضا کو غیر عسکری بنایا جائے، تاکہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور انصاف کے ذریعے ممکن ہو سکے۔
Enforced disappearances in Balochistan have sharply increased, creating a human rights crisis that is tearing families apart.
Baloch women are being taken from their homes without warrants, charges, or any legal process. Their families and children are left behind—waiting, searching, and living with unbearable uncertainty, while the system remains complicit and silent.
This is not law enforcement.
This is collective punishment.
This is a grave violation of fundamental human rights and a crime under international law.
Human rights defenders, civil society, and the international community must stand with the people of Balochistan and take immediate steps for the safe release of all forcibly disappeared Baloch.
Sign and share the petition to release and stop the abduction of Baloch women.
https://t.co/PHpQOOEHIM
The disappearance of Baloch women is not only a crime of silence but a powerful symbol of resistance against oppression. When Baloch women go missing, it exposes the deep fear of a system that cannot tolerate their voices, courage, and struggle for dignity. These women are not weak victims; they are teachers, students, daughters, and mothers who dared to exist with self-respect in an environment of repression. Their enforced disappearance is a brutal violation of human rights and an attempt to break the spirit of an entire nation, yet it only strengthens collective resistance. Every missing Baloch woman becomes a living testimony that even the most vulnerable are standing against injustice, reminding the world that resistance is born from pain, and silence will never defeat the demand for truth and freedom.
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances
They tried to silenced her voice,
chained her body to stone and steel,
yet resistance learned to breathe in silence.
Prison walls tremble before truth.
Oppression fractures where courage stands.
Baloch women rise—unbroken, unsurrendered.
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances
Amma Hauri is the mother of Gul Muhammad Marri, who was forcibly disappeared on August 7, 2012. For over a decade, Amma Hauri has stood at the frontlines of the Baloch movement not as a politician, but as a grieving mother.
Today, she continues her plea, stating:
"It has been nearly 14 years, and I still have no information regarding his whereabouts. I have searched every corner of this country; I have walked the roads of Islamabad and gone wherever there was hope. Yet, I still do not know if my son is alive or dead.
When we raise our voices through protests and rallies, the state targets and imprisons us rather than providing answers. First, our sons were taken and tortured; now, our women are being forcibly disappeared. The state is crossing every limit of brutality, showing a complete lack of humanity toward the poor, the orphaned, and the Baloch people. We have been left helpless. The silence of the international community emboldens those carrying out this genocide."
The time has come to speak out. Join this campaign to end the injustice and the state crackdown on Baloch families.
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances
https://t.co/Wg9uChhw7S
اس وقت ایک ہی خاندان کے چار افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں حانی دلواش، خیرنساء واحد، مجاہد دلواش اور فرید اعجاز شامل ہیں۔ ان افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین نے کرکی تیجابان کے مقام پر سی پیک روڈ بلاک کر کے احتجاج شروع کر رہے ہیں۔
جبری گمشدگیاں اس وقت ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں اب اس جبر کا نشانہ خواتین اور لڑکیاں بھی بن رہی ہیں۔ حانی دلواش اور خیرنساء کو تین روز قبل حب چوکی کے علاقے سے جبری طور پر اٹھایا گیا، اور اس کے بعد سے وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کی عدم بازیابی نے نہ صرف خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بلوچستان میں خواتین بھی اب محفوظ نہیں رہیں۔
آئین اور قانون کو بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، بلوچستان کے لوگ کریں تو کیا کریں، ان متاثرہ خاندان کے لئے احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے گزارش ہیکہ اس خاندان کے ساتھ کھڑے ہوکر انکے لئے آواز اٹھائیں۔
#SaveBalochWomen