لانگ مارچ بھی نہ ہوااورصوبائی حکومت بھی چلی گئی،تحریک انصاف میں رہنماایکدوسرےپرسوال اٹھانےلگے۔پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس میں سہیل آفریدی پرتنقید،محموداچکزئی پربھی سوالات کی خبریں۔
سہیل آفریدی کےساتھ چھ،سات سولوگ تھے،اسدقیصر۔
تفصیلات دیکھیے
15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں میری تقریر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر نصب ٹی وی اسکرینوں پر دانستہ طور پر خاموش کیا گیا، جبکہ بعد ازاں قومی اسمبلی کے آفیشل پیج پر جاری کردہ ویڈیو کو بھی کاٹ چھانٹ کر پیش کیا گیا۔ یہ معاملہ محض میری آواز دبانے کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے آئینی تقدس، اراکین کے حقِ اظہار اور عوام کے حقِ آگاہی کا ہے۔ پارلیمنٹ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے نہیں، بلکہ ہر آواز کو سننے کے لیے ہے۔ اس معاملے کو اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھاؤں گا اور ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کروں گا۔ پارلیمنٹ کا وقار اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے میں نہیں، بلکہ ان کے حقِ اظہار کے تحفظ میں ہے۔
پشاور دیر کالونی میں پیش آنے والا واقعہ دلخراش، افسوسناک اور دردناک ہے، 33 بچے ہم سے جدا ہوگئے، یہ ہمارے بچے تھے، یہ قوم کے بچے تھے، یہ قوم کا مستقبل تھا لیکن بدقسمتی اس دھرتی کی کہ بچوں کو تحفظ دینے والے بھی نہیں۔ دکھ کی اس گھڑی میں ہم تمام لواحقین کے ساتھ ہیں لیکن حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس غفلت بلکہ قتل میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے، جو بھی اس غفلت میں ملوث ہو، چاہے وزیر ہو، افسر ہو یا کوئی اور، انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی پختون عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ آدھے صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہے اور باقی آدھے میں گورنر راج ہے۔ صوبے کو کشمیر جیسی صورتِ حال سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ صرف چہرے بدلے ہیں، نظام وہی ہے۔ اس پورے کھیل میں سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کارکنوں، عمران خان اور ان کی بہنوں کو دھوکہ دیا۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر، اے این پی
#ANP | #AimalWaliKhan
ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حالات کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت اور ان کو لانے والے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ڈھائی سال میں ہر لحاظ سے بدترین طور سے ناکام رہی ہے۔ اس حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے میں معمولی دلچسپی بھی نہیں لی بلکہ صوبے کو ایک مسلسل ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھ کر کرپشن کا ایک بازار گرم رکھے ہوا ہے۔ یہ دہشتگردی سے نمٹنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ اس نے اپنے قول و فعل سے ہمیشہ یہ ثابت کیا کہ اس کی ہمدردیاں عوام، صوبے اور ملک کے ساتھ نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ پولیس اور عوام کے شہداء کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس نے دہشتگردوں کی بالواسطہ یا بلا واسطہ سہولتکاری کی۔ اس کا انعام اسے عوام اور قانون کے ساتھ کھڑی ہونے والی جماعت کو دہشتگردی اور ففتھ جنریشن کے پراپیگنڈے کا شکار بنا کر اسے اکیلے جگہ دے کر دیا گیا۔
گورنر راج یا ایمرجنسی لگے یا نہ لگے، یہ ایک زمانے میں دو باہمی محبت کرنے والوں کی آپس کی لڑائی ہے۔ ہم تحریک انصاف اور اس کو لانے والوں، دونوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اگر تلخیاں اسی طرح برقرار رہیں اور سیاسی تقسیم جاری رہی تو خدانخواستہ ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں کہ ہم مردان میں بھی اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکیں۔ ان تمام حالات میں نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
🛑 پچھلے 13 برسوں سے پختونخوا مسائل کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے، سردار حسین بابک
🛑 نالائق حکمرانوں نے صوبے کے خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے
🛑 سرکاری مشینری اور وسائل کا بے دریغ سیاسی استعمال جاری ہے
🛑 صوبائی و ضلعی محکموں کو سیاسی مقاصد کے لیے ادائیگیاں کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے
🛑 پورے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے، پختونخوا کو لوٹا جارہا ہے
🛑 پختونخوا کی تاریخ میں موجودہ حکومت سے زیادہ کرپٹ حکومت کبھی نہیں آئی
🛑 احتساب کے ادارے صوبے میں جاری لوٹ مار کا تماشا دیکھ رہے ہیں
🛑 بدامنی سے دوچار صوبے اور اس کی عوام پر مزید رحم کیا جائے
🛑 صوبے میں بدانتظامی عروج پر ہے، صوبائی محکموں کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے
🛑 13 برس سے صوبے پر مسلط حکمرانوں کا احتساب کیا جائے
🛑 صوبے کے خزانے سے لوٹی گئی دولت واپس قومی خزانے میں جمع کرائی جائے
🛑 13 سال قبل جب یہ لوگ اقتدار میں آئے تھے، تب ان کی مالی حالت کیا تھی
🛑 آج 2026 میں ان کی مالی حالت کیا ہے؟ اس کا حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے
🛑 یہ پختونخوا کے کروڑوں عوام کا مطالبہ ہے کہ صوبے کی لوٹی ہوئی دولت کا ہر صورت حساب لیا جائے
سردار حسین بابک
سیکرٹری خارجہ امور، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #SardarHussainBabak
اگر مجھ پر کسی نے ایک سال بھی جرگے کئے اور کہا کہ ایسی اقتدار لیں جس طرح وفاق میں شہبازشریف کے پاس اور صوبے میں سہیل آفریدی کے پاس ہیں تو ہمیں ایسی اقتدار نہیں چاہیے جس میں کوئی اختیار نہ ہو۔ہمیں وہ اقتدار چاہیے جس میں اپنی عوام کی اسی طرح خدمت ہو جس طرح ہم نے 2008 سے 2013 تک کیا
یہ اسی ولی خان کا پوتا اور اسفندیار ولی خان کا بیٹا، ضیاء الحق کی باقیات کو شرم و حیا یاد دلا رہا ہے۔ جب وعدہ خلافی پر ہم نے 1998ء میں نواز شریف کی حکومت کو لات ماری اور پرویز مشرف نے آپ کو گھیر لیا، تو آپ کو پھر ولی باغ یاد آیا اور حاجی بلور کو لیکر نواز شریف نے حکومت میں شامل ہونے کیلئے ہم پر جرگے کئے لیکن ہم نے آپ کی وہ حکومت قبول نہیں کی اور پھر بھی پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے جمہوریت اور جمہوری اداروں کے ساتھ کھڑے رہے۔
یہ اسی ولی باغ کا وارث مسلم لیگیوں کو غیرت دلا رہا ہے کہ جب پیپلز پارٹی مشرف کے مارشل لاء کے بعد آپ کو اے آر ڈی میں بھی شامل نہیں کر رہی تھی تو اسفندیار ولی خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو ٹیلی فون کرکے آپ کو اس اتحاد میں شامل کروایا تھا۔
یہ اسی اسفندیار ولی خان کا بیٹا آپ کو کچھ شرم دلا رہا ہے کہ جب حالیہ 2020ء میں جنرل فیض نے آپ کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنایا تھا تو اے پی سی میں ہم نے آپ کو ایسے تجاویز دیے جس کے بعد مریم نواز نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اسفندیار ولی صاحب کی گفتگو واقعی بےحد دلکش ہے، کم از کم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہ سامعین کو مکمل طور پر متوجہ کرلیتے ہیں۔ احترام!"
باقی میں بھی اگر مسلم لیگیوں کی طرح اپنے اوپر "برائے فروخت" کا بورڈ لگا دوں تو مجھ سے پھر حکومت کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔ اگر نواز شریف کو فارم 47 پر ایک بوڑھی عورت کے مقابلے میں جتوایا جا سکتا ہے تو ہمارے والے الیکشن جیتنا تو بہت ہی آسان تھا۔ نواز شریف تو اصل معنوں میں 70 ہزار ووٹ بھی نہیں لے سکا۔
۸ سالہ جلاوطنی کے بعد ۲۴ دسمبر ۱۹۷۲ کو باچا خان طورخم کے راستے وطن واپس آئے۔
ہزاروں خدائی خدمتگاروں نے سرخ جھنڈوں کے ساتھ اپنے عظیم رہنما کا استقبال کیا۔
#bachakhanbaba
جب بات جمہوریت، اصول اور پارلیمانی سیاست کی ہو تو ہماری جماعت کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ سینیٹر ایمل ولی خان اور رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز نےاپنے جواباتِ رد میں دی دوسری جماعتوں کے پارلیمنٹیرینز بھی ایسے کردار اور اصولی مؤقف سے سیکھے۔ولی خان کی تحریک تو ھر دور میں انمول رھی ھے۔۔۔
عمران خان جیل سے یہ فیصلہ تو کر سکتے ہیں کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے، مگر 13 سالہ حکومت میں پختونخوا کہاں پہنچ گیا، اس کی فکر کیوں نہیں؟
کتنے کارخانے لگے؟ کتنے بےروزگاروں کو روزگار ملا؟ تعلیم میں کتنی بہتری آئی؟ بدامنی اور غربت میں کتنی کمی آئی؟
سردار حسین بابک
سیکرٹری خارجہ امور، عوامی نیشنل پارٹی