﴿ مکافات عمل﴾
آج نیشنل پارٹی والے اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ ان کی جیتی ہوئی سیٹیں دوسروں کو دی جا رہی ہیں تو بات صرف اتنی ہے کہ یہ کھیل خود ڈاکٹر مالک نے 1988 میں شروع کیا تھا۔اس وقت شکیل بلوچ صوبائی نشست اور میر غوث بخش بزنجو قومی اسمبلی کی نشست پر عوامی ووٹوں سے کامیاب 1/2
میں سیما صاف الفاظوں میں اس ریاست کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جب تک میرا شبیر مجھے صحیح سلامت نہیں ملتا، میں تب تک خاموش نہیں بیٹھوں گی۔
میں چیخوں گی، چلّاؤں گی، امن کے وقتوں میں قیامت لاؤں گی لیکن شبیر کو تمہارے زندان سے چھڑواؤں گی!
سب کچھ یاد رکھا جائے گا. وہ آئے انہوں نے التجا کی اور انہوں نے آپ کو حل بتایا۔ یہ معصوم بچے اپنے پیاروں کے بغیر مایوسی کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست بل��چستان کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے۔ #MarchAgainstBalochGenocide