یہ تصویر صرف ظلم کی نہیں بلکہ ایک فرسودہ نظام، ناکام ریاست، تنگ نظر سماج اور من گھڑت مذہب کی ہے۔ خاتون کا خاموشی سے موت کو گلے لگانا دلیل ہے کی یہ سماج اب انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا اس نے سماج، روایات اور رشتوں پہ لعنت بھیجتے ہوئےریاست کی مامتا پہ ایک سوال کھڑا کر دیا
Gandhi Ji once said that he would consider his country truly independent when a woman could safely leave her home at midnight and return without fear. The victim, Dr. Moumita Debnath, believed she was contributing positively to society, but this brutal society did not deserve her
جب مسجد میں اعتکاف پہ بیھٹے بچوں کے ساتھ زنا ہونے لگ جائیں تو ریاست کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہاں ضرورت مسجدوں کی نہیں بلکہ چکلوں کی ہے۔ جب سماج اس نہج پر پہنچ جائے تو اس میں اصلاح کی دعوت دینے والے بھی الٹا لٹکائے دینے کے قابل ہیں۔ یہ مذہب باطل، سماج دکیہ نوسی اور اقدار فرسودہ ہیں
تربت میں دھشتگردوں کا حملہ قابل مزاحمت ہے دشتگروں کے خلاف بلا تخصیص آپریشن ناگزیر ہے دو دہائیوں سے جاری ان جارہانہ کارؤیوں کو جڑ سے ختم کیے بغیر ترقی کے راستے پہ آنا نا ممکن ہے۔ افواج پاکستان کے آپریشن کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو شرپسندوں کے بارے میں شدید عوامی رد عمل دینا ہو گا۔۔۔
یہ تصاویر ایک بے بس لاچار اور ناکام ریاست کے بوسیدہ نظام کی ہیں۔ عوام کو خود حفاظت کرنی ہے پتنگ اڑانے والے گرفتار ہونگے مگر ڈور بنانے والے سرمایہ دار کو کچھ نہیں کہا جانا
کیونکہ یہ نظام اسی سرمایہ جاریت کی ناجائز اود ہے۔ یہ حادثہ نہیں قتل ہے اور قاتل ہے ریاست۔
شہید مقبول بٹ کی جدو جہد کو سلام پیش کرتے ہیں اور جناب بٹ صاحب کی امید " اے میرے وطن تو اک دن ضرور آزاد ہوگا" پہ کام کرنے والی تمام حریت پسند اور ترقی پسند قیادت کو پر امن جمہوری جد و جہد جاری رکھنا ہو گی#Kashmir #FreedomOfSpeech#PakistanZindabad#JammuKashmir#JammuAndKashmir
History will never seen such a brutal state and ingnorent nation in the world who have time and emotions for rase a voi e againts Israil for killing in Gaza but not for Bloch genocide. The Bloch are not afraid of disappeared too,they will find them who killed their beloved ones
The Genocides in Blochistan is not acceptable et all, the security forces has no constitutional right to stop the protest by force. The peaceful protest is human right of people. The Govt should take a step to stop the state terrorism and massacres in Balochistan.......
یہ تصاویر بے بسی کی نہیں اس ریارست کے ناکام ہونے کی ہیں اکیسویں صدی میں بھی لوگ اس موت کے سفر کو روذ کرتے ہیں اور جانتے بھی نہیں کہ انکے ٹیکس کے پیسوں سے انکے نمائندے عیاشی کر رہے اور اشرافیہ غیرت بیچ چکی ہے جب تک سرمایہ داریت رہے گی اس ریاست کے لوگ موت کا یہ تماشا روذ دیکھیں گے
اگر ریاست زنا کاری کو بند نہیں کروا سکتی یا ایسے درندوں کو سزا نہیں دی سکتی تو خدارا کوٹھے اور چکلے کولنے کی اجازت دے تاکہ کوئی معصوم عورت ان جاگیرداروں و سرمایہ داروں کی ہوس کا شکار نہ بنے۔ ہمیں معاف کرو فاطمہ ہم ہوس زدہ معاشرے کی مردہ قوم ہیں تمہیں یہاں پیدا نہیں ہونا چائیے تھا
مذہب کی بنیاد پر انسانیت سے نفرت ہرگز قابل قبول نہیں۔ تشدد کو کسی بھی صورت میں سراہا نہیں جا سکتا۔ تمام کمیونٹیز کے لیے افہام و تفہیم، رواداری اور پرامن مکالمے کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ ہم نے جڑانوالہ میں کرچ جلانے والوں شرپسندوں کو قرار واقعی سزا دی جائے
عدالتوں کی نا انصافی،، سرمایاداروں اور جاگیرداروں کے استحصال، سیاستدانوں کی بدعنوانیوں ، فوج کے جبر، افسر شاہی کی عیاشیوں ، بیروزگاری مہنگائی لوڈشیڈینگ بدامنی اور قرضوں سے ذندہ بچ جانیوالی قوم کو76 ویں آزادی مبارک۔۔۔
ریاست ماں ہوتی ہے مگر بد قسمتی سے ہماری ریاست وہ بد چلن ماں ہے جو اپنی اولاد کی پروا کیے بغیر اپنے آشنا کے ساتھ رنگ رلیاں بناتی ہے اور اس اولاد کو ہر دروازے سے دتکاد اور پٹکار ہی نصیب ہوتی ہے۔وحشیہ کی اولاد۔۔۔۔۔