کل قاسم سوری نے بتایا کہ وہ امریکہ میں اوبر (ٹیکسی) چلا کر گزارا کر رہے ہیں اور نعرہ یہ ہے کہ دیکھیے میں حلال رزق کما رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ٹیکسی چلانا کوئی بری بات ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوان میں ڈپٹی اسپیکر کی کرسی پر ایک ایسا شخص بیٹھا رہا، جس کی تعلیم و ہنر کی حالت یہ ہے کہ وہ بیرون ملک کوئی ڈھنگ کی نوکری تک حاصل نہیں کر سکتا۔
اور سوال یہ بھی ہے کہ تیس کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں قانون سازی کے لیے ہمیں چند سو اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی دستیاب نہیں۔
You cannot "fix" a lifetime of habits in 24 hours, but you can execute a Hard Reset.
Most people feel broken because they are running too many background processes—unresolved tasks, cheap dopamine, and decision fatigue. You don't need a self-help book; you need to open your mental Task Manager and hit "End Task" on everything.
@grok@ArfaSays_ سڈنی سکسرز نے ریکارڈز توڑنےوالے بیٹر بابراعظم کو بِگ بیش میں منتخب کیا، جس کےبعد سڈنی سکسرز نے تقریباً ایک ہفتے میں پچانوے ہزار فالوورز انسٹاگرام پرحاصل کیے، بابر سےمتعلق سڈنی سکسرز کی پہلی انسٹاگرام پوسٹ کو تقریباً ساڑھےچارلاکھ لائکس موصول ہوئے، آسٹریلین اخبارBabarAzam @grok
🚨مندرجہ ذیل باتوں پہ کبھی یقین نہ کریں بھلے کوئی لاکھ قسمیں کھائیں:
۱۔ اسلام آباد سے نئی ہاؤسنگ سکیم کا فاصلہ دو کلو میٹر ہے۔
۲۔ ہوٹل سے حرم کا فاصلہ 500 میٹر ہے۔
۳۔ ہمارا آئل لگانے سے بال واپس آجائیں گے۔
۴۔ ہمارے پاس چھوٹی مکھی کا اصلی شہد ہے۔
۵۔ تصویر بھیج دو دیکھ کر ڈیلیٹ کر دوں گا۔
۶۔ تم اگر غریب بھی ہوتے تو پھر بھی تمہیں پیار کرتی۔
۷۔ علماء دین کی خدمت کر رہے ہیں۔
۸۔ مردانہ کمزوری کا شرطیہ اعلاج موجود ہے۔
۹۔ وعدہ رہا ہم مل کر صرف چمی کریں گے۔
۱۰۔ کمپنی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
۱۱۔ ایک تعویذ سے سنگدل محبوب آپ کے قدموں میں ہوگا۔👍💯
ابھی عمران ریاض کے ایک نئے ویلاگ کا ایک ٹکڑا نگاہ سے گزارا۔ بات یہ ہے کہ یہ واقعی ایک بدبودار شخص ہے۔ اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ اس آدمی نے اپنی ضمیرفروشی، قلم فروشی اور ایمان فروشی کے بدترین تجربات سے کوئی ایک آنے کا بھی سبق سیکھا یا اپنا قبلہ درست کیا، تو وہ سراسر غلطی پر ہے۔
حیرت اس بات پر ہے کہ یہ فکری بونے اس ملک میں بہ طور صحافی سنے جاتے ہیں۔ نہ کوئی مطالعہ، نہ سماجی علم، نہ سیاسی فہم، وہ بولنا ہے، جو ایک خاص طرز کا طبقہ سننا چاہتا ہے۔
پھر سمجھ لیں، سچ بولنا آسان نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب سچ بولنا اتنا آسان ہو جائے کہ آپ عمران ریاض جیسے چھٹ بھئیوں سے سننا شروع کر دیں، تو اس سچ کے سچ ہونے پر شک کریں۔
مطمئن منافق!