Ex Add. GS WW Pakistan Tehreek e insaf.
Environmentalist, Policy Analyst, Youth/Women Rights Advocate, Ntl.Youth Award, Int.N-Peace Award Nominee, @PakUSAlu
Khan Sahib is not allowed use of exercise cycle. No access to newspapers or tv even though he is entitled to these under the jail manual. Low quality food provided caused indigestion and vomiting for some days. This has now stopped. Imprisonment in isolation is torture.
" علیمہ خانم، عظمہ خان اور تحریک انصاف کی دیگر گرفتار خواتین کا کچھ بھی سراغ نہیں! پولیس نے انہیں کسی تھانے میں پیش نہیں کیا، اور مجسٹریٹ کے سامنے بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ وکلاء کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ خواتین کسی بھی پولیس اسٹیشن میں موجود نہیں ہیں— جیسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا! تحریک انصاف کی قانونی ٹیم بھی لاعلم ہے۔ صورتحال انتہائی خوفناک اور تشویشناک ہو چکی ہے!" @saqibbashir156
#UndeclaredMartialLaw
مختصر تجزیہ : فروری 1973 سے مئی 1973 تک قلیل عرصے کے لئے اقتدار میں رہنے والے بلوچستان کے منتخب وزیر اعلیٰ سردار عطاءاللّہ خان مینگل پاکستان کے پہلے سٹنگ وزیر اعلی تھے جنہیں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں منصب سنبھالتے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا ، سردار عطاءاللہ مینگل جیل میں رہے تو اُن کے بڑے صاحبزادے کو غائب کردیا گیا ، ایک عرصے تک مسنگ رہنے کے بعد بڑے صاحبزادے کی مسخ شدہ لاش ملی ، سردار عطاءاللہ مینگل کا انتقال 2021ء میں ہوا سردار اختر مینگل انہی کے صاحبزادے ہیں ، عطاءاللہ مینگل کے ساتھ میرے ایک انٹرویو میں انہوں نے کُھل کر کہاتھا کہ میں پاکستان کا پہلا منتخب وزیر اعلی تھا جسے دوران اقتدار بغیر کسی جُرم کے جیل میں رکھا گیا ، اگر علی امین گنڈاپور ایسی کسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ پاکستان بننے کے بعد کسی بھی صوبے کے دوسرے سٹنگ وزیر اعلیٰ ہونگے جو حالات کی بھینٹ چڑھیں گے ، یاد رہے کہ آج بھی پیپلزپارٹی کسی نہ کسی شکل کے "پارشل لاء" کے تحت اقتدار میں ہے اور آج بھی ایک منتخب وزیر اعلیٰ پر ممکنہ گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے
”میں پنڈی اور اسلام آباد کی عوام کو پیغام دیتا ہوں کہ بارش رُک چُکی ہے، فوراً دوبارہ سے ڈی چوک پہنچیں۔ تحریکِ انصاف نے ہرگز اپنی احتجاج کی کال واپس نہیں لی۔ ہمارے تمام مطالبات کے حصول تک احتجاج جاری رہیگا۔“
صدر پی ٹی آئی اسلام آباد ریجن عامر مسعود مغل
#چلو_چلو_ڈی_چوک_چلو
Rangers have forcefully entered KP House and launched an aggressive attack in an attempt to arrest CM KPK Ali Amin Gandapur. This blatant abuse of power is deeply shameful, raising serious concerns about the state of lawlessness in Pakistan. After failing to stop the public from reaching Islamabad, they have now resorted to arresting a sitting Chief Minister of a province. Those in key institutions are determined to push the country towards anarchy, solely to retain their illegitimate power, without realizing the irreparable damage they are inflicting on Pakistan.
Is this a declaration of war against the people of Pakistan?
#UndeclaredMartialLaw
#DChowkProtest
عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری پر میں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ ماشاللہ بہادر بھای کی نڈر بہنیں ہیں۔
ہر قدم پر کارکنوں کے شانہ بشانہ۔
اخلاق، کرادر، عقل اور فہم سے عاری ظالم ٹولہ اپنے دن پورے کر رہا ہے۔ آج پنڈی، فیصل آباد، کراچی، اور میانوالی کے بعد خوف کی فضا کو اسلام آباد میں پھر سے دفن کردیا گیا-
پاکستانی قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا عوام کے نام پیغام
تمام تر فسطائیت اور حکومتی جبر، رکاوٹوں کے باوجود خوف کی زنجیریں توڑ کر باہر نکلنے پر میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ آج (4 اکتوبر بروز جمعتہ المبارک) آپ سب پرامن احتجاج کیلئے ڈی چوک اسلام آباد پہنچیں اور لاہور اور اس کے گردو نواح کے اضلاع کے شہری 5 اکتوبر، بروز ہفتہ مینار پاکستان پر احتجاج کی تیاری کریں۔
یہ جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اللہ کے فضل سے ہم اپنی حقیقی آزادی کی لڑائی جیت رہے ہیں۔ اقتدار پر قابض ظالم ہمیں خوف زدہ کر کے ہماری جیت کو شکست میں بدلنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ بے خوف ہو کر نکلیں اور یاد رکھیں کہ اگر اب بھی آپ نے آگے بڑھ کر خود کو حقیقی طور پر آزاد کروانے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو یہ ظالم آپ کو چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیں گے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی اپنا غلام بنا لیں گے جن پر ان کی اولادیں حکومت کریں گی۔
سپریم کورٹ میں ڈرامہ چل رہا ہے اور میں نے تاریخ میں اتنا بےشرم چیف جسٹس نہیں دیکھا جو اپنی ذاتی ایکسٹنشن (اپنی نوکری کی مدت میں توسیع) کی خاطر ہر وہ فیصلہ دے رہا ہے جس کی قانون اور آئین اجازت نہیں دیتے۔ قاضی “ایکسٹینشن گینگ آف تھری” کا حصہ ہوتے ہوئے پاکستانی قوم کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے ان کو ایکسٹینشن مافیا اور پی ڈی ایم کا غلام بنا رہا ہے۔ کسی بھی ملک میں عوام کے حقوق کا دفاع عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چیف جسٹس خود ہی عوام کے حقوق کا خون کر رہا ہے۔ دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جج عدالت میں بیٹھ کر اپنی ملازمت بچانے کیلئے آئین و قانون کو روند کر اپنے ہی حق میں فیصلے کرتا رہے۔ یہ کانفلیکٹ آف انٹرسٹ (مفادات کے تصادم) کی بدترین مثال ہے۔ اس نے جمہوریت اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ججز اخلاقی برتری کی بنیاد پر عدالتوں میں بیٹھتے اور فیصلے کرتے ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی شکل میں بطور چیف جسٹس عوام کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ نے عوام کے حقوق پر سب سے بڑا ڈاکہ ڈالاہے۔
جنرل جیلانی کی گود میں پلنے والے نے چپ کا روزہ توڑا ہے اور پاکستان کے باشعور عوام کو بھیڑ بکریاں قرار دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہمیشہ اقتدار میں آنے والے کی نظر میں جمہوریت کا مطلب ہمیشہ بوٹ کو عزت دینا ہی ہوتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ باشعور عوام اور ان کے ووٹ کا تقدس کیا ہے۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم 2 مرتبہ ڈیل کر کے بیرون ملک بھاگے اور جیل گئےت و وہاں رو رو کر تم نےجیل کے سارے ٹشو پیپرز ہی ختم کر ڈالے۔ عوام یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے جیسی جیل میں تو تم نے ایک دن بھی نہیں گزارا۔ یا تو بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے رہے یا فائیو سٹار سہولیات کے ساتھ کسی سرکاری مہمان خانے میں بیٹھ کر معافیاں اور این آر او کی بھیک مانگتے رہے۔ اب عوام باشعور ہوچکے ہیں اور تمہارا اصلی چہرہ ان پر بےنقاب چکا ہے۔
لندن پلان کے مطابق اس لیکشن میں تمھاری جماعت نے 20 سیٹیں تک نہیں جیتیں جبکہ لندن پلان کے مطابق تمہیں کپتان ہونا تھا لیکن تھرڈ ایمپائر تمہیں Deceive (دھوکہ دے کر) کر کے خود ہی کپتان بن گیا اور تمہیں بارہواں کھلاڑی بنا دیا۔
میں وفاقی حکومت کی جانب سے اپنے غلام آئی جی خیبر پختونخواہ کے ذریعے صوبائی حکومت کی مرضی اور اجازت کے بغیر امن جرگے پر حملے اور پرتشدد کاروائی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہوں۔ آئی جی کے ذریعے وفاقی حکومت کا یہ اقدام صوبائی امور میں کھلی مداخلت اور صوبائی خود مختاری پر کھلا حملہ ہے۔
1/2
"کل سارا دن اور رات شدید شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کا سامنا رہا۔ کئی لوگوں کو جسم پر لگنے والے زخم دکھائے گئے جن پر ربڑ کی گولیوں اور ٹارچر کے نشانات تھے۔ وہ مناظر اتنے بھیانک تھے کہ انہیں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ میں حیران رہ گیا کہ پولیس نے لوگوں پر اس قدر بدترین تشدد کیا، ربڑ کی گولیاں ماری، اور بے دردی سے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ کئی نوجوانوں کے سر پھٹے ہوئے تھے، بازو ٹوٹے ہوئے تھے، اور وہ بری طرح زخمی تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ڈٹے رہے۔ جمعہ کے دن قیدی نمبر 804 نے ثابت قدمی سے فتح حاصل کی۔ وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھے اور ڈی چوک پہنچنے کا وعدہ پورا کیا۔" @ImranRiazKhan
#خان_کے_دیوانے_تو_نکلیں_گے
آج ایران نے ثابت کردیا کہ ایران کو چار دن نہ لگیں اسرائیل کو تباہ کرنے میں۔ 48 منٹ کی میزائلوں کی بارش نے اسرائیل کی سانسیں روک دی ہیں۔۔۔۔۔۔
آئیرن ڈوم کا زعم تباہ۔
"یہ رنگ روڈ کا منظر ہے جہاں چند گھنٹے پہلے تک کسی کارکن کو کھڑا ہونے کی اجازت نہیں تھی اور پولیس موجود تھی، لیکن اب رنگ روڈ لوگوں سے بھر چکا ہے۔ جلسہ دو مقامات پر ہو رہا ہے، ایک پنڈال میں اور دوسرا رنگ روڈ پر۔ جلسہ گاہ کی مختص جگہ مکمل بھر چکی ہے اور اب پولیس ہٹ چکی ہے، لوگوں کی بڑی تعداد رنگ روڈ پر جمع ہے۔ پنجاب کے قافلے پہنچ چکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے قافلوں کا آنا باقی ہے۔ لاہور اور ارد گرد کے علاقوں کے لوگ جلسہ گاہ اور رنگ روڈ کو بھر چکے ہیں۔" @RizwanGhilzai
#LahoreJalsa
#پنجاب_عمران_خان_کا
پنجاب پولیس نے آج نا صرف پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کو دھکے دئیے بلکہ خواتین کے ساتھ بھی ہاتھا پائی کرنے کی کوشش کی گئی۔
بداخلاقی اور بد سلوکی کی ہر حد پار کی گئی۔ لیڈرشپ اور ورکرز کو بھڑکانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔
یہ باقائدہ سازش کے تحت کیا گیا۔