اوپن مارکیٹ میں ڈالر 310 روپے میں فروخت ہورہا ہے اور ملک آج کل ریکارڈ کمر توڑ مہنگائی کےچُنگل میں ہے۔
قرضوں کے حجم میں نہایت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ معیشت اسی تیزی سے سکڑ رہی ہے۔
ہماری مجموعی سالانہ آمدن تو اس سود کیلئے بھی ناکافی ہے جسے ہمیں اپنے قرضوں پر ادا کرنا ہے۔
ایسے میں جب معیشت ہماری نگاہوں کے سامنے بکھر رہی ہے، قوم پر مسلط فسطائی حکومت تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے جبر و ستم کے نت نئے طریقوں کی ایجاد میں لگی ہوئی ہے۔
پی ڈی ایم قیادت کو روپے کی قدر میں اس تاریخی گراوٹ سے یقیناً کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ ناجائز طریقوں سےجمع کی گئی انکی ساری دولت ڈالروں کیصورت میں بیرون ملک چھپائی گئی ہے۔ پی ڈی ایم قائدین کیلئے تو روپے کی قدر میں گراوٹ سود مند (منافع بخش) ہے جبکہ پاکستان کے عوام غربت اور مہنگائی کے بوجھ تلے کُچلے جائیں گے۔
میں اپنے کارکنان اور قائدین کی غیرقانونی گرفتاریوں اور اغواء کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہمارے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری جنرل اسد عمر کو قید میں ڈالے ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔
اسی طرح عدالتی احکامات کے باوجود صحافی عمران ریاض خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا اور ان پر تشدد کی مصدّقہ اطلاعات ہیں۔
میں اپنی خواتین قائدین، کارکنان اور اپنے قائدین اور کارکنان کی اہلِ خانہ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
شہریار آفریدی کی اہلیہ کو کیسے قید کیا جاسکتا تھا؟
واضح طور پر یہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کیلئے کھڑے نہ ہوسکیں۔
انسانی حقوق کی سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے روا رکھے جانے والے سلوک اور انکی صاحبزادی پر مرد پولیس اہلکاروں کے حملے کے بارے میں جان کر میں نہایت دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو ضمانت دیے جانے کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل کے اندر سے اغواء کیا گیا اور تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر شیریں مزاری کے چلّانے کی آوازیں سنائی دیں۔
ہماری خواتین کارکنان سے کئے جانے والے وحشیانہ سلوک، جس کے ویڈیو شواہد بھی مسلسل سامنے آرہے ہیں نہایت قابلِ نفرت و مذمت ہے۔
ہماری بہت سی خواتین اراکینِ قومی اسمبلی، کارکنان اور حمایتیوں کو نہایت غیرانسانی حالات میں ملک بھر کی جیلوں میں ٹھونسا جارہا جہاں وہ پولیس کی زیادتیوں کی زد میں ہیں۔
اس فسطائی حکومت کی جانب سے ان خواتین شہریوں کا اغواء اور ان سے کیا جانے والا بہیمانہ سلوک انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہی نہیں بلکہ ہمارے کلچر اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
ان تمام خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہیں پیہم قید میں رکھنا نِری بےحسّی ہے۔ میں یہ سارا معاملہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے بھی رکھ رہا ہوں۔
بزنس ٹائیکون سے ڈیل شریف خاندان کی، ریلیف کا الزام عمران خان پر ۔ ۔ ۔ ون ہائیڈ پارک لندن پراپرٹی کی اصل ملکیت شریف خاندان کی، ارشد شرہف شہید نے دستاویزات کے ساتھ اس کا انکشاف کیا تھا ۔ ۔ ۔
#ARYNews#ImranKhan#ArshadSharif