A proud overseas Pakistani. I live for Pakistan, & I will die for Pakistan. Need Change ! Supporter of Pakistan Tehreek-e- Insaf #PTIFamily😍
فخر پاکستان عمران
🚨گلگت بلتستان والو غلطی سے بھی ہمارا خطہ نواز شریف، زرداری جیسے ڈکیٹوں کے ہاتھ میں نہیں جانا چاہیے، عمران خان ایسا لیڈر ہے کہ جس نے وسیعت کی ہے کہ اس کی ساری جائیداد شوکت خانم کے نام ہو گی،
خالد خورشید خان کا اہم پیغام
گلگت بلتستان انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف اور مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان کے امیدواران اور ان کے انتخابی نشانات!
عمران خان بمقابلہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ، تمام حکومتی سیاسی جماعتیں، تمام عسکری ٹاؤٹ صحافی و ٹی وی چینلز اور تمام حکومتی ادارے۔
#گلگت_بلتستان_کپتان_کا
سابق وزیراعلیٰ و صدر پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان خالد خورشید خان کا حلقہ 1 گلگت 1 کے غیور عوام کے نام پیغام:
7 جون 2026 کو پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد الیاس صدیقی کو ووٹ دے کر عمران خان کے نظریے، حقیقی آزادی اور گلگت بلتستان کے روشن مستقبل کا ساتھ دیں۔
آپ کا ایک ووٹ ظلم، ناانصافی اور کرپٹ نظام کے خلاف مضبوط آواز ثابت ہوگا۔
آئیں مل کر گلگت بلتستان میں ترقی، انصاف اور عوامی حق حکمرانی کی نئی مثال قائم کریں۔
پی ٹی آئی نامزد امیدوار: محمد الیاس صدیقی
انتخابی نشان حلقہ 1 گلگت 1: خیمہ
پولنگ کا دن: 7 جون
پاکستان تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت MWM کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کے تمام 24 حلقوں میں جن امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، اُن کے نام درج ذیل ہیں
1) جی بی اے 1، گلگت 1 : الیاس صدیقی (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
2) جی بی اے 2، گلگت 2: عتیق پیرزادہ
انتخابی نشان: ٹرانسفارمر
3) جی بی اے 3، گلگت 3: سید سہیل عباس شاہ
انتخابی نشان: شانٹی ٹوپی
4) جی بی اے 4، نگر 1: زلفقار علی
انتخابی نشان: مینار
5) جی بی اے 5، نگر 2: ریاض اکبر (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
6) جی بی اے 6 ہنزہ: نیک نام کریم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
7) جی بی اے 7، سکردو 1: راجہ محمد زکریا
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
8) جی بی اے 8، سکردو 2: محمد کاظم میثم (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
9) جی بی اے 9، سکردو 3: وزیر اظہر مہدی(MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
10) جی بی اے 10، سکردو 4: ڈاکٹر محمد شریف
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
11) جی بی اے 11 کھرمنگ: سید محسن زیدی
انتخابی نشان: نلکا
12) جی بی اے 12 شگر: ایڈوکیٹ حسن شگری
انتخابی نشان: میڈل
13) جی بی اے 13, استور 1: شاہد
انتخابی نشان: شانٹی ٹوپی
15) جی بی اے 15 دیامر 1: نوشاد عالم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
16) جی بی اے 16 دیامر 2: سید عابد اقبال
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
17) جی بی اے 17 دیامر 3: حاجی کمان
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
18) جی بی اے 18 دیامر 4: ایوب قریشی
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
19) جی بی اے 19، غذر 1: شیر عظیم خان
انتخابی نشان: چارپائی
20) جی بی اے، 20 غذر 2: ندیم رفیق
انتخابی نشان: تالا
21) جی بی اے 21، غذر 3: راجہ جہانزیب
انتخابی نشان: چمٹا
22) جی بی اے 22، گانچھے 1: محمد اختر خان (MWM)
انتخابی نشان: نلکا
23) جی بی اے 23، گانچھے 2: عبد الرحیم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
24) جی بی اے 24، گانچھے 3: صداقت حسین
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
جائیں کیونکہ ملک کو اونچی اڑان دینی ہے۔
21,780,000,000,000
روپے سالانہ ٹیکس اکٹھا کریں اور ملک کو قرضوں سے نجات دلائیں اس کے بعد اضافی آکسیجن کے استعمال پر بھی ٹیکس لگایا جائے۔
قرض اتارو ملک سنوارو 💵
سورج سے دن میں بندہ 10 سے 20 ہزار یونٹ وٹامن ڈی حاصل کرتاہے۔ جبکہ انسانی ضررت 600 سے 800 یونٹ ہوتی ہے۔ اضافی یونٹس پر کیپیسٹی چارجز کی مد میں ٹیکس لگنا چاہیے۔
اس سے یومیہ فی نفر 242 روپے حاصل کئے جا سکتے ہیں اور بوٹواریوں سے 500 روپے فی بوٹواری حاصل کئے
🚨 ہم واشنگٹن گئے ہماری بات چیت ہوئی وہاں سے ردعمل آنے والا تھا کہ حکومت پاکستان نے مشرق میں امریکی puppet حکومت بننے کی ہر ممکن کوشش شروع کر دی انہوں نے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا پھر انہوں نے اپنے منرلز امریکہ کے حوالے کرنے کی کوشش کی انہوں نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے خوشامد کی کوشش کی انہوں نے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جس کے خلاف عمران خان سٹینڈ لیے کھڑے ہیں ۔
قاسم خان
سیٹ سے چمٹے ہوئے ہیں اور سونے پر سہاگا اللہ ربّ العزت کے بابرکت ناموں کے نیچے جھوٹا حلف اٹھایا لیکن شرمندہ نہیں۔
قصہ مختصر برفی سے رس ملائی تک ٹوٹل سیاست تھوڑا نہیں زیادہ سوچیں۔
Zakaullah Khan
نواز شریف کی 47 سالہ سیاست کا نچوڑ یہ ہے فارم 47 کے زریعے بوٹ چاٹ کر ایم این اے ہیں۔
ایک سیٹ صحبزادہ گستاخب سے ہارے اور ایک سیٹ جیل میں قید 77 سالہ کینسر کی مریضہ ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہر ممکن سہولت کاری اور بدترین دھاندلی کے باوجود ہارے اور اس ہار کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ڈھیٹ بن ک
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے