یا اللہ… ہمارے قائد عمران خان پر اپنی خاص رحمت نازل فرما۔
انہیں مکمل صحت، حفاظت اور بینائی عطا فرما۔
انہیں ہر ظلم اور ہر قید سے جلد، باعزت رہائی دے۔
بے شک ہر سختی کے بعد آسانی ہے یا رب، وہ آسانی جلد عطا فرما۔
آمین."
I left home to run an errand in the Al-Mawasi area, leaving behind my daughter Rafif, my wife, and my family.
Everything was calm and stable… but in a single moment, everything changed.
Suddenly, heavy gunfire, shelling, and the destruction of buildings began.
I could no longer return home or reach my family because of the intense gunfire.
I was forced to stay somewhere safe, far away from them, while my wife, my daughter Rafif, and my family managed to take shelter on the lower floor of my aunt’s house.
Those moments were incredibly difficult… being far away from your daughter and family, not knowing what might happen in the next moment.
Thank God, after all that fear, I was finally able to return, and I am now beside Rafif and my family. 🤍
Please keep Rafif and my family in your prayers.
All we ask is to make it through this night safely and remain together. 🙏💔
میں آپکو دعوت دیتا ہوں، سندھ چلیں اور عوام کے سامنے کہیں کہ ہم سندھ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ جلسے کریں، عوام کے سامنے اپنا مؤقف رکھیں، میں آپ کو سلام کروں گا۔
@BBhuttoZardari@PPP_Org
اگر سندھ کراچی کے وسائل روک دے، تو کیا دیگر صوبے (پنجاب، کے پی، بلوچستان) کراچی کو بچا سکتے ہیں؟
گیس، خوراک اور لاجسٹکس کے حقائق بتاتے ہیں کہ یہ عملی طور پر انتہائی مشکل اور ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہوگا
گیس کا بحران:
پاکستان کی کل قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ سندھ (جیسے سوئی، قادر پور، ماری فیلڈز) سے نکلتا ہے۔ کراچی کی انڈسٹری اور گھر اسی گیس پر چلتے ہیں۔ اگر سندھ سپلائی روک دے، تو دوسرے صوبوں سے پائپ لائنز کے ذریعے گیس ڈائیورٹ کرنا ناممکن ہوگا، اور کراچی کا صنعتی پہیہ فوری جام ہو جائے گا
۔خوراک کی لاجسٹکس:
پنجاب اور کے پی سے کراچی تک خوراک پہنچانے کے لیے پورا ٹرانسپورٹ روٹ سندھ کی دھرتی (سکھر، حیدرآباد) سے گزرتا ہے۔ اگر سندھ اپنے راستے بند کر دے، تو پنجاب کا اناج کراچی نہیں پہنچ سکتا۔ سمندری یا فضائی راستے سے کروڑوں لوگوں کے لیے روزانہ خوراک لانا ناممکن حد تک مہنگا ہوگا۔
بلوچستان کا روٹ:
بلوچستان کے پاس گیس (سوئی) ضرور ہے، لیکن وہاں سے کراچی تک گیس کی نئی پائپ لائنز بچھانے اور انفراسٹرکچر بنانے میں کئی سال اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ فوری طور پر بلوچستان بھی کراچی کی اتنی بڑی آبادی کی توانائی اور خوراک کی ضروریات اکیلا پوری نہیں کر سکتا
نتیجہ۔
کراچی جغرافیائی طور پر سندھ کے حصار میں ہے۔ دیگر صوبے چاہیں بھی تو سندھ کے راستوں اور وسائل کے بغیر کراچی کو فوری ریلیف نہیں دے سکتے۔ کراچی صرف معاشی طور پر نہیں، بلکہ جغرافیائی اور لاجسٹک طور پر بھی باقی سندھ سے کٹ کر پسماندہ ہو جائے گا۔
جو لوگ صبح شام یہ راگ الاپتے ہیں کہ "کراچی پورے ملک کو کما کر دیتا ہے"، وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ کراچی خود غیب سے نہیں کما رہا۔ کراچی اگر کما رہا ہے تو وہ سندھ کے وسائل، سندھ کے پانی، سندھ کی گیس اور سندھ کی زمین کو استعمال کر کے کما رہا ہے۔ #Karachi
یہ مغالطہ اب دور ہو جانا چاہیے کہ کراچی کسی کی جاگیر ہے یا کوئی اسے سندھ سے الگ کر سکتا ہے۔ کراچی جغرافیائی، تاریخی اور ثقافتی طور پر سندھ کا دل ہے۔ سندھ کے وسائل کے بغیر کراچی کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے بغیر انجن کے گاڑی۔
کمانے کا گھمنڈ دکھانے والے یاد رکھیں کہ اگر سندھ اپنے راستے اور بارڈرز بند کر دے، تو دوسرے صوبوں کی امداد بھی کراچی نہیں پہنچ سکتی۔ کراچی کا سارا کماؤ پوت ہونا سندھ کی دھرتی سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ ہے تو کراچی ہے، اور کراچی سے ہی سندھ کی رونق ہے۔
سیدھی اور سچی بات یہ ہے کہ کراچی سندھ کا تھا، سندھ کا ہے اور ہمیشہ سندھ ہی رہے گا۔ لسانی سیاست چمکانے کے لیے شہر کی ملکیت کے جھوٹے دعوے کرنے والے زمینی حقائق کا سامنا کریں۔ سندھ کے بغیر کراچی کا کوئی وجود نہیں!
کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شہر پورے ملک اور بالخصوص سندھ کا پیٹ پالتا ہے۔ لیکن کیا کراچی سندھ کے دیگر وسائل کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟
حقائق بتاتے ہیں کہ معاشی خودمختاری کے باوجود، کراچی جسمانی بقا کے لیے باقی سندھ کا محتاج ہے۔
پانی کی لائف لائن
: کراچی ایک ساحلی صحرا کی مانند ہے جہاں زیرِ زمین پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہر کی پیاس بجھانے والا 90% سے زائد پانی دریائے سندھ سے کینجھر جھیل کے ذریعے آتا ہے۔ اگر سندھ کے یہ قدرتی راستے اور وسائل نہ ہوں، تو کراچی چند دنوں میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہو جائے گا
خوراک کی سیکیورٹی:
کراچی لاکھوں ٹن اناج، سبزیاں، پھل، دودھ اور گوشت روزانہ استعمال کرتا ہے۔ یہ تمام بنیادی خوراک اندرونِ سندھ کے زرعی بیلٹ سے آتی ہے۔ اگر یہ سپلائی لائن کٹ جائے تو کراچی میں غذائی بحران پیدا ہو جائے گا اور امپورٹڈ خوراک عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی۔4/5زمین اور پھیلاؤ: کراچی کی آبادی اب کروڑوں میں ہے اور شہر میں مزید جگہ نہیں بچی۔ نئے ہاؤسنگ پروجیکٹس، انڈسٹریل زونز اور کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے (Landfill Sites) کراچی کو جامشورو، ٹھٹھہ اور ملیر جیسے سندھ کے دیگر اضلاع کی زمینوں کی ضرورت پڑتی ہے
نتیجہ: یہ سچ ہے کہ کراچی ریونیو پیدا کرتا ہے اور اس کا حق اسے ملنا چاہیے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کراچی اور باقی سندھ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کراچی اگر سندھ کو معیشت دیتا ہے، تو سندھ کراچی کو زندگی (پانی، خوراک اور زمین) دیتا ہے۔ تقسیم کے بجائے مل کر چلنے میں ہی سب کی بقا ہے۔
@studsdown کراچی کی ہزاروں انڈسٹریز، سی این جی اسٹیشنز اور گھروں کے چولہے Sui Southern Gas Company (SSGC) کے ذریعے چلتے ہیں، جس کا میجر سورس اندرونِ سندھ (جیسے گھوٹکی کا قادر پور گیس فیلڈ) ہے。اگر سپلائی بند ہو جائے: پاکستان کی
@studsdown اگر اندرونِ سندھ سے کراچی کا پانی صرف 24 گھنٹے کے لیے روک دیا جائے، تو کراچی کا پورا ہائیڈرینٹ اور واٹر سسٹم بیٹھ جائے گا، اور پورا شہر بوند بوند پانی کو ترسے گا۔ سمندر کا نمکین پانی پیا نہیں جا سکتا۔
@studsdown کراچی کے پاس پینے کے پانی کا اپنا کوئی قدرتی ذریعہ نہیں ہے۔ کراچی کو سپلائی ہونے والا 90 فیصد سے زائد پینے کا پانی (تقریباً 550 سے 650 ملین گیلن روزانہ) ضلع ٹھٹہ (سندھ) میں واقع کینجھر جھیل اور دریائے سندھ سے آتا ہے
@studsdown Karachi's daily massive consumption of fresh milk, vegetables, wheat, and poultry is supplied by the immediate surrounding agricultural districts of Sindh (Malir, Thatta, Hyderabad, Mirpurkhas, Shaheed Benazirabad).
@studsdown Karachi’s industrial zones run on natural gas supplied by Sui Southern Gas Company (SSGC), which draws its primary gas from major fields located deep inside Sindh (like the Qadirpur gas field in Ghotki).
@studsdown Karachi is an engine, but its fuel is Sindh. Without Sindh’s water, gas, and food, Karachi cannot survive for 24 hours and no other province can save it. Karachi is not an island. End of story!
اگر اندرونِ سندھ سے کراچی کا پانی صرف 24 گھنٹے کے لیے روک دیا جائے، تو کراچی کا پورا ہائیڈرینٹ اور واٹر سسٹم بیٹھ جائے گا، اور پورا شہر بوند بوند پانی کو ترسے گا۔ سمندر کا نمکین پانی پیا نہیں جا سکتا۔
:کامران خان صاحب! صحافت کریں، اسٹیبلشمنٹ اور مافیا کے دلال مت بنیں۔ یہ سلیکٹیو ایجنڈا اب نہیں چلے گا!پی پی پی کی کرپشن پر بولیں تو وفاق اور پنجاب کے معاشی ڈاکے پر بھی بولیں۔ منافقت چھوڑیں اور صحافت کریں۔
18 سال سے مسلسل اقتدار میں موجود پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے بادشاہی نظام کا تازہ ترین انکشاف حاضر ہے آج وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے حکومتی دربار میں 19 وزراء، 5 مشیر، 24 معاونین خصوصی اور 14 ترجمان شاملُ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سندھ سے دو گنا سے زیادہ آبادی والے پنجاب میں یہ تعداد آدھی سے بھی کم ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی کابینہ بھی سندھ کے اس سیاسی لشکر سے پیچھے نظر آتی ہے۔اٹھارویں ترمیم نے اختیارات مرکز سے صوبوں کو دیے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ سندھ میں یہ اختیارات شہروں اور اضلاع تک کیوں نہیں پہنچے؟ سیاسی عہدے بڑھتے گئے، مگر پانی، ٹرانسپورٹ، بلدیات اور انتظامی کارکردگی کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔آج کے On My Radar میں ہم اسی 18 سالہ حکمرانی کی حقیقت کھول رہے ہیں۔ مکمل شو دیکھنے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں اور پورے پروگرام سے محظوظ ہوں۔ https://t.co/e1EaUKQsUm
اگر سندھ کے اضلاع کراچی کے لیے اناج، دودھ اور سبزیوں کی سپلائی روک دیں، تو کراچی کی ہول سیل مارکیٹس 48 گھنٹوں میں خالی ہو جائیں گی اور شہر میں قحط کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ کراچی کنکریٹ کا شہر ہے، وہاں گندم اور سبزیاں نہیں اگتیں۔
اگر سپلائی بند ہو جائے: پاکستان کی 60 فیصد سے زائد گیس سندھ پیدا کرتا ہے。 اگر اندرونِ سندھ سے گیس کی مین پائپ لائنز کا والو بند کر دیا جائے، تو کراچی کی پورٹ پر موجود انڈسٹریز، ٹیکسٹائل ملز اور پاور پلانٹس چند گھنٹوں میں بند ہو جائیں گے اور معاشی انجن جام ہو جائے گا۔
@AajKamranKhan Karachi's daily massive consumption of fresh milk, vegetables, wheat, and poultry is supplied by the immediate surrounding agricultural districts of Sindh (Malir, Thatta, Hyderabad, Mirpurkhas, Shaheed Benazirabad).
@AajKamranKhan Karachi’s industrial zones run on natural gas supplied by Sui Southern Gas Company (SSGC), which draws its primary gas from major fields located deep inside Sindh (like the Qadirpur gas field in Ghotki).
@AajKamranKhan Karachi is an engine, but its fuel is Sindh. Without Sindh’s water, gas, and food, Karachi cannot survive for 24 hours—and no other province can save it. Karachi is not an island. End of story!"
کراچی پاکستان کا معاشی انجن ضرور ہے، لیکن اس انجن کا فیول اور لائف لائن صرف اور صرف صوبہ سندھ کی دھرتی ہے۔ اگر سندھ اپنا پانی، گیس، اور اناج روک دے، تو کوئی دوسرا صوبہ 24 گھنٹے بھی کراچی کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔ کراچی کوئی جزیرہ نہیں، یہ سندھ کی مٹی کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
Karachi is an engine, but its fuel is Sindh. Without Sindh’s water, gas, and food, Karachi cannot survive for 24 hours—and no other province can save it. Karachi is not an island. End of story!
@IrtizaMQM Karachi is an engine, but its fuel is Sindh. Without Sindh’s water, gas, and food, Karachi cannot survive for 24 hours and no other province can save it. Karachi is not an island. End of story!