جاپانیوں کو تازہ مچھلیاں بہت پسند ہیں ، لیکن جاپان کے قریب کے پانیوں میں کئی دہائیوں سے زیادہ مچھلی نہیں پکڑی جاتی
لہذا جاپانی آبادی کو مچھلی کھلانے کے لئے ، ماہی گیر کشتیاں بڑی ہوتی گئیں اور پہلے سے کہیں زیادہ دور جانے لگیں -
ماہی گیر جتنا دور گئے ، مچھلیوں کو پکڑ کر واپس لانے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگنے لگا۔ اس طرح ساحل تک باسی مچھلی پہنچنےلگی -
مچھلی تازہ نہیں تھی اور جاپانیوں کو ذائقہ پسند نہیں تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ، فشینگ کمپنیوں نے اپنی کشتیوں پر فریزر لگائے۔
وہ مچھلی کو پکڑ کر سمندر میں فریز کردیتے۔ فریزرز کی وجہ سے کشتیوں کو مزید دور جانے اور زیادہ دیر تک سمندر میں رہنے کا موقع ملا ۔
تاہم ، جاپانیوں کو فروزن مچھلی کا ذائقہ بھی پسند نہ آیا ۔
فروزن مچھلی کم قیمت پڑتی تھی۔
تو ، ماہی گیر کمپنیوں نے فش ٹینک لگائے۔ وہ مچھلی کو پکڑ لیتے اور ٹینکوں میں بھر کر زندہ لے آتے -
مگر تھوڑے وقت کے بعد ، مچھلیاں سست ہو جاتیں ۔ وہ زندہ تو رہتیں لیکن مدہوش ہو جاتیں -
بدقسمتی سے ، جاپانیوں کو اب بھی اس مچھلی کا ذائقہ پسند نہ آیا چونکہ مچھلی کئی دن تک حرکت نہیں کرتی تھی ،
اس لئے تازہ مچھلی والا ذائقہ کھو جاتا -
ماہی گیری کی صنعت کو ایک آنے والے بحران کا سامنا کرنا پڑا!
لیکن اب اس بحران پر قابو پالیا گیا ہے اور وہ اس ملک میں ایک اہم ترین تجارت بن کر ابھرا ہے۔
جاپانی فشینگ کمپنیوں نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا؟
وہ جاپان میں تازہ ذائقے والی مچھلی کیسے حاصل کرتے ہیں؟
مچھلی کے ذائقے کو تازہ رکھنے کے لئے جاپانی ماہی گیر کمپنیوں نے اس مچھلی کو ٹینکوں میں ڈال دیا۔
لیکن اب وہ ہر ٹینک میں ایک چھوٹی سی شارک کو شامل رکھتے ہیں۔
شارک کچھ مچھلیاں کھا جاتی ہے ، لیکن زیادہ تر مچھلیاں انتہائی رواں دواں متحرک حالت میں رہتی ہیں ۔
مچھلیوں کو شارک سے خطرہ رہتا ہے اور اسی وجہ سے وہ متحرک رہتی ہیں اور صحت مند حالت میں مارکیٹ تک پہنچتی ہیں ۔
وہ اچھی قیمت پر فروخت ہوتی ہیں -
خطرے کا سامنا انھیں تازہ دم رکھتا ہے!
انسانی فطرت بھی مچھلی سے مختلف نہیں ہے ۔
ایل رون ہبارڈ نے 1950 کی دہائی کے اوائل میں مشاہدہ کیا:
"انسان صرف ایک مشکل ماحول کی موجودگی میں عجیب طور پر کافی گرو اور ترقی کرتا ہے۔
"جارج برنارڈ شا نے کہا:
"اطمینان موت ہے.. !"
اگر آپ مستقل طور پر چیلنجوں کو فتح کر رہے ہیں تو ، آپ خوش ہیں۔ آپ کے چیلنجز آپ کو متحرک رکھتے ہیں۔ وہ آپ کو بھرپور زندہ رکھیں گے... !
_ آپ بھی اپنے ٹینک میں شارک رکھیں اور دیکھیں کہ آپ واقعی ترقی کرکے کہاں تک جا سکتے ہیں... !
: اگر آپ صحت مند ، کم عمر اور متحرک نظر آتے ہیں تو ، یقینی طور پر آپ کے گھر میں بیوی موجود ہے۔
جی ہاں شارک کو اپنی زندگی میں موجود رکھئیے
اور
اگر زیادہ متحرک زیادہ جوان زیادہ خوشحال رہنا چاہتے ہیں تو پھر شارک کی تعداد بڑھا لیں۔۔۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
Exactly 3 years ago, we had our first meet up in Lahore.
KSE 100 index was 40,000 back then, risks of default were there and I am super proud to have guided people that it is a great time to invest. Now we are at 180,000, 350% profits ✅✅
In last 3 years, we have helped 1,000+ investors directly & 100,000+ through our social media.
And this is just the start, next 3 years, we will InshaAllah help 1 million Pakistani's achieve financial freedom.
Thank you all for your love & support, would not have been able to do it without you ❤️
اس حُکومت کی نئی بات سُنیں جو آفیشلی ڈکلئیر کر دی گئی ہے:
8400 روپے مہینے کمانے والا غریب نہیں۔
پاکستان میں غُربت اتنی بڑھ گئی کہ حُکومت نے غُربت کم کرنے کے بجاۓ پیسے کمانے ک شرح اتنی کم کر دی کہ کاغذات میں دکھا سکیں کہ پاکستان میں اتنے غریب نہیں۔
یہ ہے وہ معاشی کاغذی ہیرا پھیری جس کا میں ہمیشہ ذکر کرتا ہوں
ایران دو ہیں۔
ایک وہ جو پاکستانی زائرین دیکھ کر جاتے ہیں (قم اور مشہد اور تہران کے کچھ پرانے حصے) اور دوسرا وہ ہے جو یورپین ٹورسٹس دیکھنے آتے ہیں ( اصفہان، شیراز، کاشان، یزد، تبریز اور جدید تہران)۔
میں نے دونوں دیکھے ہیں۔ اور تیسرا بھی جو ٹورسٹس نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ایران یہاں رہنے اور سوسائٹی کا حصہ بن کر زندگی کرنے سے سمجھ میں آتا یے۔ یہ ایران ہزاروں سال پرانے تمدن کا تسلسل یے۔
ایران میں حکومتیں بھی دو ہیں۔ ایک وہ جو امریکہ سے برسرِپیکار ہے۔ دوسری وہ جو خدمت خلق میں جتی ہوئی ہے۔ یہ بلدیاتی حکومتیں ہیں۔ جیسے انگلینڈ میں city councils ہیں۔ اسے "شہرداری" کہتے ہیں۔ ہر شہردار کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شہر دوسروں پر بازی لے جائے۔ سارے بڑے شہروں میں ایک صحت مند مقابلے کی فضا ہے۔ چھوٹے شہر بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
یاد رہے ایرانی شہروں میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا اسٹنٹ کمشنر نہیں ہوتے۔ انکی ضرورت ہی نہیں یے۔ یہ کالے انگریز نہیں ہیں۔ صرف ایک منتخب شہردار اور اسکی ٹیم ہوتی ہے۔ سارا انتظام انکے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ شہرداری بہترین کام کررہی ہے۔
پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کا سابق صدر محمود احمدی نژاد دونوں تہران کے شہردار رہ چکے ہیں۔ اسی سے ان کی طبیعت میں خدمت کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ قالیباف 12 سالوں تک تہران کا مئیر یعنی شہردار رہا۔
از جمی ورک
تصویریں "یزد" شہر کی ہیں۔
بیرسٹر حسان نیازی کو عید کے تیسرے دن اپنی والدہ سے ملاقات سے محروم رکھنا ریاستی بے حسی ،کم ظرفی ،اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ چھوٹے لوگ جب اقتدار کے مالک بن جائیں تو ریاستی جبر شتر بے مہار ہو جاتا ہے۔آئین قانون غیر منتخب قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔ میری طویل عمر کا نچوڑ یہی کہ جب اقتدار ظلم اور استبداد کے قبضے میں ہو تو وہ ایسے لوگ ظلم کی مقدار بڑھا کر لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہر اقتدار کا انجام عبرتناک ہوا ہے،ہمیشہ جبر کرنے والوں کا سخت محاسبہ ناگزیررہتا ہے۔
ریاستی جبر کے شکنجہ میں جکڑا اایک قیدی، جو ریاستی جبر کا نشانہ بنا ہوا ہے، اپنی ماں سے ملنے کی امید لیے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ گیا۔ دوسری طرف اس کی والدہ شدید گرمی، چلچلاتی دھوپ اور طویل سفر کی صعوبت برداشت کر کے کوٹ لکھپت جیل پہنچیں تاکہ عید کے دن اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھ سکیں۔ مگر طاقت کے نشے میں مبتلا چھوٹے لوگوں نے نہ ماں کو اندر جانے دیا اور نہ بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ جیل اہلکار قیدی کی طرح بے بس اور انکے افسران مہرہ ناچیز تھے، سب طاقتور حلقوں کے احکامات کے پابند تھے،جو آئین قانون سے بالاتر ،ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک بنےبیٹھے ہیں۔ بندر کے ہاتھ استرا آ جائے تو اذیت رسانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ہمیشہ سے مشاہدہ رہا ہے کہ غیر آئینی قوتیں ریاست پر قابض ضرورہو جاتی ہیں مگر اندر سے خوفزدہ، عدم تحفظ کا شکار اور اخلاقی طور پر کھوکھلی ہو جاتیں ہیں۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا وطیرہ بن جاتا ہے۔ آئین روندنا، قانون توڑنا،انسانی قدروں کو پامال کرنا اُنکا معمول رہتاہے۔
سیاق و سباق میں واقعہ بتانا ضروری ہے، 27مئی بروز بدھ عید الاضحیٰ کا اعلان ہو چکا تھا۔ حسب روایت مجھےبچوں کے ساتھ عید منانے میانوالی جانا تھا۔ 26 تاریخ کو روانہ ہونا تھا، اس لیے میں نےاپنے بیٹے حسان نیازی سے 25مئی کوملاقات کی درخواست کی جو کہ قبول کر لی گئی۔ جیل حکام نے پچیس تاریخ کو میری اور میرے بچوں کی ملاقات کا مجھے بتایا تو ساتھ یہ بھی بتایا کہ عید کے دن حسان نیازی کی ملاقات نہیں ہو گی۔
میں نے ان پر واضح کیا کہ حسان نیازی کی والدہ دور دراز سے صرف ملاقات کے لیے آئیں گی، ایسی صورت میں میری ملاقات منسوخ کرنی پڑے توکر دیں مگر عید کے دن ماں اور بیٹے کی ملاقات ضرور کروا دی جائے۔ اس پر مجھے یقین دہانی کروائی گئی کہ عید کے موقع پر والدہ کی ملاقات بھی ہو جائے گی۔
آج وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا کہ جھوٹ بولنا ریاستی عادت ہے۔حسان نیازی کی والدہ شدید گرمی میں جیل کے اندر تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب حسان نیازی بھی اپنے دیگر ساتھی قیدیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ چکے تھے۔ مگر عین آخری لمحے نہ ماں کو اندر جانے دیا گیا اور نہ ہی بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ عید کے دن ایک ماں کو اپنے اکلوتے بیٹے سے محروم رکھنا sadistذہنیت ہی نہیں، اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے۔
حالانکہ یہ حق نہ صرف جیل مینوئل میں موجود ہے بلکہ ایک بنیادی انسانی تقاضا بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ملک میں طاقتور لوگوں کے اشاروں پر راتوں رات جیلوں کے دروازوں کے قفل کھل جاتے ہیں، قوانین معطل ہو جاتے ہیں اور ضابطے روند دیے جاتے ہیں۔ مگر ماں کو عید کے دن ملاقات کی اجازت نہ دینا ریاستی طاقت کے لئیے ہو گیا۔
مجھے بخوبی علم ہے کہ جیل انتظامیہ محض مہرہ ناچیز ، جیل حکام تو نچلے درجہ کی مخلوق ، پعرا ریاستی نظام طاقتوروں کے اشارہ ابرو پر تگنی کاناچ ہے۔ اصل اختیار غیر منتخب طاقتوں کے پاس جو آئین اور قانون سےبالاتر ، ریاستی مظام کو دبوچ رکھا ہے۔ اپنی اس طویل زندگی میں میں نے کئی طاقتور حکمرانوں کو ہمیشہ منہ کے بل اوندھے گرتے دیکھا ہے، اقتدار کے زعم میں مبتلا، تاریخ کے کوڑے دان میں جاتے بھی دیکھاہے۔ پاکستان میں اج تک کوئی اقتدار ایسا نہیں آیا جس کی expiry date نہ ہو۔ آج کے حکمرانوں کو بھی اپنے انجام کا انتظار کرنا ہو گا۔
میں بذات خود اسی کوٹ لکھپت جیل میں مختلف اوقات، حتیٰ کہ چھٹیوں اور راتوں کو بھی کئی ملاقاتیں کر چکا ہوں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب جاوید ہاشمی کو 22سال قید مشقت کی سزا ہوئی تھی تواسی جیل میں ہم چند دوست تقریباً روزانہ اُن سے ملاقات کرنے پہنچ جاتےتھے ۔ اگرچہ مارشلاء کا زمانہ تھا پھر بھی گھنٹوں بیٹھتے، بلاناغہ جاوید ہاشمی کے ساتھ کھانا کھاتےتھے۔اس کے علاوہ بھی کئی مرتبہ تعطیلات اور ممنوع اوقات میں میں نے خود ملاقاتیں کی ہوئی ہیں
مگر آج ایک ماں کو اپنے بیٹے سے صرف اس لیے محروم رکھا گیا کیونکہ ریاست خوفزدہ ہے۔ یہی اس پورے واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے آپ کو طاقتور سمجھتی ہے، درحقیقت اندر سے کمزور، بزدل اور شدید عدم تحفظ کا شکار
انسانیت کے ناطے🫡❤️❤️
اسطرح کے وقعات عام ہوتے رہتے ہیں مگر ایسے واقعات سے ہمیں سیکھنے کو سبق ملتے ہیں جنہیں ہمیں تعلیمات کے طور پر لینا اور سیکھنا چاہئے ۔
اس ویڈیو میں ایک معزور شخص پہ بیل حملہ آور ہو جاتا ہے بیل وہیل چیئر سے زمین پہ گر جاتا ہے اس اسکی بے بسی تکلیف دہ تھی ہر کوئی اس بیل سے بچنے کیلئے بھاگ سکتا تھا سوائے اس معزور کے اتنے میں ایک بندہ بھاگ کر اس معزور شخص کو کیسے محفوظ کرتا ہے ہے یہ منظر دیکھنے والا ہے ۔اسطرح کے واقعات بہت کچھ سیکھاتے ہیں کہ انسانیت مری نہی زندہ ہے یہ ایک عام سا منظر بہت خطرناک ہو سکتا تھا اگر بے بس معزور اس وجہ سے شدید زخمی یا جان سے جاتا کہ کہ وہ لاچار تھا اس ویڈیو کو ری پوسٹ ضرور کریں ۔۔
@saleemspeaks2@aefrozesiddiqui@s0nhri_sn0w اتنی لمبی گاڑی میں ثیسٹ دینا آسان نہیں ہوتا۔ چھوٹی گاڑی آسان رہتی ہے۔
دوسرے سندھ میں صورتحال مختلف ہے یہاں ٹیسٹ پاس کردیا جاتا ہے سفارش یا رشوت کے ذریعے سے۔ میں اسکا گواہ ہوں۔
کیا ابراہام اکارڈ (ابراہیمی معاہدہ) پر دستخط کرنے چاہیے؟
ٹرمپ نے اسرائیل سے وعدہ کیا ہے کہ اسلامی ممالک سے ابراہام معاہدہ پر دستخط لیے جائیں گے،
اسرائیل کو پتہ ہے کہ امریکہ کا سپر پاور کا سٹیٹس ختم ہوا چاہتا ہے اور دوسری طرف مستقبل قریب میں ایران، چین، شمالی کوریا اور روس کا اتحاد دُنیا کے فیصلے کرے گا، اسلئے نیتن یاہو نے ٹرمپ سے درخواست کی کہ جاتے جاتے ہمیں تو تسلیم کروا دو ورنہ ایران ہمیں مستقبل میں بہت پھینٹا لگاۓ گا، یہ ٹرمپ کا آخری ٹاسک ہے اور شاید اسکے بعد ٹرمپ کچرے میں ملے گا
اب سوال یہ ہے کہ کونسا ملک اسرائیل کو تسلیم کرے گا، ابراہام اکارڈ پر دستخط کر چکا ہے یا کرنے والا ہے؟ اور کونسا ملک ہے جو ابراہام اکارڈ پر دستخط نہیں کرے گا؟ ایک ملک کی گارنٹی میں دیتا ہوں، وہ ایران ہے، دوسرا یمن اورتیسرا شاید اومان ہے، آپ اس لسٹ میں اضافہ کر سکتے ہیں، مجھے کوئ اعتراض نہیں
ابراہام اکارڈ کن شرائط کے ساتھ ہونا چاہیے؟
✅لبنان اور غزہ میں جنگ بندی
✅فلسطین کی ایک آزاد ریاست کا قیام
✅امریکہ اور اسرائیل کے خرچے پر غزہ کی ری کنسٹرکشن
✅اسرائیل سے ایک لاکھ فلسطینی اور لبنانی قتل کرنے کا خون بہا اور غزہ تباہ کرنے کا ہرجانہ، یاد رہے اسرائیل نے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے ایما پر جرمنی کے یہودیوں کو قتل کرنے یعنی ہولو کاسٹ پر 1952 میں لگسمبرگ میں جرمنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کی رو سے جرمنی نے اسرائیل کو قتل و غارت کی تلافی کے طور پر معاوضہ ادا کرنا شروع کیا جو آجتک جاری ہے، اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر جرمنی اسرائیل کو ادا کر چکا ہے، ایسا معاہدہ ابراہام اکارڈ میں بھی شامل ہونا چاہیے، اسرائیل کو عزہ کو آباد کرنے کیلئے کم از کم 50 ارب ڈالر اگلے دس سال تک دینے چاہئے تاکہ نقصان کی کچھ تلافی ہو سکے،
✅ اسرائیل کسی اسلامی ملک پر حملہ نہیں کرے گا اور اگر ایسا کرے گا تو تمام اسلامی ممالک ملکر اسرائیل پر جوابی حملہ کریں گے، امریکہ اسکی گارنٹی دے گا
☝️ان شرائط کو ابراہام اکارڈ میں شامل کریں،
ہماری وزارت خارجہ اور حکومت میں یقیناً ایسے ذہین لوگ موجود ہونگے جو میری سفارشات پر پہلے سے ہی غور کر رہے ہونگے اور اگر ابھی تک نہیں کیا تو اب ان سفارشات کو دُنیا کے سامنے پیش کریں اور اسلامی ممالک کو اس پر عملدرآمد کیلئے اکھٹا کریں
ان سفارشات کے بغیر ابراہام معاہدے پر دستخط اسلام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے برابر ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی با ضمیر لیڈرشپ کبھی ایسا گناہ نہیں کرے گی
مجھے یقین ہے کہ یہ مطالبہ پورے عالم اسلام کا ہوگا، اسلئے ان سفارشات کو پورے عالم اسلام میں پھیلائیں
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
ایک ہزار دن گزر گئے باقی 2653دن رہ گئے۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کو دس سال قیدِ بامشقت کی جو سزا سنائی گئی ہے وہ مجموعی طور پر 3653 دن بنتی ہے، جو 13 اگست 2033 تک یا موجودہ مقتدرہ کی مدتِ اقتدار کے خاتمے تک، جو بھی تاریخ بھی پہلے آئے، پوری ہوگی۔ آج حسان کی قید کے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اگر ان ایک ہزار دنوں کو کل مدت سے منہا کیا جائے تو باقی 2653 دن کی قید ابھی باقی ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر اور عمر کے اس حصے میں اگر میں زندہ رہا اور حسان اپنی قید مکمل کرتا رہا تو اس وقت تک میں عمر کے اس مرحلے تک پہنچ چکا ہوں گا جہاں وقت اپنی معنویت بدل چکا ہوگا اور یہ پورا سفر میرے لئیے میری آزمائش نہیں بلکہ آئین یا قانون یا عدالتی نظام بلکہ مملکت کی ایک طویل آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہوگا۔
ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد آ رہا ہے۔ جنگ کے بہانے آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہو رہی ہیں۔ غلامی کا پھندا عوام کے گلے میں ڈال دیا گیا ہے۔ پیٹرول بھی 'قسطوں' کی ادائیگی کے لیے مہنگا ہو رہا ہے جو سفید پوش طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ اس سب کے دوران آرمی چیف عاصم منیر کی ترجیح اس کا نیا گلف اسٹریم جہاز رہا۔ قوم نے اپنے خون سے اس کی قیمت ادا کی۔
حکومت دن رات کفایت شعاری کے درس دے رہی ہے، جبکہ مریم نواز کی ترجیح بھی اُن کا جہاز رہا۔ یہ معیشت کا نمونہ تہہ ہوا ہے!
آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے false flag operation کو تین سال ہو چکے ہیں۔ روزِ اول سے کہہ رہا ہوں کہ یہ حملہ، فوج بشمول عاصم منیر، کی تحریکِ انصاف کے خلاف ایک سازش تھی۔ تین سال گزر جانے کے باوجود ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے خود CCTV فوٹیجز غائب کیں۔
اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود آج بھی تحریکِ انصاف کا ورکر اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے، جبکہ اس کا لیڈر بہادری سے آج بھی جیل کاٹ رہا ہے۔ اس پر عمران خان اور تحریکِ انصاف خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔