قصاب والی سوات کے محل خرید رہے ہیں اور ترکھان نوابوں کی جائیدادیں، سرکاری نوکریاں بازار میں بک رہی ہیں، یہ ہے تبدیلی، سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا ، امیرحیدرخان ہوتی
گئے وقتوں میں ہزاروں لوگ فلمی دنیا کی چکاچوند سے متاثر ہو کے گھر چھوڑ کے لالی وڈ، بالی وڈ، ہالی وڈ کی گلیوں میں پڑے رہتے تھے۔ آجکل سوشل میڈیا پر پڑے ہوتے ہیں۔
ترقی کے بہت سے رستے ہیں، محنت سب میں ہے۔ تعلیم آپکو اپنا معیار زندگی بلند کرنے کا سب سے کم رسک والا ذریعہ ہے
“You should not be afraid of someone who has a library and reads many books; you should fear someone who has only one book; and he considers it sacred, but he has never read it”
— Friedrich Nietzsche
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
ریاست اب محض جغرافیہ یا انتظامی ڈھانچے کا نام نہیں رہی۔ اس کے گرد ایک مبہم مگر نام نہاد مقدس نظریے کا ایسا حصار کھڑا کر دیا گیا ہے، جس کے اندر سوال جرم اور اختلاف غداری قرار پا چکا ہے۔ اس حصار کی بنیاد کسی عوامی معاہدے پر نہیں، بلکہ طاقت کے تقدس پر رکھی گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہری اب ریاست کے فریق نہیں، بلکہ اس کے زیرِ دست قیدی بن چکے ہیں۔
نظامِ عدل کا حال یہ ہے کہ انصاف اب عدالت میں نہیں، فائلوں میں دفن ہے۔ مجرم اور مظلوم کی تمیز کے بجائے آئینی موشگافیوں اور قانونی اصطلاحات کی جگالی جاری ہے۔ اختلاف رائے رکھنے والا شہری فوراً ریاست مخالف قرار دے دیا جاتا ہے، گویا ریاست اب شہریوں کی نہیں، بلکہ ایک خاص بیانیے کی
ملکیت بن چکی ہے۔
اس پورے منظرنامے کا سب سے المناک اور شرمناک پہلو وہ "مجرمانہ خاموشی" ہے جو سیاست دانوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ایک بڑے حصے نے اختیار کر رکھی ہے۔ یہ خاموشی اب "منتخب ایکٹویزم" کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو صرف وہاں ٹوٹتی ہے جہاں ذاتی مفاد پر ضرب نہ پڑے۔ یاد رہے کہ جبر کے دور میں ایسی مصلحت پسندانہ خاموشی "غیر جانبداری" نہیں کہلاتی، بلکہ اسے ظلم کے ساتھ براہِ راست "شراکتِ جرم" تصور کیا جاتا ہے۔
احسان الله خان