عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ ایسے میں حکومت پر لازم ہے کہ اس کا فائدہ فوری طور پر عوام تک پہنچائے اور پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کرے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا پٹرول 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا مطالبہ موجودہ حالات میں بالکل جائز ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ہر معاشی بحران، آئی ایم ایف کی ہر شرط اور ہر قیمت کا بوجھ عوام نے اٹھایا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقی ریلیف دیا جائے۔
صرف پٹرول کی قیمت کم کرنا کافی نہیں، بلکہ پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا، حکومت اس کے اثرات کم کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کرے۔ عوام مزید وعدے نہیں، عملی ریلیف چاہتے ہیں۔
Hafiz Naeem
#پیٹرول225روپےلیٹرکرو
لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی ہلاکت صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے حکومتی نظام کی سنگین ناکامی ہے۔ ایسے سانحات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ اس ملک میں عام شہری کی جان، سلامتی اور تحفظ کبھی بھی حکمرانوں کی اولین ترجیح نہیں رہے۔جب تعمیراتی قوانین پر عمل نہ ہو، ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کریں اور نگرانی کا نظام صرف کاغذوں تک محدود ہو جائے تو انسانوں کی زندگیاں ایسے ہی زمین بوس ہوتی ہیں۔ہر حادثے کے بعد مقدمات، انکوائریاں اور وعدے تو کیے جاتے ہیں، مگر نظام جوں کا توں رہتا ہے۔ جب تک قانون کی یکساں عملداری، مؤثر نگرانی اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم نہیں ہوگا، ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ایک مہذب ریاست کی پہچان بلند عمارتیں، کشادہ سڑکیں اور خوبصورت بازار نہیں، بلکہ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔
#Lahore
آنے والا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایک بار پھر اس بات کا خدشہ ہے کہ مالیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے سارا بوجھ تنخواہ دار اور متوسط طبقے پر ڈال دیا جائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ نئے ٹیکسوں اور قیمتوں میں اضافے کے بجائے عوام کو حقیقی ریلیف دے، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائے، ضروری اشیائے خورونوش کو سستا کرے اور روزگار کے مواقع پیدا کرے۔
بجٹ کا اصل معیار یہ نہیں کہ عالمی ادارے اس سے کتنے خوش ہیں، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں کتنی آسانی آتی ہے۔
#Budget #Pakistan
موسمیاتی تبدیلیاں موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔
ہیٹ ویوز، غیر موسمی بارشیں، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور اچانک آنے والے سیلاب شمالی علاقوں سے لے کر شہروں تک زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ہر سال تباہی کے بعد وقتی اقدامات تو کیے جاتے ہیں، مگر طویل المدتی تیاری اور منصوبہ بندی اب بھی نظر نہیں آتی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ابتدائی وارننگ سسٹم، محفوظ انفراسٹرکچر اور شجرکاری پر توجہ دے۔
اس کےساتھ انفرادی سطح پر بھی ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ پانی، توانائی اور وسائل کے محتاط استعمال، درخت لگانے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے کے بغیر اس بحران کا مقابلہ ممکن نہیں۔
#ClimateChange #Flood #HeatWave
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
الطاف حسن قریشی صاحب کے انتقال کی خبر دلی رنج کا باعث بنی۔ وہ پاکستان میں صحافت، فکر اور نظریاتی تحریر کی ایک معتبر آواز تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نظریۂ پاکستان، اسلامی فکر اور قومی شعور کو قلم کے ذریعے زندہ رکھنے میں صرف کی۔
اردو ڈائجسٹ کے ذریعے انہوں نے نسلوں کی فکری تربیت کی اور نوجوانوں کو پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اور تاریخ سے جوڑے رکھا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ و وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
ِ
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں مزدور طبقہ سب سے زیادہ محرومی، کم اجرت اور عدم تحفظ کا شکار ہے جو اس معیشت کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔
جب مزدور کو اس کی محنت کا انصاف نہ ملے، جب وہ بنیادی سہولتوں سے محروم رہے، تو ترقی کے دعوے کھوکھلے لگتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور کو عزت، مناسب اجرت اور تحفظ فراہم کیا جائے—یہ احسان نہیں، اس کا حق ہے۔
ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد خوشحال مزدور ہے۔
#labourDay
پاکستان میں بجلی کا مسئلہ پیداوار کا نہیں، بدانتظامی کا ہے۔
45,000 میگاواٹ صلاحیت کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے جب عوام عرصہ درازسے آئی پی پیز کے capacity charges کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیںتو پھر بجلی کیوں نہیں مل رہی؟ فائدے سارے آئی پی پیز مالکان کے لیے اور اذیت عوام کے لیے !!
جب بجلی ہو اور پھر بھی نہ دی جائے، تو یہ بحران نہیں، پالیسی کی ناکامی ہے۔
#PowerShrotage #Bijli #AwaisLeghari
پاکستان کی جانب سے ایران و امریکہ جنگ کو مؤخر کرنے کی سفارتی کوشش خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے تصادم کو روکنا ہی دانشمندی ہےکیونکہ اس جنگ کا نقصان پورے خطے اور عالمی معیشت کو اٹھانا پڑے گا۔
امید ہے یہ مہلت مستقل امن کی راہ ہموار کرے گی۔ انشاءاللہ
#PakistanZindabad #Ceasefire #IranWar #USA
حکومت نے تین ہفتوں میں پیٹرول پر تقریباً 130 ارب روپے کا ریلیف دیا،
جبکہ دوسری طرف عوام سے ہر سال 1000 ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
سالہا سال سے وصول کیے گئے کھربوں روپے کے باوجود
اس مشکل وقت میں حکومت 500 ارب روپے بھی عوام کو ریلیف دینے پر خرچ نہ کر سکی!
#We_Reject_FuelPrices
پیٹرول کی قیمتوں میں متوقع اضافہ پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ اگرچہ حکومت دو اور تین پہیہ گاڑیوں کے لیے کسی حد تک ریلیف پر غور کر رہی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس جو چھوٹی گاڑیاں استعمال کرتی ہے، وہ بھی شدید متاثر ہو رہی ہے اور اس کے لیے بھی واضح ریلیف پالیسی ہونی چاہیے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی کی ٹینکی بھرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا اثر مہنگائی کی صورت میں ہر گھر تک پہنچتا ہے۔ ایسے میں حکومت کو فوری طور پر ایک جامع ریلیف پیکج پر کام کرنا ہوگا۔
ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پٹرول کے استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس بحران کا مقابلہ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں بلکہ حکومت، نجی شعبے اور عوام سب کو مل کر کرنا ہوگا۔ حکومت ریلیف دے، نجی شعبہ ورک فراہم کو ترجیح دے اور عوام کفایت شعاری اپنائے تو اس بحران کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
#Petrol #IranWar
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ’کفایت شعاری‘ کے اقدامات عوامی مشکلات کا حقیقی حل نہیں لگتے۔ چند سرکاری گاڑیاں کم چلانا، وقتی طور پر تنخواہیں یا الاؤنس روک دینا اور سرکاری خریداری پر عارضی پابندیاں مہنگائی کے اس طوفان کو نہیں روک سکتیں جس کا سامنا آج عام شہری کر رہا ہے۔جب ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو چکا ہو اور اس کا اثر ٹرانسپورٹ، خوراک اور یوٹیلیٹی بلوں تک پہنچ چکا ہو تو عوام کو علامتی اقدامات نہیں بلکہ حقیقی ریلیف درکار ہوتا ہے۔ اصل کفایت شعاری تب ہوگی جب حکمران طبقہ اپنے اخراجات اور طرزِ زندگی کو بھی اسی کے مطابق ڈھالے جس کا سامنا آج عام پاکستانی کر رہا ہے۔
ایران–امریکہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا ضرور ہوا ہے، مگر پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ۵۵ روپے فی لیٹر اضافہ عوام پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ حکومت پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر تقریباً ۱۰۰ روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
ایسے حالات میں ریلیف دینے کے بجائے مزید اضافہ متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرے۔
#PetrolDieselPrice
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت خطے کو ایک نئے اور خطرناک تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے۔ طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی یہ روش نہ صرف بین الاقوامی قانون کی نفی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔
ماضی گواہ ہے کہ مذاکرات اور امن کی بات اکثر دباؤ اور دھوکے کی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کی گئی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان، عراق، لیبیا اور شام جیسے ممالک کو عدم استحکام کی آگ میں جھونکا گیا، اور نتیجہ صرف تباہی، خانہ جنگی اور انسانی بحران کی صورت میں نکلا۔ اب ایک بار پھر وہی خطرناک کھیل دہرایا جا رہا ہے۔
امریکی قیادت کی جانب سے عالمی قوانین کو اپنی مرضی سے نافذ کرنے کا رویہ عالمی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو اصولی، خودمختار اور متوازن خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی۔ کسی بھی بڑی طاقت پر اندھا اعتماد دانشمندی نہیں۔
عالمِ اسلام کو باہمی اتحاد، سفارتی بصیرت اور داخلی استحکام کی ضرورت ہے ورنہ آگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی۔
کراچی میں جماعتِ اسلامی کے پُرامن احتجاج پر لاٹھی چارج اور شیلنگ افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اختلافِ رائے کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی بھی جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا۔ اگر عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑک پر نکلیں اور جواب میں انہیں آنسو گیس اور ڈنڈے ملیں تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ اختیار کا ناجائز استعمال ہے۔
پیپلز پارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی برداشت ہی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ طاقت کے بل پر آوازیں دبانے کی روش نہ مسائل حل کرتی ہے اور نہ ساکھ بچاتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
#جینے_دو_کراچی_دھرنا #Karachi #PPP #JamaateIslami
بنگلہ دیش میں کل ہونے والے انتخابات جنوبی ایشیا کے سیاسی مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ ہم بنگلہ دیش کے عوام کے حقِ رائے دہی کا احترام کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ انتخابی عمل شفاف، پُرامن اور عوامی امنگوں کے مطابق مکمل ہو۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، شفافیت اور سیاسی آزادی کے تحفظ کا نام ہے۔ بنگلہ دیش کی ترقی اور استحکام پورے خطے کے لیے اہم ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہاں کا سیاسی عمل تقسیم اور کشیدگی کے بجائے قومی مفاہمت اور عوامی فلاح کی طرف بڑھے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ انتخابی مرحلہ بنگلہ دیش میں استحکام، معاشی بہتری اور عوامی حقوق کے تحفظ کا سبب بنے گا۔
اللہ تعالیٰ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کو اس انتخابی مرحلے میں کامیابی عطا فرمائے، انہیں عوام کا اعتماد نصیب کرے اور ملک میں عدل، دیانت اور خیر کے نظام کے قیام کا ذریعہ بنائے۔ آمین
#Bangladesh #Election
حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 4.65 روپے اور ڈیزل پر 80 پیسے لیوی کا اضافہ براہِ راست متوسط اور غریب طبقے کی جیب پر حملہ ہے۔جس کا اثر رکشہ، موٹر سائیکل، چھوٹی ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور بالآخر روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت یہ بوجھ عوام پر اس لیے ڈال رہی ہے کہ گیس کے سرکولر ڈیٹ کو پورا کیا جائے۔یہ معاشی بدانتظامی کی سزا عوام سے لینا ہے۔
مہنگائی کے اس طوفان میں مزید ٹیکس اور لیویز غریب آدمی کی زندگی کو اور بھی اجیرن بنا دے گی۔
حکومت کو اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے اخراجات اور کرپشن پر ہاتھ ڈالنا چاہیے۔
#Petrol