Please understand that the youth of this country has matured and can turn the tables like today. They had no bat no ball no wicket no field yet they silently stamped the stadium with their vote . Message is loud and clear old politics is over #Elecciones2024
اسٹیبلشمنٹ کے کراس لگا دینے سے کسی کی بھی سیاست ختم نہیں ہوتی۔ ہر تھوڑے عرصے بعد پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ تھوک کر چاٹتی رہی ہے۔ عوامی فیصلے کے سامنے ان کی کوئی اوقات نہیں۔
“ دودھ فروش “
اللّٰہ نے دودھ فروش کو نوازا ۔۔۔۔تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔۔۔۔ !
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ڈائریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے ��لاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ڈائریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔
اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ڈائریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل مین گو اینڈ فیس دی میوزک۔
خیر میں ڈائریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جاؤں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بناؤں گا کہ کیوں نکالا گیا۔
وہاں پہنچا تو ڈائریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ڈائریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟
آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟
جی سر میں نے لکھا تھا۔
تشریف رکھیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔۔۔۔اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔
کافی دیر یونہی گزر گئی۔
ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔ پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آ پ کی معلومات ناقص تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اورمعاملہ بھی تھا۔ میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ ��ہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔ میں دودھ بیچ کر کالج پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جاؤں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاؤں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔
ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واقعی ،اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔ بار بار دہراتے رہے: اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔
پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھاکہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں۔اسماعیل نے کہا سر ڈائریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیش جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لاؤ، فیسوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی، دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔
ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رووف صاحب نے پوچھا، ہاں کیا ہوا؟ میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔ رووف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانس��ر کیسا ہونا چاہیے؟ تو میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہونا چاہیے۔. آپ ملک کے اعلی ترین عہدے پر فائز رہے جب انتقال ھو ایک کرایہ کے مکان میں رھتے تھے اللہ تعالیٰ انکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ❤️💐
منقول
ان فوجیوں کو مرحومہ عصمہ جہانگیر ڈفر کہا کرتی تھی لیکن ہم نے فوج کی محبت میں اُسے ہمیشہ بُرا سمجھا، غدار اور ہندوستان کا یار سمجھا، لیکن جیسے ہی کل والی پریس کانفرنس سنی، عقل دنگ رہ گئی کہ کیسے ایک اعلیٰ فوجی افسر ایک سانس میں کہہ رہا تھا
" ردّعمل نہ دے کر ہم نے سازش کو ناکام بنایا"
اور دوسری ہی سانس میں کہہ رہا تھا
'ردعمل نہ دینے پر ہم نے فوجی افسروں کو بر طرف کیا"
مطلب عاصمہ جہانگیر ان کے بارے ٹھیک ہی کہتی تھی؟
#ISPR
#DGISPR
#PakistanUnderStateFascism
DGISPR Sahib,
How could PTI plan the vandalism, when they didn't even know that Imran Khan will be arrested on 9th May. The only ones who knew that Imran Khan will be arrested is the Stablishment. Where did all the security forces suddenly disappear? Your script is poor. Jee Sir
آئ ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا خلاصہ :
١ - جو ہم کیہ رہے ہیں وہ حقائق ہیں . جو ایک سیاسی جماعت کیہ رہی ہے وہ من گھڑت باتیں ہیں
٢ - ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں لیکن ہم دکھائیں گے نہیں
٣ - جن فوجی افسران کو سزائیں دی گئیں وہ غیر ارادی طور پر کو��اہی کے مرتکب ہوۓ لیکن سیاسی جماعت نے باقاعدہ سازش کی
٤- جو پی ٹی آئ چھوڑ رہیں ہیں انکے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی . اس سوال کا جواب ہم گول مول کر رہے ہیں .
٥- اس پریس کانفرنس میں جہاں جہاں حاضر سروس فوجیوں کا ذکر آیا وہاں غیر ارادی کا لفظ استعمال ہوا . اور بار بار ہوا . لہذا جو ہم کرتے وہ ہمیشہ غیر ارادی ہوتا ہے لیکن آپ جو کرتے ہیں وہ سازش ہوتی ہے .
٦ - جو ہم کرتے ہیں اور کریں گے وہ عوام کی خواہش ہے اور جو آپ کرتے ہیں اس میں ��یرونی ایجنسیاں ملوث ہیں .
ایک جملے میں خلاصہ :
" جس کی لاٹھی اس کی بھینس " پہلے بھی , اب بھی اور آئندہ بھی .
"پاکستان زندہ باد" بلکہ "پاکستان زندان آباد"
#عمران_خان_تو_آئے_گا
#DGISPR
The match isn't fixed for the first time ever. In 1970, Bhutto had fixed it.
That's why the path to victory isn't clear. It's not clear to us, and it's not clear to Imran Khan. There's no single individual who can decide the outcome. No, not even the chief.
That's why we've been feeling so depressed lately, verging on losing hope.
Here's the way out:
Look at lawyers like Adv. @MSalmanShahid2 fighting (and succeeding) in freeing our workers, especially women. Look at the judges still handing out bails to Imran Khan, despite tremendous threats and pressure. Look at politicians and PTI supporters languishing in jails. Look at @ShehryarAfridi1 braving a TB infested 8x6 death cell on a bogus FIR.
Look at Sanam Javed still roaring like a tiger. The cancer survivor @Dr_YasminRashid unbowed.
If we take courage from their struggle and (so far limited) success, if we recognize that our goal right now is to fight everyday, even though we cannot see nor sense victory, if we recognize that we stand for truth and justice and that is enough to keep fighting, if we do all that, we will be able to fight off this depression. We will be able to hope, like Imran Khan does, and like he's taught us. We might be able to win.
Sorry. That's all we have to go by for now, but I believe it is enough. Imran Khan believes it is enough.
Here's something fun to consider:
As a kid I dreamt I was there in '92. That the team is in trouble like only Pakistan can be, and IK calls me over. To bowl the crucial over to Lamb, to bat out Pringle's final over. I regretted not having that, forget me, @shoaib100mph to this day regrets not getting IK as captain. But consider this: I, and you, got IK as our captain in the greatest match of his life. Of His Remarkable, World's-Top-Three-All-Rounder, Top-Three-Captain, Shaukat-Khanum-x3-Creator, Namal-Oxford-Style-Education-City-Envisioner, Ehsaas-Panahgah-Dam-CovidEconomySaver, LIFE.
He's a hero, and they say that age is over. I'm in his team, you're in his team. Are we lucky, or are we lucky?
The challenge is great, the glory greater. Asteenain charhayain, let's fight.
#خان_کی_طاقت_عوام
#ImranKhan
#قومی_لیڈر_صرف_خان
“نیشنل پریس کلب” کا اس سے بہترین استعمال آج تک نہیں ہوا جیسا جمشید دستی نے کیا ہے
۔۔
“جس نے یہ نہیں سُنا اس نے کچھ نہیں سُنا” ۔۔
https://t.co/ewFJF4jgPB
Forced resignations have no value.. It is just an attempt to build a perception in front of the nation-
"عمران خان کو اس کے پارٹی والوں نے چھوڑ دیا تو یہ قوم کیوں اس کے ساتھ کھڑی ہو"
This won't work. Only Imran Khan matters.. And the nation will still continue to support him!