خان کو uninterrupted پندرہ سال حکومت کرنے دیا جاۓ
اس ملک میں کوئی شخص اگر جمہوریت کا نام لے اسے فائرنگ سکواڈ، گولیاں مار کر ہلاک کر دینا چاہیۓ اور بلٹس کا خرچہ بھی مقتول کے گھر والوں سے لیا جائے: حسن نثار خان دور مین
امریکہ میں انڈین سے بڑی نفرت موجود ہے یورپ میں بھی اب ان کے بارے کافی زیادہ سٹیریو ٹائپ موجود ہیں اگر آپ کے پاس وقت تو یہ پروگرام لازمی دیکھیں بہت اچھی ریسرچ اور بتایا گیا کہ انڈین بارے اتنی نفرت کیوں ہے
آپ کو پھر بیرون ملک بڑے یوتھیا اکاؤنٹ کی پاکستان کے خلاف شدید نفرت والی کمپین کے سپانسر اور فائنانسر بھی پتہ لگ جائیں گے
https://t.co/D21WkNXtaO via @YouTube
تیسرا احتمال: یہ تحقیق میں ایک اہم اور نیا منظرنامہ ہے۔
جب امام حسین کوفہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے تاکہ یزید کے ساتھ صلح کا ہاتھ بڑھائیں (جیسا کہ ابو مخنف کی روایت میں بھی آیا ہے)، تو حروریہ (خوارج) کو اس بات کا خوف لاحق ہوا کہ کہیں حسین اور ان کے شیعہ یزید کی فوجی طاقت اور (1/6)
پشاور کمسن مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنے والا ملزم افغانی گرفتار ،مقامی لوگوں نے بچیوں کو قبروں سے نکالنے والے ملزم کو پکڑ لیا، یہاں ایک ماہ سے قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری تھا💔
کیونکہ اس صوبے کا بغیرت وزیراعلی پچھلے دو ماہ سے نک دا کوکا پر ناچ رہا ہے
باپ کی قبر ابھی مٹی سے ڈھکی بھی نہ تھی کہ ایک بیٹا آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ آگےبڑھاکانپتے ہاتھوں سے سیلوٹ کیااورپھر قبر کودیکھتارہ گیا۔
اس قبر پرصرف ایک شہید نہیں سو رہابلکہ ایک خاندان کافخرایک بیٹےکاخواب اور قوم کابہادرسپوت آسودۂ خاک ہےجو ساری قوم کو قرض دار کر گیاہے۔💔
@JassieAfriday وہ اس لیے کے پی کے اکثریت انتہاہ پسند اور پاکستانی کم یا نہیں پہاڑوں پر رھنے والے اجڈ افغان سمجھتے ہیں اور ان دھشت گردوں کو جو ہماری ہی طرح کی لک زبان رکھتے ہیں انکو پناہ دیتے ہیں ۔
اس لیے تو میں کہتا ہوں کہ ان کے ارادے ٹھیک نہیں، یہ دہشت گرد ہیں، یہ انتشاری اور فسادی ہیں، انہوں نے 9 مئی کیا تھا جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤسز، جناح ہاؤس، ریڈیو پاکستان پشاور اور چکدرہ میں موٹروے کے ٹول پلازہ کو جلایا، چرچل کی تاریخی توپیں تک دریا برد کر دیں۔اگر ان عناصر کو ان شرپسندوں کو دفاعی و قومی تنصیبات پر حملوں اور تباہی کی بروقت اور سخت سزا ملتی، تو آج یہ دارالحکومت پر چڑھائی اور اسے سومنات بنانے کی دھمکیاں دینے کی جرات نہ کرتے۔خیبر پختونخوا میں بدامنی اور اس فتنے کا اب ایک ہی حل ہے: گورنر راج
اول گل پہ سہ دے، او سیدا گل پہ سہ دے
یعنی اصل بات تو یہ ہے اور سیدھی سی بات یہ ہے کہ ہم اپنے بانی کی صحت اور سیاست پر لگے ہوئے ہیں، اور آپ کو یہاں دہشت گردی کی پڑی ہے
یہ الفاظ کسی عام یا غیر متعلقہ شخص کے نہیں، بلکہ بدقسمتی سے بارود اور لاشوں کے ڈھیر پر بیٹھے صوبے خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے ہیں۔ لاپرواہ اور لاابالی شخص کا یہ جواب خون میں لت پت عوام کے صدمات پر ایک بدنما مجرمانہ بے حسی اور شہدا کے خون کے ساتھ ننگا مذاق ہے۔
جس مسند پر بیٹھ کر حاکمِ اعلیٰ پر اپنی رعایا کے ایک ایک قطرۂ خون کی حفاظت کا شرعی، اخلاقی اور آئینی فریضہ عائد ہوتا ہے، وہاں سے صحافی کے ایک سنجیدہ سوال پر یہ بے حسی کا مظاہرہ انتہائی شرم ناک ہے۔ اس حکمران کے نزدیک لاکھوں شہریوں کی زندگی، معصوم بچوں کی سلامتی اور صوبے کی بقا کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے؛ ان کے لیے کروڑوں انسانوں کی جانیں بے وقعت ہیں اور ایک سزا یافتہ مجرم، جس پر 190 ملین پاؤنڈ کی چوری ثابت ہو چکی ہے، اس کی ذات، اس کا سیاسی ایجنڈا اور اس کی اقتدار کی ہوس ہی سب سے مقدس بنا دی گئی ہے۔
بشر الاسد کے دور میں سنی مسلمانون کو اس طرح اپنی کتابیں اور چیزیں چھپانی پڑتی تھیں سنی کتابیں بین تھیں ان پر سزائے موت تھی یہ بھی ایک ایرانی پراکسی تھی
@asmashirazi بیغیرت کٹھمل ۔۔ یہ طالبان بھی اپنے آپ کو اور آپکے ملاں انکو مذھبی ہی کہتے تھے شریعت کا نفاذ چاہتے تھے لیکن کونسی عبادت گاہ ہے جو انہوں نے خون سے رنگین نہیں کی۔ سٹاپ نان سینس ۔
مانتا ہوں کہ بدکاری کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔۔۔
مگر قبر میں ٹانگیں لٹکنے والی عمر کا کچھ تقاضا ضرور ہوتا ہے۔
فون کال پر ایسا لچر پن تو گلی محلے کے پندرہ سولہ سال کے لُچے بھی نہیں کرتے۔۔۔
جو یہ بدکار اعظم ساٹھ ستر سال کی عمر میں کرتا رہا ہے۔۔۔
یہ مردود بڈھا ایک pervert ہے۔
انقلاب ایران سے اسرائیل مضبوط ہو گیا
یہ جو کہا جاتا کہ اسرائیل پر کسی عرب ملک نے کبھی حملہ نہی کیا یہ سو فیصد جھوٹ ہے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے 1979تک عرب ممالک اسرائیل سے کئی جنگیں کر چکے مصر ، اردن شام عراق لبنان نے گو اسرائیل سے براہ راست جنگیں کی ہیں جبکہ عراق، اردن، سعودی عرب، الجزائر، مراکش، کویت، لیبیا، تیونس وغیرہ نے فوجی یونٹ یا دیگر مدد بھی بھیجی ہے پھر انقلاب ایران آ گیا اور جس جس عرب ملک نے اسرائیل سے جنگ کی تھی وہاں ایرانی پراکسیز آ گئیں اس کے بعد عرب ممالک آپس میں لڑنے لگ گے یا ان کے اندر خانہ جنگی شروع ہو گئ یوں دن بدن عرب دنیا کمزور ہو گی آج بھی دیکھ لیں اسرائیل محفوظ جبکہ ایرانی پراکسی پاکستان سمیت ہر جگہ سے سعودیہ کی شامت لا رہے ہیں یہ ایران کا مڈل ایسٹ میں اسرائیل کے لئے رول ہے
میجر صاحب ، ذرا تاریخ کا سچا اور مکمل صفحہ بھی پڑھ لیں آپ پانچ ہزار سال کا راگ الاپتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ پانچ ہزار سال پہلے یہاں وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب تھی، جس کے بعد گندھارا اور کشان ادوار آئے، اشوک اعظم کے کتبے آج بھی مردان کی شہباز گڑھی کی چٹانوں پر گواہ بن کر موجود ہیں، صوابی کا ہند اور رانی گٹ اس خطے کی قدیم علمی و سیاسی تاریخ بتا رہے ہیں، اور پھر یہاں یونانیوں، ہندو شاہی حکمران راجہ جے پال اور سلطان محمود غزنوی کے لشکروں کے ادوار آئے۔
جغرافیائی اور تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پشاور سے لے کر سیالکوٹ، امرتسر اور لاہور تک کا پورا خطہ جی ٹی روڈ کے ذریعے صدیوں سے ایک ہی تجارتی اور تہذیبی دھارے میں جڑا رہا ہے۔ اگر قدیم شہروں کا مقابلہ ہی کرنا ہے تو سیالکوٹ کا شمار برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے جس کا ذکر ہندوؤں کی قدیم مذہبی کتب میں ملتا ہے اور جو یونانی بادشاہ مینانڈر کا دارالحکومت رہا ہے،امرتسر بھی پشاور سے کوئی الگ دنیا نہیں بلکہ اسی خطے کا تاریخی حصہ ہے۔
اگر آپ کے نزدیک ہجرت ہی کوئی طعنہ ہے تو پھر تاریخ کی نظر میں آپ خود بھی مستثنیٰ نہیں رہتے۔ آپ کا اپنا خٹک قبیلہ سولہویں صدی عیسوی میں ملک اکوڑہ خان کی قیادت میں افغانستان اور سلیمان کے پہاڑوں سے نقل مکانی کر کے ٹیری، شکر درہ اور نوشہرہ آیا تھا اور مغلوں سے جاگیریں حاصل کی تھیں، جبکہ دوسری طرف شریف خاندان کشمیر سے امرتسر اور پھر لاہور منتقل ہوا تھا۔
آپ فوج جیسے منظم اور قومی ادارے میں رہے، ملک کے کونے کونے میں ڈیوٹی کی، لیکن افسوس کہ اتنی ملازمت کے بعد بھی آپ کی سوچ تعصب، لسانیت اور تنگ نظری سے باہر نہ نکل سکی۔ اتنے بڑے ادارے کا حصہ رہنے کے باوجود ایسی کھوکھلی اور تعصبی باتیں کرنا صرف اپنی سیاسی ناکامی اور نالائقی پر پردہ ڈالنے کی ایک سستی کوشش ہے۔
اصل سچائی یہ ہے کہ کرک کے عوام کو اربوں روپے کی تیل و گیس کی رائلٹی ملتی ہے، صوبائی اسمبلی میں آپ کو سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز ملے، لیکن اس سب کے باوجود آپ اپنے حلقے کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی، ایک پختہ سڑک اور صحت کی بنیادی سہولیات تک نہ دے سکے۔ جب اپنی کارکردگی بالکل صفر ہو اور عوام کو دینے کے لیے کچھ نہ بچے، تو بندہ پھر طعنوں، لسانی تعصب اور فرضی تاریخی دعووں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلمان ہو گیا
اطہر من اللہ صاحب بتا رہے ہیں کہ جی ایچ کیو نے شکایت کے ازالے کیلئے جب پہلی دفعہ قانونی راستہ اختیار کیا (ایمان مزاری نے جنرل باجوہ بارے غلط زبان استعمال کی اور جی ایچ کیو نے ایف آئی آر کرا دی) تو انہوں نے بحیثیت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ غیر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے جی ایچ کیو کا قانونی راستہ روک دیا (ایمان کی ایک ہزار مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لیا جس کا موصوف کے پاس اختیار نہیں تھا)، دوسرے الفاظ میں جی ایچ کیو کو یہ سبق پڑھایا کہ آپ غیر قانونی ہتھکنڈوں پر واپس چلے جائیں قانون کیطرف آئینگے تو ہمیں آگے بیٹھا پائینگے
سابقہ خلقی، پرچمی، کمیونسٹ اور امریکہ نواز افغانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ علمی بحث نہیں کرتے۔ کل تک یہ ہمیں کہتے تھے کہ طالبان پاکستان کی پیداوار ہیں اور آج انہی طالبان کے حمایتی بن گئے ہیں۔ کل پتہ نہیں ان کو کس منڈی کی پیداوار کہتے تھے اور حقارت سے پنجابی کہتے تھے۔
اب ان لوگوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے دکھ درد ایک ہیں اور ہم ہمسائے ہیں۔ ہم یہاں اپنے دکھوں کی کہانی نہیں سناتے اور نہ ہی 1947 کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم 1947 سے شروع ہو جائیں کہ آپ نے پاکستان کی مخالفت کی تھی؛ اگر ہم یہ کہیں کہ آپ نے پرنس کریم کو پناہ دی، انہیں ٹریننگ کیمپس دیے اور فراری کیمپس بنائے؛ اگر ہم یہ کہیں کہ آپ نے فقیر ایپی کو پختونستان تحریک کے لیے ٹریننگ سینٹرز، مال اور اسلحہ دیا؛ اگر ہم یہ کہیں کہ آپ نے جلال آباد کے قونصل خانے اور کابل کے سفارت خانے پر حملہ کیا اور پاکستانی پرچم جلایا؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ نے 1960 میں باجوڑ پر حملہ کیا؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ سردار داؤد نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کروں گا اور توڑ کر رہوں گا اور اس نے پختون زلمی بنائی؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ نے میر بخش مری، عطا اللہ مینگل اور دیگر علیحدگی پسندوں کو وہاں پناہ دی؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ نے یہاں حیات محمد خان شیرپاؤ اور عبدالصمد خان اچکزئی کو شہید کیا اور پاکستان میں دہشت گردی کی شروعات کی۔
ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ حامد کرزئی نے ہندوستانیوں کو 26 قونصل خانے دیے ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کرزئی اور اشرف غنی نے ہندوستانی سفارت خانے کے زریعے بنائی۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ لوگوں نے منظور پشتین، علی وزیر، افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کو پہلے بھی سہارا دیا تھا اور بعد میں بھی دیا۔ ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف جو کہتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی، وہ دراصل آپ لوگوں کی بے وفائی پر کہتے ہیں۔ ہم نے سوویت یونین جیسی سپر پاور کو شکست دی، لیکن آپ ہمارے احسان نہیں مانتے۔ جب جنرل ضیاء الحق نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے افغانوں کا ساتھ دینا ہے اور افغانستان پر سوویت جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، اس وقت جمی کارٹر پاکستان کے ساتھ نہیں تھا۔ 1981 میں جب رونالڈ ریگن آئے تو انہوں نے ساتھ دیا ، ورنہ ابتدائی تین سال پاکستان خود اپنے وسائل سے یہ جنگ لڑتا رہا۔ یہ ہماری غلطی تھی کہ ہم نے ایک سپر پاور کو شکست دی اور جس کی خاطر قربانی دی، وہ مانتے ہی نہیں۔ اسی وجہ سے ہم پر پریسلر ترمیم اور کیری لوگر بل جیسے قوانین کے تحت پابندیاں لگیں، اور آج وہی ہمیں اپنی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کا درد ہمارا درد ہے، آپ کی تکلیف ہماری تکلیف ہے، اور ہماری ہمسائیگی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ ہم آپ سے کہتے ہیں کہ یار! تجارت کرو، امن کے ساتھ رہو اور دہشت گردی کا خاتمہ کرو۔ ہم آپ سے بار بار کہتے ہیں کہ 50 سال ہم نے ان حالات کا مقابلہ کیا۔ پاکستان نے آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔ آپ 1947 سے 1974 تک کا دور بتا دیں کہ ہم نے آپ کو کیا تکلیف دی ہے؟ ظاہر شاہ سے اقتدار ہم نے نہیں چھینا تھا، سردار داؤد نے اس وقت لیا تھا جب وہ اٹلی گئے ہوئے تھے، اور پھر داؤد کو بے دردی کے ساتھ ان کے 30 اہل خانہ کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ کیا ہم نے نور محمد ترکئی سے اقتدار چھینا تھا؟ کیا حفیظ اللہ امین کو ہم نے بے دردی سے مارا تھا؟ حفیظ اللہ امین کو کس طرح مارا گیا اور نور محمد ترکئی کے منہ پر تکیہ کس نے رکھا تھا؟ ببرک کارمل کو کیا پاکستان نے اقتدار سے بے دخل کیا تھا؟ اور ڈاکٹر نجیب اللہ کو پھانسی ہم نے نہیں دی تھی۔ ہم نے اشرف غنی اور حامد کرزئی کا ساتھ دیا تھا ۔ اور آپ جو کہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے بعد طاقت بنا ، تو میں آپ کو بتاؤں کہ 1965 میں جنوبی کوریا کے ماہرین یہاں آئے تھے اور انہوں نے پاکستان کا پانچواں پنج سالہ ترقیاتی منصوبہ کاپی کیا تھا۔ ہم نے مغربی جرمنی کو قرضہ دیا تھا، 60 کی دہائی میں ہم نے چین کو مالی امداد دی تھی اور پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ افغانستان کی جنگ کے بعد ہی ہمارے حالات خراب ہوئے ہیں اور پاکستان کا پورا کلچر تبدیل ہوا ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ تلخ باتیں چھوڑ کر آگے بڑھا جائے۔
افغانستان کے 'آمو ٹی وی' (Amu TV) پر بات چیت
پورے لروگرام کا لنک
https://t.co/FuuAR4Vssr
تصویر کا رخ بدل گیا اہم ویڈیو سامنے آگئی
سہیل آفریدی کی موجودگی میں اشتیاق کی فیملی کے ایک فرد نے اہم انکشاف کردیا
ویڈیو میں سنا جاسکتا ایک شخص سلمان اکرم اور سہیل آفریدی کی موجودگی میں کہہ رہا سترہ دن ہم سے کسی نے رابطہ نہیں کیا
سہیل آفریدی کی موجودگی میں ایک شخص نے خود کہا اشتیاق کی ہلاکت ایک حادثہ تھا اس میں حکومت یا پنجاب پولیس کا کوئی تعلق نہیں
سہیل آفریدی کی موجودگی میں اس شخص نے کہا سترہ دن پی ٹی آئی کے کسی رہنما نے ہم سے نہ رابطہ کیا نہ پوچھا
اس گفتگو کے بعد سہیل آفریدی کے گارڈز نے اس بات پر اس شخص پر تشدد شروع کردیا
سہیل آفریدی کے گارڈز نے ویڈیوز بنانے پر آج پھر لاہور میں صحافیوں سے بدتمیزی کی
اشتیاق کے بیٹے کا بیان بھی شئیر کر رہی ہوں یہ ایک حادثہ تھا
ان بیچاروں کو جس پارٹی نے پوچھا تک نہیں آج انکے گلے سن لیجئے
تحریک فساد کے یوٹیوبرز نے اس واقعے کو غلط رنگ دیا
سہیل آفریدی پبلک سٹنٹ کرتے ہوئے لاہور پہنچے ہیں،
پنجاب میں داخلے ہونے کے پورے راستے جگہ جگہ پنجاب پولیس کے افسران سے بدتمیزی کی
کیا کسی چیف ایگزیکٹیو کو ایسی حرکتیں زیب دیتی ہیں؟
موصوف کالا چشمہ لگا کر مرحوم اشتیاق کے گھر پوائنٹ اسکورنگ کرنے پہنچے ہیں
تین سال سے پی ٹی آئی کا کوئی رہنما مرحوم ظل شاہ کے گھر نہیں گیا
لاشوں پر سیاست بانی پی ٹی آئی اور اسکی جماعت کا پرانا وطیرہ ہے
سہیل آفریدی کے لاہور پہنچنے پر انکے کسی کارکن نے اسکا استقبال کرنا مناسب نہیں سمجھا
کوہاٹ میں آج ہی کوئلے کی کان میں 4 افراد جان بحق ہوئے ہیں
سہیل آفریدی کوہاٹ پہنچنے کی بجائے لاہور پہنچ گئے ہیں
پشاور سے 530 کلومیٹر کا سفر کرکے لاہور تعزیت کرنے پہنچے ہیں
موصوف ایک سال بعد پھر لاہور کی سیر کرنے آئے ہیں
شہزادہ ترکی الفیصل:
"پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی تعاون آج کا نہیں، بہت پرانا ہے۔ ماضی کی جنگوں میں جب پاکستان کو جنگی ہتھیاروں یا جیٹس کی ضرورت ہوتی تھی تو سعودی عرب پاکستان کی مدد کرتا تھا۔."
#باوقار_فیلڈ_مارشل#سربلند_فیلڈ_مارشل