”آئینی عدالت اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں اب ایسا آلہ ہے جس کو کسی بھی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس عسکری عدالت میں اب خلاف ضابطہ اخلاق، نیب اپیلیں بھی لائی جا رہی ہیں۔ چونکہ اس آئینی عدالت میں اسٹیبلشمنٹ نے چن چن کر اپنے ججز تعینات کیے ہیں تو اب عمران خان کے کیسز کو بھی اسی عدالت میں لایا جا رہا ہے۔ سیاستدانوں اور عدلیہ کے بعد اگر سب سے زیا��ہ کریک ڈاؤن میڈیا پر ہوا ہے، ملک میں آزاد میڈیا کا کوئی وجود باقی نہیں ہے۔“ بیرسٹر شہزاد اکبر
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ
دہشتگردی ختم کرنے کی آڑ میں اور کولیٹرل ڈیمیج کے نام پر معصوم پاکستانیوں کا بیدردی سے خون بہایا جارہا ہے۔اس واقعے کی فوری غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کسی مہذب معاشرے میں بے گناہ شہریوں پر حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
🚨بڑی بریکنگ بلکہ بری بریکنگ ۔۔۔۔۔
کیا پنجاب میں ہلاکو خان کی حکومت آ گئی ہے؟
🔴🔴🔴ڈان نیوز (Dawn News) کے مطابق پنجاب حکومت اتوار کو صوبائی اسمبلی سے ایک انتہائی متنازع اور سخت قانون پاس کروانے جا رہی ہے جسے ’پنجاب کنٹرول آف ہیبی چوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئیر بل 2026‘ (Punjab’s Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill 2026) کا نام دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن (PML-N) کے رکنِ اسمبلی خالد محمود رانجھا کی طرف سے پیش کردہ اس بل کے تحت انتظامیہ (Executive) اور ضلعی انٹیلی جنس کمیٹیوں (District Intelligence Committees) کو یہ غیر معمولی اختیارات حاصل ہو جائیں گے کہ وہ کسی بھی شہری کو محض الزامات، پولیس چالان، یا ایک سے زائد بار گرفتاری کی بنیاد پر—بغیر عدالت سے جرم ثابت ہوئے—’عادی مجرم‘ (Habitual Offender) قرار دے سکیں۔ اس قانون کے تحت مانیٹرنگ کے لیے ملزم کو کم از کم تین ماہ تک الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس (Electronic Monitoring Device) پہننے، بائیومیٹرکس اور ڈی این اے (DNA) دینے، اور باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن رپورٹ کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اس بل میں سماج دشمن رویوں (Anti-social behaviour) کی 23 مختلف کیٹیگریز شامل کی گئی ہیں جن میں منظم جرائم کے ساتھ ساتھ پ��لک میں گالی گلوچ، کسی کو تنگ کرنا، سوشل میڈیا پر غلط معلومات (Misinformation) پھیلانا اور جانوروں پر تشدد جیسے مبہم اور انتہائی وسیع پہلو بھی شامل ہیں۔ انٹیلی جنس کمیٹیوں کی سفارش پر کسی بھی شہری کے خلاف انتہائی سخت تادیبی کارروائیاں کی جا سکیں گی، جن میں بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا، جائیداد ضبط کرنا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنا، فون اور لیپ ٹاپ ضبط کرنا، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنا، پروویژنل نیشنل آئیڈنٹی فکیشن لسٹ (PNIL) میں نام ڈالنا، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چوبیس گھنٹے نگرانی (Surveillance) شامل ہیں؛ اور ان سب کے لیے کسی پیشگی عدالتی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ قانو��ی ماہرین اور مبصرین اس قانون کو 1871 کے برطانوی نوآبادیاتی دور کے ’کرمنل ٹرائبز ایکٹ‘ (Criminal Tribes Act)، 1918 کے ’ریسٹرکشن آف ہیبی چوئل آفینڈرز ایکٹ‘ (Restriction of Habitual Offenders Act)، اور ایوب خان کے 1959 کے ’کنٹرول آف گونڈاز آرڈیننس‘ (Control of Goondas Ordinance) کا ایک بدترین اور جدید ترین تسلسل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ عام فوجداری طریقہ کار اور بنیادی انسانی حقوق کو بائی پاس (Bypass) کر کے ملک کے کمزور عدالتی و پولیس نظام میں شہریوں کی آزادی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
عمران خان کی صحت ایسی نہيں ہے جیسی فیک تصویر میں دکھائی گئی ہے۔ ان کی صحت خراب ہے، حالت condition دگرگوں ہے۔ سات ماہ سے قید تنہائی میں ہیں۔ ذہنی اور جسمانی عذاب سے گزر رہے ہیں۔ خود اندازہ لگا لیں۔
خان کی یہ جعلی تصویریں آپ کو جھوٹی خوشی دینے کے لئے پھیلائی جاتی ہیں۔
آپ کو میری بات بری لگے گی۔ لگنی چاہیے۔ جذبات کا تقاضا ہے۔ کسی بھی کم سن بچی سے زیادتی اور اسکے قتل کے ملزم کو یا کسی بھی گھناونے جرم میں گرفتار شخص کو پولیس مقابلے میں پار مت کیجیے۔ اس کا عدالتوں میں ٹرائل کیجیے۔ ڈی این اے ، فنگر پرنٹس ، سیمنز اور وغیرہ وغیرہ کو قانون شہادت کا حصہ بنائیے۔ تفتیش کے نظام میں جدت لائیے۔ کرپشن، رشوت کو ختم کیجیے۔
پھر اس معاشرے کی سوچ کو بدلیے۔ یہاں تعلیم عام کیجیے۔ منشیات کا خاتمہ کیجیے۔ گندی فلموں پر سخت پابندی عائد کیجیے۔ یا علماء کی بات تسلیم کرلیجیے اور شادی و نکاح کو آسان کیجیے، یا پھر لبرل طبقات کی مان لیجیے ��ور یہاں غیر نصابی تفریحی سہولیات آنے دیجیے انہیں پھلنے پھولنے دیجیے تاکہ معاشرے کی جنسی فرسٹریشن کم ہو۔
نکاح آسان تب ہوگا جب معاشرے میں معاشی استحکام ہوگا۔ اٹھارہ بیس سال کے لڑکے کا نکاح اور کامیاب ازدواجی زندگی تبھی ممکن ہوگی جب اسکے پاس روزگار ہوگا۔ اپنا گھر ہوگا۔ معاشی تحفظ ہوگا۔ تعلیم و علاج کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ پھر کہتے ہیں یہ ہر چیز کو فوج سے نتھی کردیتا ہے۔ فوج اس ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ فوج کا بٹھایا ہویا چوروں کا ٹولہ پاکستان پر دہائیوں سے مسلط ہے۔ اسکو واپس بیرکوں میں واپس بھیجیے۔ اس ملک میں سزا و جزا کا نظام قائم کیجیے۔ کسی جرنیل کی رکھیل نہیں آزاد عدالتوں کا قیام ممکن بنائیے۔ وہ عدالتیں جن پر عوام کا اعتماد ہو۔
اور یہ کیجیے ، بنائیے ، ہوجائیے آسمان سے نہیں اترنے والا۔ ہاتھ پاؤں ہلائیے۔ ورنہ یوں دنیا کا بدترین معاشرہ بن کر رہتے چلے جائیے۔
”عسکری اسٹیبلشمنٹ پاکستان پر اپنا کنٹرول قائم کرکے عوام سے انتقام لے رہی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد انہیں دہشتگرد لگتی ہیں، اعجاز چوہدری جو شدید علیل ہیں، کیا وہ ایک دہشتگرد ہیں ؟ اگر شاہ محمود قریشی کو کیسز میں بری کیا جاتا ہے تو انہیں جیل میں کیوں رکھا گیا ہے ؟ یہ فسطائیت اسٹبلشمنٹ اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ کر رہی ہے کہ ہمارا اقتدار اور طاقت یہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ اگر پاکستانی قوم ظلم کے خلاف متحد نہ ہوئی، ت�� یہاں باری باری، سب کی باری آئے گی۔ “ عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan
بالکل پورا فلسطین ختم کروا کے، ایران کی پوری قیادت ختم کروا کے، افغانستان میں دھماکے کروا کے، انڈیا سے چار دن تک ڈرون کھا کے اور پھر چرچے اوتیرے فیل مارشل کے، اور ڈیڑھ فٹ کا جو ایک شعر صحیح نہیں پڑھ سکتا،
انہیں اسرائیل نے choose کیا ہے۔
اللہ کا نام نہ لو، یزیدی کوفی بھی ایسے ہی اللہ کا نام لیتے تھے۔
وقت آ گیا ہے کہ اب اس سوال کا جواب ہر با شعور شخص اپنے ضمیر سے مانگے۔ کیا 25 کروڑ انسانوں کی خاموشی کی سزا صرف ایک اکیلا شخص تنہا ہی سہتا رہے؟ اس کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، قید تنہائی میں بند کر رکھا ہے۔ آخر کب تک یہ ظلم وہ سہتا رہے؟ کیا 25 کروڑ انسانوں کا کوئی فرض نہیں رہا؟
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
اعتزاز احسن کے سنہری الفاظ ہیں کہ باری سبکی آئیگی
پہلے بنگالیوں کی باری آئی،
پھر بلوچستان کی باری آئی،
پھر کے پی کی باری آئی،
پھر سندھ میں MQM کی باری آئی،
پھر PTI کی باری آئی پنجاب میں،
اور اب کشمیر کی باری آگئی،
انکے منہ کو خون لگا ہوا ہے
پچھلے چار سالوں میں پاکستان کا قرضہ دوگنا ہو گیا۔ یہ ان کا اپنا اکنامک سروے کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا قرضہ 84 ہزار ارب ہو چکا ہے، جبکہ 2022 میں یہ 44 ہزار ارب تھا۔ پاکستان نے 1947 سے 2022 تک 55 ہز��ر ارب ٹیکس جمع کیا، جبکہ 2022 سے 2027 تک ٹیکس 60 ہزار ارب ہو جائے گا۔ ان چار سالوں میں پچھلے 75 سالوں سے بھی 5 ہزار ارب زیادہ ٹیکس جمع کیا گیا۔ ان 75 سالوں میں انڈسٹری لگی، ڈیمز بنے، پناہ گزینوں کی مدد ہوئی، موٹرویز بنیں۔ ان چار سالوں میں انہوں نے کیا کیا؟ الٹا انڈسٹری بند ہوئی، غربت میں اضافہ ہوا، 45 ہزار ارب قرضہ بڑھا دیا اور 60 ہزار ارب ٹیکس جمع کیا۔ ایک لاکھ پانچ ہزار ارب روپیہ بتاؤ کہاں گیا؟
ایم این اے رانا عاطف
اس سے آسان الفاظ میں “فوج بھی میری ہے” والی منطق کا تجزیہ نہیں ہوسکتا تھا. کمال کردیا @ShazadAkbar صاحب!
“عاصم منیر کی فوج، آئین توڑنے والی اور میرے حقوق پہ ڈاکہ مارنے والی فوج….یہ میری فوج نہیں ہے!
چوکیدار مجھ سے ��نخواہ لےکر چوکیداری کے علاوہ کچھ کرے گا تو میں سوال کروں گا.
چکوال میں ڈاکو سمجھ کر سی سی ڈی نے پوری فیملی گولیوں سے بھون ڈالی ایک نو سال کی بچی شہید اور باقی اہل خانہ شدید زخمی ہیں فیملی حال ہی میں آسٹریلیا سے پاکستان آئی تھی۔
طاقت کے ایوانوں کو جب عوامی احتساب کا پھندہ اپنی گردن پر تنگ ہوتا محسوس ہوتا ہے تو خبر آتی ہے کہ عمران خان کے لیے عدالتی ریلیف کا اعلان۔ کیا نااہل ٹولے کے من پسند جج ان کے جتنے ہی نااہل ہیں کہ عوام کو انہیں یہ بھی یاد دلانا پڑے کہ عدالتوں کا کام ریلیف نہیں بلکہ انصاف دینا ہے۔ کل ان کا بنی گالہ سے آیا ضرورت کا سامان واپس کر دیا گیا، چھ ماہ سے کسی نے انہیں دیکھا نہیں، بنیادی طبی سہولتیں حاصل نہیں۔
ججوں کو شرم آنی چاہیے، ہر ہفتے عدالتی احکام کی پامالی ہوتی ہے تو راتوں کو لگنے والی عدالتوں کے جج ان پر ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟ ان کے وکالت نامے 25 مئی سے جیلُ حکام کے پاس ہیں جن پر دستخط تک نہیں ہو پائے ہیں۔
عسکری ججوں کے لئیے کیا ایک ڈکٹیٹر کا حکم نامہ اللہ کی اس کتاب سے بڑھکر ہو گیا ہے جس پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا!
#ShameOnJudges
#WhereIsImranKhan
برطانیہ شیفیلڈ میں اورسیز کشمیری راولاکوٹ اور کوٹلی کے شہدا کی ویڈیوز دیکھ کر رو پڑے
جنھیں ون سٹار برگیڈیر درندے کی زاتی انا کی تسکین کے لیے شہید کیا گیا
۔
پی ٹی آئی کے لیے نیا ترانہ محمد رضوان الحق کی جانب سے
اس خوف کے بت کو توڑیں گے
ہم پوری قوم کو جوڑیں گے
زندان میں ڈالنے والے سن
ہم حق لے کر ہی چھوڑیں گے
#ReleaseImranKhan
”پاکستانیو، یاد رکھنا ! جب ایک قوم کو سمجھ آ جائے کہ غلامی کیا ہے اور آزادی کیا ہے ؟ تو اس قوم کو کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔“ کپتان عمران خان
#FreeImranKhan
""مریم کے پاپا چور ہیں" اور تاحیات نااہل بھی، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں، عوام میں جانے کے قابل نہیں رہے، لیکن چونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے بنے رہنے کے لیے "کچھ بھی" کرنے کو تیار رہتے ہیں، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کے ہاتھوں پکڑے جانے اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود بھی جیل میں نہیں ہیں۔
ان کی تو انتخابی مہم کا آغاز بھی "مجھے کیوں نکالا" سے ہوا تھا۔ ووٹ چوری کر کے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے، عوام کی قبولیت نہیں۔ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ کبھی جمہوریت نہیں کہلا سکتا، چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرن��گ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان